کوانٹم کمپیوٹرز کو بڑا بنانے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ چپ کیسے بنائی جائے، بلکہ یہ ہے کہ کئی چپس کو آپس میں کیسے جوڑا جائے۔ آئی بی ایم ریسرچ کی ٹیم نے اب اس مسئلے میں ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے: اس نے چار سپر کنڈکٹنگ کیبلز کے ذریعے دو بڑے سپر کنڈکٹنگ پروسیسرز کو جوڑ دیا ہے، اور یہ کام دونوں چپس کے پہلے سے نصب ہونے کے بعد کیا گیا — یعنی جوڑنے کا عمل اتنا نازک نہیں رہا کہ چپ بناتے وقت ہی کرنا پڑے۔
جوڑے گئے پروسیسرز آئی بی ایم کے 120 کیوبٹ والے “نائٹ ہاک آر 1” ٹیسٹ ماڈیولز ہیں۔ ان کے درمیان روابط تقریباً ایک میٹر لمبے ہیں، اور یہ سارا نظام مطلق صفر سے ذرا اوپر کے درجہ حرارت پر ٹھنڈا رکھا جاتا ہے۔ تحقیق کی تفصیل آرکائیو پری پرنٹ سرور پر شائع ہوئی ہے، جس کے مصنفین میں نیرجا ایم سندریسن اور ساتھی شامل ہیں۔
یہ کامیابی کیوں اہم ہے؟ کوانٹم کمپیوٹنگ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل کے طاقتور کوانٹم کمپیوٹر ایک ہی دیوہیکل چپ پر نہیں بنیں گے، بلکہ کئی چھوٹے ماڈیولز کو جوڑ کر بنیں گے — بالکل اسی طرح جیسے آج کے سپر کمپیوٹر ہزاروں پروسیسرز کو جوڑ کر بنتے ہیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ سپر کنڈکٹنگ روابط میں کوانٹم معلومات بہت جلد ضائع ہو جاتی ہے۔ چار الگ اعلیٰ معیار کے روابط کا کامیاب تجربہ بتاتا ہے کہ یہ رکاوٹ عبور کی جا سکتی ہے۔
البتہ اس خبر کو حد سے زیادہ نہیں بڑھانا چاہیے۔ محققین خود کہتے ہیں کہ تجارتی طور پر قابل عمل نظام بننے سے پہلے مزید بہتری درکار ہے، خاص طور پر کوانٹم معلومات کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے میں۔ یہ ایک لیبارٹری کا سنگ میل ہے، مارکیٹ کی مصنوعات نہیں۔ لیکن سمت واضح ہے: یہاں پڑھیں میں بھی یہی دکھایا گیا تھا کہ کوانٹم ہارڈویئر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اور اب اس کی توسیع کا راستہ بھی کھلتا نظر آ رہا ہے۔ اگلا امتحان یہ ہوگا کہ کیا یہ روابط صرف دو ماڈیولز تک محدود رہیں گے، یا درجنوں ماڈیولز کے نیٹ ورک میں بھی اسی معیار پر کام کریں گے۔

قارئین کے تبصرے (0)