آج شام چھ بج کر پندرہ منٹ پر پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ایک ایسا اجلاس شروع ہونے جا رہا ہے جس کا نتیجہ خیبر پختونخوا کی سیاست سے کہیں آگے تک جائے گا۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس طلب کر لیے ہیں — اور سب کی نظریں ایک ہی سوال پر ہیں: کیا پارلیمنٹ اتوار کو نافذ کی گئی ایمرجنسی اور گورنر راج پر مہرِ تصدیق ثبت کرے گی؟
ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق صدر نے دونوں اجلاس آئین کے آرٹیکل 54(1) کے تحت وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر طلب کیے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ سولہویں قومی اسمبلی کا تیسواں اجلاس ہوگا، اور ایوانِ زیریں تقریباً ایک ماہ کے وقفے کے بعد جمع ہو رہا ہے۔ اتحادی جماعتوں کے ارکان کو دونوں ایوانوں میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی گئی ہے — یہ ہدایت خود بتا رہی ہے کہ حکومت آج نمبرز کا کوئی رسک نہیں لینا چاہتی۔
دی نیشن کے مطابق ایوان کی پہلی نشست میں مرحوم رکنِ قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کے لیے فاتحہ خوانی ہوگی اور روایت کے مطابق آج معمول کا کاروبار نہیں ہوگا۔ مگر اصل کارروائی اس کے بعد شروع ہوگی: ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری پر گرما گرم بحث متوقع ہے۔ اردو پوائنٹ (اے پی پی) کے مطابق اجلاسوں میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری بھی لی جائے گی، جبکہ بزنس ریکارڈر کے مطابق دونوں ایوان اگلے تین سے چار دن میں منظوری دے سکتے ہیں۔ نومنتخب رکن ملک منیر اقبال چنڑ کی حلف برداری بھی شیڈول ہے، اور ایوانِ بالا کا نو نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔
اپوزیشن کی تیاریاں بھی مکمل ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق اپوزیشن ارکان ایمرجنسی کے آئینی جواز پر سخت سوالات اٹھائیں گے، صوبائی حکومت کے اختیارات پر اس کے اثرات پر تشویش کا اظہار کریں گے اور وفاقی حکومت سے اس فیصلے کے پسِ منظر کی وضاحت مانگیں گے۔ پی ٹی آئی اس اقدام کو پہلے ہی “غیر آئینی حملہ” قرار دے چکی ہے اور عدالت جانے کا اعلان کر رکھا ہے — یہ جاننے کے لیے کہ آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت یہ اقدامات کیسے لیے گئے، ہمارا تفصیلی سوالات و جوابات پڑھیے۔
یہاں تک پہنچنے کی کہانی مختصر نہیں۔ چار اکتوبر کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے آغاز سے لے کر گیارہ اکتوبر کو وفاقی کابینہ کی سفارش پر صدر کی منظوری تک — پورے معاملے کی مکمل ٹائم لائن یہاں پڑھیے۔ دس اکتوبر کو ایوانِ صدر میں صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی اہم ملاقات میں ہی تیرہ اکتوبر کے اجلاس بلانے کا فیصلہ ہوا تھا، جس میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی امن و امان سے متعلق رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ایک اور موضوع بھی پسِ منظر میں ہے — نئے صوبوں کی بحث۔ دی نیشن کے مطابق آج کے اجلاسوں میں ایمرجنسی کے ساتھ نئے صوبوں کا معاملہ بھی زیرِ بحث آ سکتا ہے۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ اکتوبر میں دونوں ایوانوں میں نئے صوبوں پر بحث ہوگی — اس بحث کی مکمل ٹائم لائن یہاں دیکھیے۔
اصل میں آج کی شام تین محاذوں کی لڑائی کا پہلا باقاعدہ راؤنڈ ہے۔ پہلا محاذ پارلیمنٹ ہے — اگر حکومت دونوں ایوانوں سے منظوری لے لیتی ہے تو ایمرجنسی کو جمہوری سند مل جائے گی اور اس کا دفاع آسان ہو جائے گا۔ دوسرا محاذ عدالت ہے — پی ٹی آئی کے وکلاء پہلے ہی آئینی دائرہ کار کے سوالات تیار کیے بیٹھے ہیں۔ تیسرا محاذ سڑک ہے، جہاں پی ٹی آئی کا مارچ اب بھی ایک حقیقت ہے۔ حکومت کی حکمتِ عملی واضح ہے: ایوان سے مہر لگاؤ، عدالت میں دفاع کرو، سڑک پر سختی رکھو۔ اپوزیشن کی حکمتِ عملی بھی اتنی ہی واضح ہے: ایوان میں شور، عدالت میں چیلنج، سڑک پر دباؤ۔
آج شام دیکھنے والی باتیں: کیا اپوزیشن بحث میں حصہ لے گی یا واک آؤٹ کرے گی؟ کیا حکومت بدھ کو گورنر راج سے متعلق قانون سازی کی طرف بڑھے گی، جیسا کہ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے؟ اور کیا نئے صوبوں کی بحث بھی آج چھڑے گی یا اسے بعد کے لیے ٹال دیا جائے گا؟ جواب جو بھی ہوں، ایک بات طے ہے — پارلیمنٹ ہاؤس کی لائٹیں آج شام ایک ایسے فیصلے کے لیے جلیں گی جو صرف ایک صوبے کا نہیں، وفاق اور صوبوں کے پورے رشتے کا امتحان ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)