الخلیل — مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل (ہیبرون) کے قریب جمعہ کی صبح ایک اسرائیلی چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے شدید تبادلے میں دو فلسطینی ہلاک اور پانچ اسرائیلی فوجی زخمی ہو گئے، جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بن یمین نیتن یاہو نے اپنی انتخابی مہم کے تمام پروگرام منسوخ کر دیے اور سیکیورٹی فورسز کو الخلیل شہر کا فوری محاصرہ کرنے اور پورے مغربی کنارے کو آج سے مکمل طور پر بند کرنے کی تیاری کا حکم دے دیا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق واقعہ صبح تقریباً ساڑھے سات بجے الخلیل کے مضافات میں روٹ 35 پر واقع جوڈیا جنکشن کے قریب پیش آیا، جسے فرش الہوا چیک پوائنٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق دو فلسطینی — جن کی شناخت الخلیل کے رہائشی فراس اور حمودہ الجعبہ کے طور پر کی گئی — ایک کار میں وہاں پہنچے جس پر اسرائیلی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی، اور انہوں نے چیک پوائنٹ پر تعینات ریزرو بٹالین کے فوجیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ آوروں کے پاس ایک ایم-16 رائفل اور ایک پستول تھا۔
موقع پر موجود فرانسیسی خبر رساں ادارے کے ایک صحافی نے بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تقریباً بیس منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، یہاں تک کہ اسرائیلی فوجیوں نے دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ہوم فرنٹ کمانڈ کی آری بٹالین کے ڈپٹی کمانڈر اور ایک کمپنی کمانڈر موقع پر پہنچ کر جوابی کارروائی میں شامل ہوئے۔
اسرائیل کی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ اڈوم کے مطابق زخمی ہونے والے پانچوں اسرائیلی فوجی ہیں۔ دو زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے — ان میں سے ایک بیس کی دہائی کا نوجوان ہے جسے گولیوں کے زخموں کے ساتھ “انتہائی سنگین” حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
واقعے کے چند گھنٹوں بعد نیتن یاہو نے سیکیورٹی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا اور سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ فوجیوں نے “ایک بڑا حملہ” ناکام بنا دیا۔ ان کے الفاظ میں: “میں نے سیکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ الخلیل شہر کو فوری طور پر بند کر دیں اور آج سے یہودا و سامریہ (مغربی کنارے کے لیے اسرائیلی سرکاری اصطلاح) کے مکمل لاک ڈاؤن کی تیاری کریں۔” نیتن یاہو نے حملے کا الزام حماس پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم “معصوم شہریوں کے قتل کے لیے ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی” کر رہی تھی۔ دوسری جانب حماس نے اپنے بیان میں حملے کی تعریف کی ہے۔
اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اور انتہائی دائیں بازو کے رہنما اتمار بن گویر نے واقعے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو “ختم” کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کو “تحلیل اور غیر مسلح” کیا جانا چاہیے اور اس کے “دہشت گرد انفراسٹرکچر” کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ رملہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کا جمعے کے اس حملے سے کوئی تعلق تھا۔
یہ واقعہ اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات سے محض چند روز قبل پیش آیا ہے — ووٹنگ آئندہ منگل کو ہو گی، جس میں نیتن یاہو ایک اور مدت کے لیے میدان میں ہیں۔ اسرائیلی حکومت پہلے ہی خبردار کر چکی تھی کہ انتخابات سے قبل “دشمنوں” کی جانب سے حملوں کا خدشہ ہے۔
واقعے کا ایک اہم پس منظر مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کا جاری موسم ہے۔ ان دنوں فلسطینی کسانوں اور ان کی زمینوں پر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے — الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جمعرات کو مغربی کنارے میں چھاپوں کے دوران 36 فلسطینیوں کو گرفتار کیا، جبکہ فلسطینی ادارے “کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن” نے اسی روز اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کی جانب سے کسانوں پر 17 حملے ریکارڈ کیے۔ اس سے قبل مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں ایک غیر ملکی صحافی بھی زخمی ہوئی تھیں۔
یاد رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے دوران بھی نیتن یاہو مغربی کنارے پر مکمل اسرائیلی کنٹرول کا اعلان کر چکے ہیں۔
یہ خبر کیوں اہم ہے: اس واقعے کی اہمیت محض ہلاکتوں کی تعداد میں نہیں، اس کے سیاسی دھماکے میں ہے۔ انتخابات سے چند روز قبل ہونے والا یہ حملہ نیتن یاہو کو “سیکیورٹی” کے نام پر سخت ترین اقدامات کا جواز دے رہا ہے — اور وہ اسے فوراً استعمال بھی کر رہے ہیں۔ الخلیل کا محاصرہ اور پورے مغربی کنارے کے مکمل لاک ڈاؤن کی تیاری کا مطلب ہے کہ لاکھوں عام فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی، روزگار اور نقل و حرکت براہ راست متاثر ہو گی۔ دوسری طرف بن گویر کا فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنے کا مطالبہ اسرائیلی انتہائی دائیں بازو کے اس ایجنڈے کو بے نقاب کرتا ہے جو مغربی کنارے میں کسی بھی فلسطینی سیاسی وجود کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حماس کی جانب سے حملے کی تعریف اور نیتن یاہو کی جانب سے حماس پر الزام اس تصادم کو مزید گہرا کرنے کی طرف اشارہ ہے — ایک ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ آنے والے دنوں میں مغربی کنارے کی صورتحال اسرائیلی انتخابات کا رخ بھی متعین کر سکتی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)