دنیا کی سب سے بڑی ریٹیل کمپنی وال مارٹ نے 21 اکتوبر کو اعلان کیا ہے کہ اگلے ماہ سے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹ — جیسے ChatGPT، Gemini اور Meta Muse — اس کے اور سیمز کلب کے صارفین کی طرف سے خریداری کر سکیں گے۔
یہ منصوبہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا: “ایجنٹ پروفائلز” — ہر AI ایجنٹ کو صارف کے وال مارٹ اکاؤنٹ کے اندر اپنا الگ پروفائل ملے گا، اور اس کی خریداریاں الگ سے نظر آئیں گی۔ دوسرا: “ایجنٹ گیٹ وے” — MCP ٹیکنالوجی پر مبنی براہ راست چینل، جو فی الحال دعوت پر کمپنیوں اور ڈویلپرز کے لیے بیٹا میں ہے۔ اس کے ذریعے ایجنٹ صارف کی معمول کی چیزیں — مثلاً دودھ کا پسندیدہ برانڈ — تلاش کر سکے گا، بغیر اس کی پوری خریداری کی تاریخ دیکھے۔ تیسرا: AI ایجنٹوں کے لیے باقاعدہ شرائط۔
کنٹرول آپ کے ہاتھ میں
وال مارٹ نے صارف کو دو راستے دیے ہیں: یا تو ایجنٹ کی ہر خریداری کی منظوری دیں، یا اسے ایک مقررہ حد — 50، 100 یا 200 ڈالر — تک خود خریداری کی اجازت دیں۔ پروفائلز کو کسی بھی وقت دیکھا اور ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔ وال مارٹ نے اس کا موازنہ کریڈٹ کارڈ میں کسی مجاز صارف کو شامل کرنے سے کیا ہے۔
حفاظت کے اصول بھی واضح ہیں: ایجنٹ کو کبھی کارڈ کی تفصیل نہیں ملے گی، اسے صرف اتنی رسائی ملے گی جتنی کام کے لیے ضروری ہو، اور اسے صارف کے ارادے کے اندر رہنا ہو گا۔ اگر ایجنٹ غلط چیز خرید لے تو وال مارٹ کی معمول کی ریٹرن پالیسی لاگو ہو گی — اور اصول توڑنے والے ایجنٹوں کو بلاک کر دیا جائے گا۔
ایمیزون کا برعکس راستہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایمیزون اس کے بالکل برعکس سمت میں جا رہا ہے۔ اس نے غیر منظور شدہ تیسرے فریق کے ایجنٹوں پر پابندی لگا رکھی ہے — گزشتہ ماہ Meta کے Muse کو بھی بلاک کیا گیا، اور صارفین کو پیغام دکھایا گیا کہ غیر مجاز AI ایجنٹ ایمیزون کی شرائط کی خلاف ورزی ہیں۔ ایمیزون اپنے ہی ایجنٹوں — Rufus، Alexa for Shopping اور Buy for Me — کو آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ سب ایک ہی ہفتے میں ہو رہا ہے: Anthropic نے Claude Duet متعارف کرایا، جو منسلک ایپس میں کام کر کے منظوری سے خریداری بھی کرتا ہے؛ OpenAI نے گزشتہ ماہ ہمیشہ فعال “Dots” ایجنٹ لانچ کیے تھے؛ اور Meta کے Muse کے صرف امریکہ اور کینیڈا میں ایک کروڑ سے زائد ڈاؤن لوڈ ہو چکے ہیں۔
آپ کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟
اصل سوال اعتماد کا ہے — اگر بوٹ غلط چیز خرید لے تو ذمہ دار کون ہو گا؟ وال مارٹ کا جواب ریٹرن پالیسی اور بلاک کے ہتھوڑے پر مبنی ہے، جبکہ ایمیزون کا جواب “صرف ہمارے ایجنٹ” ہے۔ دونوں راستوں میں صارف کی سہولت تو ہے، مگر طاقت کا توازن بھی بدل رہا ہے: جو کمپنی آپ کے خریداری کے ایجنٹ کو کنٹرول کرے گی، وہ آپ کی خریداری کی عادتوں کو بھی شکل دے گی۔ پاکستان میں ابھی یہ دور کچھ دور ہے، مگر آن لائن شاپنگ کی عادت یہاں بھی تیزی سے بدل رہی ہے — اور جب یہ ایجنٹ یہاں پہنچیں گے تو ڈیجیٹل ادائیگی، صارف کا اعتماد اور چھوٹے تاجروں کی بقا، تینوں ایک ساتھ آزمائش میں ہوں گے۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں یہ ہفتہ ویسے بھی مصروف رہا — چین کے خلا میں بھیجے گئے AI کمپیوٹروں کی خبر بھی پڑھیں، اور Grok کے تصویری تنازع پر دنیا بھر کی ردعمل پر بھی ہماری تحریر دیکھیں۔
خریداری کا مستقبل اب اسکرین پر کلک کرنے کا نہیں، ایجنٹ کو ہدایت دینے کا ہو گا — سوال صرف یہ ہے کہ ہدایت پر عمل کس کی شرائط پر ہو گا۔

قارئین کے تبصرے (0)