Friday, 30 October 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

آج رات خلا میں جائے گا بھارت کا نیا نیویگیشن سیٹلائٹ NVS-03: وقت کی خودمختاری کی دوڑ میں اہم قدم

جی ایس ایل وی راکٹ خلا کی طرف پرواز کرتے ہوئے

بھارت کی خلائی ایجنسی اسرو آج رات اپنا نیا نیویگیشن سیٹلائٹ NVS-03 خلا میں بھیج رہی ہے۔ یہ لانچ جمعہ کی رات 11 بج کر 51 منٹ بھارتی وقت (پاکستانی وقت کے مطابق رات 11 بج کر 21 منٹ) پر آندھرا پردیش کے ستیش دھون خلائی مرکز، سری ہری کوٹا کے دوسرے لانچ پیڈ سے ہوگا۔ سیٹلائٹ کو جی ایس ایل وی-ایف 18 راکٹ لے کر جائے گا، جو بھارت کے جیوسنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل (GSLV) کی 20 ویں پرواز ہوگی۔ 24 گھنٹے کی الٹی گنتی جمعرات کی رات 11 بج کر 51 منٹ پر شروع ہو چکی ہے۔

NavIC کیا ہے؟

NavIC (نیویگیشن ود انڈین کانسٹیلیشن) بھارت کا اپنا علاقائی نیویگیشن نظام ہے، جو پہلے IRNSS کہلاتا تھا۔ یہ بھارت اور اس کے اردگرد تقریباً 1500 کلومیٹر تک مقام، نیویگیشن اور وقت کی معلومات فراہم کرتا ہے — بالکل اسی طرح جیسے امریکہ کا GPS، چین کا BeiDou اور یورپ کا Galileo اپنے اپنے علاقوں میں کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ NavIC علاقائی ہے، عالمی نہیں۔

NVS-03 کیوں اہم ہے؟

اس وقت NavIC کے پاس مقام کی خدمات کے لیے صرف تین سیٹلائٹ دستیاب ہیں، جبکہ کم از کم چار درکار ہوتے ہیں۔ NVS سیریز کی دوسری نسل کا آغاز 2023 میں NVS-01 سے ہوا تھا، لیکن جنوری 2025 میں NVS-02 کی ناکامی (جی ایس ایل وی-ایف 15 کے ذریعے) نے اس سلسلے کو روک دیا تھا۔ بھارتی وزیر جتیندر سنگھ نے اگست 2026 میں لوک سبھا کو بتایا تھا کہ NVS-02 کی خرابی سے حاصل شدہ اصلاحات NVS-03 میں شامل کر لی گئی ہیں۔ اب NVS-03، پھر NVS-04 اور NVS-05 اس نظام کو دوبارہ مکمل کریں گے۔

ایٹمی گھڑی کا کیا کردار ہے؟

NVS-03 اپنے ساتھ بھارت کی بنی ہوئی ایٹمی گھڑی لے کر جا رہا ہے — یہ خلا میں بھیجی جانے والی تیسری ایسی دیسی گھڑی ہوگی۔ نیویگیشن کا سارا نظام دراصل وقت پر کھڑا ہوتا ہے: سیٹلائٹ سے سگنل کتنی دیر میں پہنچا، اس سے فاصلہ نکلتا ہے، اور فاصلے سے مقام۔ اگر گھڑی میں ذرا سی غلطی ہو تو مقام کلومیٹروں تک غلط ہو سکتا ہے۔ اسی لیے دیسی ایٹمی گھڑی کو “وقت کی خودمختاری” کا نام دیا جا رہا ہے — یعنی بھارت اپنے وقت کا معیار خود طے کرے، کسی دوسرے ملک کے نظام پر انحصار نہ کرے۔ اگست 2026 میں بھارت نے انڈین اسٹینڈرڈ ٹائم کے قواعد بھی نوٹیفائی کیے تھے، جس سے یہ مقصد اور واضح ہو گیا۔

مشن کی تکنیکی تفصیل:

راکٹ 50 میٹر بلند اور تین مراحل والا ہے، جس کا روانگی کے وقت وزن 420 ٹن ہوگا۔ سیٹلائٹ کا وزن 2,232 کلوگرام ہے۔ اسے پہلے جیوسنکرونس ٹرانسفر آربٹ میں چھوڑا جائے گا — جس کا قریب ترین نقطہ 170 کلومیٹر اور دور ترین نقطہ 37,023 کلومیٹر ہوگا — اور پھر اسے تقریباً 35,800 کلومیٹر کی بلندی پر اپنے مستقل مدار تک پہنچایا جائے گا۔ NVS-03 ایل-1 سگنل بھی نشر کرے گا، جس سے NavIC عام صارفین کی پہننے والی ڈیوائسز (ویئرایبلز) تک پہنچ سکے گا — یعنی یہ نظام اب صرف فوجی یا سرکاری استعمال تک محدود نہیں رہے گا۔

اسرو کے چیئرمین ڈاکٹر وی نارائنن نے اس سے پہلے ترپتی میں روایتی دعا بھی کی ہے، جو ہر لانچ سے پہلے کی رسم ہے۔ اسرو نے یہ بھی بتایا ہے کہ نومبر میں پی ایس ایل وی-سی 63 کے ذریعے ایک تکنیکی مظاہرتی سیٹلائٹ (TDS-1) بھیجا جائے گا، اور دسمبر کے آخر سے پہلے گگن یان کا بغیر عملے والا مشن (G-1) بھی متوقع ہے۔

یہ لانچ صرف ایک سیٹلائٹ کی کہانی نہیں ہے۔ جنوبی ایشیا میں خلائی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ہر ملک یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کا نیویگیشن، اس کا وقت اور اس کا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ کسی دوسرے کی مہربانی پر نہیں چلتا۔ NVS-03 کی کامیابی بھارت کے لیے اس دوڑ میں ایک قدم آگے بڑھنے کے مترادف ہوگی — اور آج رات 11 بج کر 21 منٹ پر، جب یہ راکٹ سری ہری کوٹا سے اٹھے گا، تو اس کا جواب سب کی نظروں کے سامنے ہوگا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *