سعودی قیادت والے اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ جمعہ کی صبح مکہ ریجن میں حوثیوں کا ایک ڈرون روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سعودی پریس ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ڈرون مکہ ریجن میں داخل ہونے کے بعد فضائی دفاع کی زد میں آیا اور اسے تباہ کر دیا گیا۔ اتحاد کے مطابق ڈرون مکہ کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا تھا۔
المالکی کے الفاظ میں: “حوثی ملیشیا کی جانب سے داغا گیا ایک ڈرون مکہ ریجن میں روک کر تباہ کر دیا گیا۔” اتحاد نے یہ نہیں بتایا کہ ڈرون کا ہدف کیا تھا، اور اس واقعے میں کسی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع بھی سامنے نہیں آئی۔
دوسری طرف حوثیوں نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ان کی فورسز نے سعودی سرزمین کی طرف کوئی کارروائی نہیں کی، اور مکہ کو نشانہ بنانے کا الزام بے بنیاد ہے۔ سریع کا کہنا تھا کہ حوثی کارروائیوں کا ہدف سعودی تیل تنصیبات اور فوجی اڈے ہیں، مقدس شہر نہیں۔
یوں اس واقعے کے بارے میں دو بالکل مختلف بیانیے سامنے ہیں: اتحاد کا کہنا ہے کہ ڈرون حوثیوں کا تھا اور مکہ ریجن میں تباہ کیا گیا، جبکہ حوثی کہتے ہیں کہ انہوں نے سعودی علاقے کی طرف کوئی ڈرون بھیجا ہی نہیں۔ ڈرون کس نے بھیجا اور اس کا اصل ہدف کیا تھا، اس بارے میں ابھی تک کوئی آزاد تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
یہ واقعہ اکیلا نہیں۔ اس سے ایک رات پہلے، جمعرات کی شام، اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل بھی فضائی دفاع نے تباہ کر دیے۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق گرنے والے ملبے سے ریاض میں ایک شخص معمولی زخمی ہوا، جبکہ ایک گھر اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔ اسی دوران سعودی عرب کے مغربی علاقے کی طرف آنے والا ایک کروز میزائل اور مشرقی صوبے کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل بھی روکے جانے کی اطلاع دی گئی۔
مکہ اور مدینہ کے حوالے سے اس طرح کے دعوے اور تردیدیں پہلے بھی سامنے آ چکی ہیں۔ صرف چھ روز پہلے، 24 اکتوبر کو، سعودی سول ڈیفنس نے مکہ صوبے، جدہ، طائف اور ینبع کے لیے فضائی خطرے کے الرٹس جاری کیے تھے، جو کچھ دیر بعد واپس لے لیے گئے تھے۔ اس وقت اتحاد نے طائف اور ینبع کی طرف آنے والے دو میزائل تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے مکہ و جدہ میں الرٹس اور طائف و ینبع کے میزائل تباہ ہونے کی خبر یہاں پڑھیں۔ حوثی اس سے پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ مکہ یا مدینہ کو نشانہ نہیں بناتے۔
سعودی عرب پر سرحد پار حملوں کا سلسلہ جولائی میں یمن میں لڑائی دوبارہ بھڑکنے کے بعد سے تیز ہوا ہے۔ اسی مہینے کے شروع میں ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں تین سعودی شہری ہلاک ہوئے تھے، جن میں سعودی ایئرلائن کا ایک پائلٹ بھی شامل تھا۔ ریاض ایئرپورٹ حملے کی تفصیل یہاں پڑھیں۔
یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ مکہ مسلمانوں کا مقدس ترین شہر ہے، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین عمرے اور حج کے لیے آتے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔ مکہ ریجن میں کسی بھی فضائی خطرے کی خبر، چاہے ڈرون تباہ ہی کیوں نہ کر دیا جائے، پورے خطے میں تشویش پیدا کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ واقعہ بتاتا ہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے، اور دونوں فریقوں کے بیانیے میں فرق اتنا زیادہ ہے کہ سچ کی آزاد تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔
اب سب کی نظریں اس پر ہیں کہ کیا اتحاد اس ڈرون کا ملبہ یا مزید تفصیل سامنے لاتا ہے، اور کیا حوثی اپنے انکار پر قائم رہتے ہیں۔ اگر اتحاد نے ثبوت پیش کیے تو اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اور اگر معاملہ دعوے اور تردید تک ہی رہا تو یہ بھی اس جنگ کی ایک اور کڑی بن جائے گا جس میں ہر واقعے کے دو ورژن سامنے آتے ہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)