Thursday, 29 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

حافظ آباد بس حادثہ: سیم نالے میں گرنے سے 5 جاں بحق، درجنوں زخمی

پاکستان میں بین الصوبائی مسافر کوچ، فائل تصویر

حافظ آباد کے قریب فتکی فلائی اوور پر تبلیغی جماعت کی مسافر بس سیم نالے میں جا گری، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ بس میں تقریباً 65 مسافر سوار تھے جو رائیونڈ سے چنیوٹ میں تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ کوٹ نکہ کے قریب پیش آیا، جہاں تیز رفتار بس موڑ کاٹتے ہوئے بے قابو ہو کر سیم نالے میں جا گری۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈرائیور کو دورانِ سفر نیند آ گئی تھی، جس کے باعث بس سڑک سے نیچے کھائی میں جا گری۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں 27 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ بعض رپورٹس میں زخمیوں کی تعداد 40 تک بتائی گئی ہے، اور زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال پنڈی بھٹیاں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ کرین کی مدد سے بس کو سیم نالے سے نکال لیا گیا ہے، جبکہ بعض مسافروں کے تاحال لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

حادثے کے بعد ڈپٹی کمشنر حافظ آباد سید حسین بہادر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فواد احمد جائے حادثہ پر پہنچے اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ اسسٹنٹ کمشنر پنڈی بھٹیاں رب دینو نے دونوں افسران کو حادثے اور امدادی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کا دورہ کیا، زخمیوں کی عیادت کی اور اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کے ساتھ کھانا، کپڑے اور دیگر ضروری سامان فوری مہیا کیا جائے اور علاج میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

یہ ایک ہی دن میں ملک میں پیش آنے والا دوسرا بڑا ٹریفک حادثہ ہے۔ اس سے چند گھنٹے قبل تھرپارکر میں ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے 9 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ دونوں حادثات نے ایک بار پھر سفری حفاظت اور انتظامی غفلت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تھرپارکر میں ایمبولینس حادثے کی تفصیلات یہاں پڑھیں۔

حادثے کی اصل وجہ کا تعین ابھی باقی ہے، مگر ابتدائی شواہد ایک پرانے اور جان لیوا مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: لمبے سفر پر ڈرائیور کی نیند اور تھکاوٹ۔ پاکستان میں بین الصوبائی بسوں کے حادثات میں ڈرائیور کی نیند، تیز رفتاری اور آرام کے بغیر مسلسل ڈرائیونگ بار بار سامنے آتی ہے۔ اسی ماہ راجن پور میں کراچی سے ڈیرہ غازی خان جانے والی کوچ الٹنے سے 10 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس میں بھی ڈرائیور کی نیند کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ راجن پور بس حادثے کی رپورٹ یہاں پڑھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک لمبے روٹس پر ڈرائیوروں کے آرام کے اوقات، گاڑیوں کی فٹنس اور رفتار کی نگرانی کو سختی سے نافذ نہیں کیا جاتا، ایسے حادثات رک نہیں سکتے۔ ہر حادثے کے بعد افسوس اور انکوائری کا اعلان ہوتا ہے، مگر سڑک پر صورتحال جوں کی توں رہتی ہے۔ حافظ آباد کے متاثرہ خاندانوں کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کب ہو گا اور آئندہ ایسے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے عملی قدم کب اٹھایا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *