کراچی کے آرٹس کونسل میں دنیا ایک ہی چھت تلے آ گئی ہے۔ تیسرے ورلڈ کلچر فیسٹیول کراچی 2026 کے تیسرے دن، یکم نومبر کو، موسیقی کی ماسٹر کلاس سے لے کر رقص کی محفل تک، ایک ہی دن میں کئی براعظموں کی ثقافتیں اسٹیج پر آئیں۔ 25 روزہ یہ میلہ 29 اکتوبر کو شروع ہوا تھا اور 22 نومبر تک جاری رہے گا، جس میں 150 سے زائد ممالک کے ایک ہزار سے زیادہ بین الاقوامی فنکاروں کے ساتھ 500 سے زیادہ پاکستانی فنکار بھی شریک ہیں۔
دن کا آغاز ایک بین الاقوامی موسیقی ماسٹر کلاس سے ہوا، جسے الف ڈوو نے پیش کیا — یہ گروپ متحدہ عرب امارات، جنوبی کوریا اور فرانس کے فنکاروں پر مشتمل ہے۔ فنکاروں سیولکی لی اور انتونن لی فاورے نے شرکا کو وائلن، وائلا اور سیلو بجانے کی تکنیکی باریکیاں سکھائیں۔ یہ کوئی عام کلاس نہیں تھی — یہ وہ جگہ تھی جہاں ایک طالب علم براہ راست عالمی معیار کے موسیقاروں سے سیکھ رہا تھا، اور اسی میں اس میلے کی اصل قدر چھپی ہے۔
اس کے بعد پاکستانی فلم “وکھری” کی نمائش ہوئی، جس نے بڑا مجمع کھینچا۔ نمائش کے بعد ہدایت کارہ ارم پروین بلال نے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو میں حصہ لیا، جبکہ پروڈیوسر عابد مرچنٹ خود موجود تھے۔ ناظرین نے سوال و جواب کے سیشن میں بھرپور حصہ لیا۔ یوراگوئے کے تھیٹر گروپ گریٹا ٹیٹرو نے “چیچا” پیش کیا، جس میں فنکارہ بیٹینا انڈرینا کی سولو پرفارمنس تھی۔ بین الاقوامی موسیقی پروگرام “کراس فیڈ” میں جاپان، فرانس، پاکستان اور سربیا کے فنکار ایک ساتھ اسٹیج پر آئے۔ دن کا اختتام “بیٹس گیلور” نامی رقص کی محفل پر ہوا، جس میں امریکا، برطانیہ، ایکواڈور اور برازیل کے فنکاروں نے پرفارم کیا۔
تیسرے دن کی ایک اور جھلک بھی رپورٹ ہوئی ہے: ایران اور متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی خطاط فاطمہ حسین کی لائیو خطاطی ورکشاپ، “آرٹ فیلٹ: کنورسیشنز” کے عنوان سے بین الاقوامی پینل مباحثہ، اور پاکستانی فلم “زومبیڈ” کی نمائش۔ شام کو بین الاقوامی گروپ ایم ٹی او زندہ دلان نے “جرنی آف لو — لیلیٰ و مجنوں” پیش کیا، اور پھر “ساؤنڈز آف سونی دھرتی” کے کنسرٹ نے پاکستان کی متنوع موسیقی روایات کو خراج پیش کیا۔
اس میلے کا پیمانہ خود ایک خبر ہے۔ پہلے ایڈیشن میں 43 ممالک کے فنکار آئے تھے، دوسرے میں 144، اور تیسرے میں تقریباً 150 ممالک کی شرکت متوقع ہے۔ آرٹس کونسل کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے افتتاحی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ یہ میلہ ثقافت اور فن کی طاقت سے دنیا کو جوڑنے کی کوشش ہے، ایسے وقت میں جب دنیا کئی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔ پروگراموں کا 85 فیصد مفت ہے، مگر رجسٹریشن ضروری ہے۔ برطانوی پاکستانی کرائم ڈراما “اپناس” بھی 9 نومبر سے اسٹریمنگ پر آ رہا ہے، جو ڈائسپورا کی کہانی کو گھروں تک لے جائے گا — اور “وکھری” کی یہ نمائش اس فلم کے سفر کی ایک اور منزل ہے، جو برطانوی فلم سیزن کے لیے بھی منتخب ہو چکی ہے۔ کراچی کا یہ میلہ بتاتا ہے کہ پاکستانی شہر صرف خبروں کی سرخیوں کا شہر نہیں — وہ دنیا کی ثقافتوں کا میزبان بھی بن سکتا ہے، اور اس بار وہ یہ کردار 22 نومبر تک نبھائے گا۔

قارئین کے تبصرے (0)