Friday, 30 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

22 ملکوں کی 113 بندرگاہوں پر ڈاک ورکرز کی ہڑتال: “ہم ان کی جنگوں کے لیے کام نہیں کریں گے”

جرمنی کی بریمر ہیون بندرگاہ پر کنٹینر ٹرمینل اور کرینیں

جمعے کو دنیا کی 113 بندرگاہوں پر کام رک گیا۔ یورپ سے افریقہ اور ایشیا تک 22 ملکوں کے ڈاک ورکرز نے ایک ہی دن ہڑتال کی، جس سے کئی بڑی بندرگاہوں پر جہاز رانی اور فیری سروس متاثر ہوئی۔ یہ احتجاج شہری بندرگاہوں سے جنگی علاقوں کو اسلحہ پہنچانے کے خلاف تھا — اور ان سمندری مزدوروں کی ہلاکتوں کے خلاف بھی، جو خلیج اور بحیرہ اسود میں جاری جنگوں کی زد میں آ رہے ہیں۔

یہ کارروائی ایک مربوط عالمی دن کا حصہ تھی جسے منتظمین “پورٹس فار پیس، جابز ود ڈگنٹی” کا نام دے رہے ہیں۔ ابتدا میں اس کی کال اٹلی، فرانس، یونان، اسپین کے باسک علاقے، ترکیہ اور مراکش کی بندرگاہی یونینوں نے دی تھی، اور اب 25 سے زیادہ یونینیں اس کی حمایت کر رہی ہیں۔ یہ اس سال اس مہم کا دوسرا بڑا مشترکہ دن ہے — فروری میں اسی طرح کی کارروائی 20 بندرگاہوں تک محدود تھی، جبکہ اب اس کا دائرہ 113 بندرگاہوں تک پھیل گیا ہے۔

سب سے زیادہ اثر یورپ کی بڑی بندرگاہوں پر دیکھا گیا۔ یونان کی سب سے بڑی بندرگاہ پیرایوس میں ڈاک ورکرز نے صبح تین گھنٹے کام روکا اور جزائر کو جانے والی فیریاں بندرگاہ میں ہی رکی رہیں — خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وہاں تقریباً تین ہزار ڈاک ورکرز اور سمندری مزدور واک آؤٹ میں شریک ہوئے۔ اٹلی میں نچلی سطح کی یونین یو ایس بی نے بندرگاہی شعبے میں پورے دن کی ملک گیر ہڑتال کی کال دی تھی، جس میں جینوا، لیورنو اور ٹریسٹے جیسی بندرگاہیں شامل تھیں۔ فرانس میں سی جی ٹی یونین نے لو ہاور سمیت کئی بندرگاہوں پر سرگرمیوں میں 95 فیصد کمی کی پیش گوئی کی تھی، جبکہ جرمنی کی ہیمبرگ، مراکش کی طنجہ میڈ اور بھارت کی نہاوا شیوا بندرگاہوں پر بھی کام متاثر ہوا۔

پیرایوس میں ریلی کے دوران یونانی مرچنٹ میرین انجینئرز کی یونین کے سربراہ اپوسٹولوس کیپرایوس نے رائٹرز سے کہا: “ہم ان کی جنگوں کے لیے کام نہیں کریں گے، اور ہم ان کی توپوں کا ایندھن نہیں بنیں گے۔” یہ ایک جملہ اس پورے احتجاج کا خلاصہ ہے — مزدوروں کا کہنا ہے کہ ان کی بندرگاہیں، ان کے کرین اور ان کے جہاز اب جنگ کی رسد کا حصہ بن چکے ہیں، اور وہ اس میں شریک نہیں ہونا چاہتے۔

اس غصے کے پیچھے ٹھوس اعداد ہیں۔ منتظمین کے مطابق اکتوبر کے پہلے 21 دنوں میں خلیج میں بحری جہازوں پر 28 حملے ہوئے — ایران سے جاری جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ ایک ریکارڈ ہے۔ بحیرہ اسود میں اس سال اب تک 570 حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 40 سمندری مزدور ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ بھارتی یونین ڈبلیو ٹی ڈبلیو ایف آئی کے مطابق ایران سے جاری جنگ کے نتیجے میں 15 بھارتی سمندری مزدور جان سے جا چکے ہیں۔ تنخواہوں میں اضافے، بہتر حالاتِ کار اور جنگی علاقوں سے گزرنے والے جہازوں پر ڈاکٹر کی موجودگی بھی مزدوروں کے مطالبات میں شامل ہے۔

منتظمین کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی سے 52 ہزار کنٹینر رک گئے اور 2.8 ارب ڈالر کا کارگو متاثر ہوا، اور بحیرہ روم کے 40 فیصد سے زیادہ کارگو پر اثر پڑا۔ یہ اعداد منتظمین کے اپنے ہیں — رائٹرز نے واضح کیا ہے کہ وہ ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ جینوا بندرگاہ کے ترجمان نے تو یہاں تک کہا کہ وہاں اثر محدود رہ سکتا ہے۔ اسی طرح 113 کا عدد ان بندرگاہوں کا ہے جن کی یونینیں اس مہم میں شریک ہیں — ہر جگہ مکمل بندش نہیں ہوئی، کئی مقامات پر مختصر وقفے یا مظاہرے ہوئے۔ یہ احتیاط ضروری ہے، کیونکہ اس تحریک کی اصل طاقت اس کے پھیلاؤ میں ہے، نہ کہ کسی ایک بندرگاہ کی مکمل بندش میں۔

یہ مہم اچانک نہیں اٹھی۔ مئی 2026 میں 35 سے زیادہ یورپی ملکوں کی بندرگاہی یونینوں نے استنبول اعلامیہ جاری کیا تھا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بندرگاہی ڈھانچہ جنگی علاقوں کو اسلحہ پہنچانے کے لیے استعمال نہ ہو۔ اس سے پہلے اگست 2025 میں جینوا کے مزدوروں نے سعودی جہاز بحری ینبع کے خلاف مسلسل رکاوٹ کھڑی کی تھی، جس کے بعد وہ اسلحہ لے جانے والا جہاز بغیر سامان اتارے واپس چلا گیا تھا۔ اس پس منظر میں اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا وہ اعداد بھی اہم ہے جس کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران یورپ دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا خطہ بن گیا — یعنی بندرگاہوں سے گزرنے والا اسلحہ کم نہیں ہو رہا، بڑھ رہا ہے۔

یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ اس میں جنگ کا ایک نیا محاذ کھلتا دکھائی دیتا ہے — وہ محاذ جو میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ ان بندرگاہوں پر ہے جہاں سے جنگ کا سامان گزرتا ہے۔ حکومتیں اسلحے کے لائسنس دیتی ہیں، کمپنیاں جہاز چلاتی ہیں، لیکن سامان دراصل مزدوروں کے ہاتھوں سے گزرتا ہے۔ اگر مزدور منظم ہو کر انکار کر دیں تو ریاستی فیصلوں کے نیچے ایک عملی رکاوٹ کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ہڑتال صرف ایک دن کی کارروائی سے زیادہ ہے: یہ اس سوال کا تجربہ ہے کہ آیا منظم محنت جنگ کی رسد کو روک سکتی ہے یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا یہ مہم دہرائی جاتی ہے، آیا حکومتیں اس پر ردعمل دیتی ہیں، اور آیا جہاز رانی کی قیمتوں اور رسد کے نظام پر اس کا کوئی پائیدار اثر پڑتا ہے۔

اس سے پہلے فرانس میں طلبہ کے احتجاج نے بھی حکومت کو ہنگامی اجلاس پر مجبور کیا تھا — اس خبر کی تفصیل یہاں پڑھیں۔ خلیج میں بحری جہازوں پر حملوں اور مکہ ریجن میں ڈرون کشیدگی کی تازہ صورتِ حال یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *