اسلام آباد اور پشاور کے درمیان فاصلے کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ہے، دوسری طرف وفاقی حکومت آئین کی شقوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ آج صبح وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی ہو چکا — مگر حتمی اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ اس پورے معاملے کو سمجھنے کے لیے اسے شروع سے دیکھنا ضروری ہے۔ یہ ہے اب تک کی مکمل ٹائم لائن۔
4 اکتوبر — لانگ مارچ کا آغاز پی ٹی آئی نے اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کیا۔ عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں۔ وفاقی حکومت اس مارچ کو “ریاست کے خلاف دباؤ” قرار دے رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اسے آئینی حق کہتی ہے۔
6 اکتوبر — مذاکرات کی پیشکش، شرط کے ساتھ وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی — مگر شرط رکھی کہ پہلے لانگ مارچ ختم کرو، پھر بات ہوگی۔ یہ پیشکش تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔
8 اکتوبر — پشاور سے جوابی وار وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گورنر کے مواخذے کا قانون لانے کی کوشش کی، جبکہ صوبائی کابینہ نے وفاقی حکومت کو ایک مشترکہ قرارداد بھیجنے کی منظوری دی۔ مرکز اور صوبے کے درمیان خط و کتابت اب کھلے ٹکراؤ کی شکل اختیار کر چکی تھی۔
9 اکتوبر — مرکز نے “غور مکمل” کر لیا وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے جیو نیوز کے پروگرام میں کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ پر غور مکمل ہو چکا ہے — اور یہ کہ آرٹیکل 232 پورے صوبے پر لگے گا، صرف بارہ اضلاع پر نہیں۔ ان کے الفاظ میں، اب گیند کے پی حکومت کے کورٹ میں ہے۔ اسی روز وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی سے بچنے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔
10 اکتوبر (ہفتہ) — فیصلہ کن دن ایوان صدر میں صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی اہم ملاقات ہوئی، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور اعوان شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایمرجنسی پر اصولی اتفاق کیا اور 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی تجویز کے مطابق بارہ اضلاع — جن میں آٹھ سابقہ قبائلی اضلاع (اپر اور لوئر کرم، شمالی و جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی) کے علاوہ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں — میں ایمرجنسی نافذ کر کے ایک وفاقی فاٹا کونسل قائم کی جائے گی، جبکہ باقی اضلاع میں گورنر راج کا آپشن زیر غور ہے۔
اسی شام گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ابھی تک ایمرجنسی کا کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا: “ہم آرٹیکل 232 اور 234 کے لیے تیار ہیں، فیصلہ وفاقی حکومت کو کرنا ہے۔” وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان سے بھی ٹیلی فون پر بات کی؛ مولانا نے ایمرجنسی یا گورنر راج کے بجائے مذاکرات پر زور دیا۔ ادھر راولپنڈی میں 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔
11 اکتوبر (اتوار، آج) — کابینہ کا اجلاس، اعلان کا انتظار وفاقی کابینہ کا اجلاس آج صبح ساڑھے نو بجے وزیراعظم کی زیر صدارت ہوا۔ تاہم یہ سطور لکھے جانے تک کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔ وزیر مملکت داخلہ طالل چوہدری نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ایمرجنسی حکومت کا پسندیدہ آپشن نہیں، مگر حالات “آخری چارے” کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
13 اکتوبر (منگل) — پارلیمنٹ کا امتحان قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلائے گئے ہیں۔ اگر صدر مملکت آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہیں تو دس روز کے اندر پارلیمنٹ کی منظوری لازم ہوگی۔
آگے کیا ہوگا؟ پی ٹی آئی کی قیادت اس اقدام کو مسترد کر چکی ہے۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات کے بعد کہا کہ “ایمرجنسی یا گورنر راج دہشت گردی کا حل نہیں، اس سے بحران مزید گہرا ہوگا۔” پارٹی کی سیاسی اور کور کمیٹیوں نے بھی دونوں آپشنز کی مخالفت کی ہے۔
اصل سوال اب یہ نہیں کہ ایمرجنسی لگے گی یا نہیں — اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مرکز اور صوبے کو ایک پیج پر لائے گا، یا وفاق اور صوبے کے درمیان پہلے سے گہری خلیج کو مزید چوڑا کر دے گا۔ 13 اکتوبر کا پارلیمانی مرحلہ اس کا پہلا جواب دے گا۔


قارئین کے تبصرے (0)