Saturday, 31 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

انتخابی اصلاحات کے لیے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی منظور، پیپلز پارٹی کو صدارت ملنے کا امکان — ارکان کے نام ابھی طے نہیں

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس

ٹائم لائن: ستمبر 2026 — وزیراعظم نے الیکشن کمیشن تقرریوں پر اپوزیشن رہنما سے براہ راست بات کی۔ 29 اکتوبر — حکومت نے اپوزیشن کو شامل کرنے اور پیپلز پارٹی کو صدارت دینے کا فیصلہ کیا، اس وقت 20 رکنی کمیٹی کی بات تھی۔ 30 اکتوبر — قومی اسمبلی نے 30 رکنی کمیٹی کی منظوری دے دی، اسپیکر کا نوٹیفکیشن ابھی باقی ہے۔ نومبر کا دوسرا ہفتہ — اپوزیشن اتحاد اپنی جمہوریت کا چارٹر ایک کل جماعتی کانفرنس میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسلام آباد — قومی اسمبلی نے جمعے 30 اکتوبر کو انتخابی اصلاحات کے لیے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دے دی ہے۔ کمیٹی میں قومی اسمبلی کے 20 اور سینیٹ کے 10 ارکان ہوں گے، اور نشستیں دونوں ایوانوں میں جماعتوں کی عددی طاقت کے تناسب سے تقسیم کی جائیں گی۔

وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے منظوری کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق اسپیکر جلد باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے، اور ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دینے کا عمل جاری ہے۔ اس وقت تک نہ ارکان کے نام سامنے آئے ہیں، نہ کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنس شائع ہوئے ہیں، اور نہ ہی پارلیمانی کمیٹیوں کے رجسٹر میں اس کا اندراج ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خبر کو کمیٹی کے قیام کی منظوری کے طور پر پڑھنا چاہیے، اس کے کام کے آغاز کے طور پر نہیں۔

ایک دن پہلے تک تصویر کچھ اور تھی۔ 29 اکتوبر کی رپورٹوں میں 20 رکنی کمیٹی کا ذکر تھا جس میں اپوزیشن کے پانچ ارکان شامل ہونے تھے۔ 30 اکتوبر کو وزیر نے جو ترکیب بتائی وہ اس سے دوگنی ہے، اور اس میں اپوزیشن کی پانچ نشستوں کا الگ سے ذکر نہیں آیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اپوزیشن ارکان کو شامل کرنے کی ہدایت دی ہے، اور اسپیکر اپوزیشن کو خط لکھ کر نام مانگیں گے۔ اپوزیشن اتحاد کے نائب چیئرمین اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس نے انتخابی عمل کو شفاف بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے، جبکہ محمود خان اچکزئی اور عباس نے پی ٹی آئی قیادت سے مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے۔

اس کمیٹی کے پیچھے ایک بڑا سوال الیکشن کمیشن کی تقرریوں کا ہے۔ وزیراعظم نے ستمبر میں اس معاملے پر اپوزیشن رہنما سے براہ راست بات کی تھی، اور الیکشن کمیشن نے اس دوران انتخابی مہم میں مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک سے متعلق اپنے قواعد بھی تجویز کیے ہیں۔ انتخابی اصلاحات کا کوئی بھی پیکج انہی دو محاذوں پر پرکھا جائے گا: تقرریوں کا طریقہ کتنا شفاف ہو گا، اور نئی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کیا ٹھوس انتظام ہو گا۔

اصل امتحان اب نوٹیفکیشن اور ناموں کا ہے۔ اگر کمیٹی میں اپوزیشن کی نمائندگی علامتی رہی، یا اس کے ٹرمز آف ریفرنس مبہم رہے، تو یہ ایک اور پارلیمانی کمیٹی بن کر رہ جائے گی جس کی رپورٹ فائلوں میں دب جائے گی۔ لیکن اگر اسے واضح مینڈیٹ، متوازن ترکیب اور وقت کی حد ملی تو یہ اگلے انتخابات سے پہلے انتخابی نظام پر سنجیدہ بحث کا دروازہ کھول سکتی ہے۔ نومبر کے دوسرے ہفتے میں اپوزیشن اتحاد کے جمہوریت کے چارٹر کا اعلان اس بحث کو مزید تیز کرے گا، اور دونوں فریقوں کو اپنی تجاویز عوام کے سامنے رکھنا ہوں گی۔

متعلقہ خبریں: نئے صوبوں کی بحث پارلیمنٹ میں اور قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *