بوخارسٹ: جمعہ 23 اکتوبر کی صبح رومانیہ کی بحری اتھارٹی کو ایک تجارتی جہاز سے ہنگامی سگنل موصول ہوا — کوموروز کے پرچم والا کارگو جہاز “خوریو” کانستانتسا کی بندرگاہ سے 13 ناٹیکل میل دور سمندر میں ڈوب رہا تھا۔ چند گھنٹوں بعد یہ مکمل طور پر الٹ کر ڈوب گیا۔ عملے کے 13 افراد میں سے نو کو زندہ بچا لیا گیا، ایک کی لاش پانی سے نکالی گئی، اور تین اب بھی لاپتہ ہیں۔
رومانیہ کی بحری اتھارٹی کے مطابق جہاز نے صبح دس بجے (0700 GMT) مدد کی درخواست بھیجی، جب وہ رومانیہ کے ساحلی پانیوں سے بالکل باہر تھا۔ تیز ہواؤں اور طوفانی سمندر میں بچاؤ کی کشتیاں لاپتہ افراد کی تلاش میں لگی ہیں، مگر خراب موسم اور کم نظر آنے کی وجہ سے ہیلی کاپٹر سے بچاؤ ممکن نہیں تھا۔ جہاز کے عملے میں دس یوکرینی اور تین آذربائیجانی شہری شامل تھے۔
رومانی صدر نیکوسر دان نے جمعے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کو “روس کی بڑھتی ہوئی جارحیت” کا حصہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا: “یہ یوکرین میں جنگ کے تناظر میں روس کی شدت پسندی کے عمل کا حصہ ہے۔” صدر دان نے بعد میں مزید واضح کیا کہ جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران رومانیہ اور بلغاریہ کے ساحلوں کے قریب کم از کم سات تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، اور تقریباً 30 ملاح ہلاک یا لاپتہ ہوئے ہیں۔ 15 اکتوبر کو رومانیہ کے ساحل پر کیمیائی ٹینکر “وائن ٹریڈر” میں آگ لگنے کے بعد اس کے سات افراد لاپتہ ہو گئے تھے — اس وقت صدر دان نے ان حملوں کو “ناقابل قبول” قرار دیا تھا۔ (15 اکتوبر کے ان حملوں کی تفصیل یہاں پڑھیں)
گزشتہ ہفتے کو رومانیہ کے لڑاکا طیاروں نے رومانیہ کے ساحلی پانیوں میں داخل ہونے والے دو جدید روسی ڈرون گرا دیے تھے۔ منگل کو نیٹو نے اعلان کیا تھا کہ وہ بحیرہ اسود میں مزید بحری گشتی طیارے، ریڈار نظام اور ڈرون تعینات کرے گا، اگرچہ تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ جمعرات کو رومانیہ کی سپریم کونسل برائے قومی دفاع کے اجلاس کے بعد صدارتی دفتر نے کہا تھا کہ “آزاد سمندری آمدورفت اور اہم بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔”
دستیاب معلومات کے مطابق خوریو 21 اکتوبر کو ترکی سے روانہ ہوا تھا اور رومانیہ کی سولینا بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا۔ نشانہ بنائے گئے زیادہ تر جہاز اسی سولینا نہر کے قریب لنگر انداز تھے یا اسی کی طرف جا رہے تھے — یہ نہر ڈینیوب دریا کو بحیرہ اسود سے ملاتی ہے اور اب یوکرین کی اناج اور خوردنی تیل کی برآمدات کا بنیادی راستہ ہے، کیونکہ روس کے حملوں کے بعد یوکرین اپنی بحری بندرگاہوں کی بجائے ڈینیوب کی بندرگاہوں اور رومانیہ کے ساحلی پانیوں پر انحصار کر رہا ہے۔ یوکرین، رومانیہ اور بلغاریہ تینوں نیٹو سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ بحیرہ اسود میں تجارتی جہاز رانی کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔
یہ کیوں اہم ہے: رومانیہ نیٹو کا رکن ہے، اور اس کے صدر کی طرف سے براہِ راست روس پر الزام لگانا یوکرین جنگ کے دائرے کو نیٹو کی مشرقی سرحد کی طرف بڑھانے کی سمت ایک سنگین قدم ہے۔ دوسری طرف، سولینا نہر یوکرین کی اناج برآمدات کی شریانِ حیات ہے — اس راستے میں خلل عالمی غذائی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے، اور پاکستان بھی یوکرینی گندم کا درآمد کنندہ رہا ہے۔ اگر یہ حملے جاری رہے تو اناج کی رسد میں رکاوٹ کا اثر اسلام آباد اور لاہور کے بازاروں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
اس معاملے کی تازہ ترین صورتحال لائیو اپڈیٹس: آج کی اہم خبریں پر ملاحظہ کریں۔

قارئین کے تبصرے (0)