اہم نکات
- 14 اکتوبر 2026 کو چین کی نجی خلائی کمپنی لینڈ اسپیس کے ژوکوے-2ای وائی-4 راکٹ نے ایک ہی پرواز میں 10 سیٹلائٹ مدار میں پہنچا دیے۔
- ان میں سے 8 سیٹلائٹ ADAspace کے “اسٹار کمپیوٹ” منصوبے کے دوسرے گروپ کا حصہ ہیں — یہ خلا میں مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔
- نئے سیٹلائٹس 10,000 واٹ کے مائع کولنگ سسٹم، سیٹلائٹ سے سیٹلائٹ لیزر کمیونیکیشن اور مدار میں اے آئی ماڈلز کی ٹریننگ کے تجربات کریں گے۔
- منصوبے کا ہدف 2030 تک 1000 اور 2035 تک 2800 کمپیوٹنگ سیٹلائٹس کا جال بچھانا ہے۔
- مئی 2025 میں اس منصوبے کے پہلے 12 سیٹلائٹ بھیجے گئے تھے، اور جنوری 2026 میں علی بابا کا Qwen3 اے آئی ماڈل مدار میں چلا کر دکھایا گیا تھا۔
چین نے مصنوعی ذہانت کو خلا میں لے جانے کی دوڑ میں ایک اور بڑا قدم بڑھا دیا ہے۔ 14 اکتوبر کی شام، مقامی وقت کے مطابق 7 بج کر 40 منٹ پر، نجی کمپنی لینڈ اسپیس کا ژوکوے-2ای وائی-4 راکٹ شمال مغربی چین کے ڈونگ فینگ کمرشل خلائی مرکز سے اٹھا اور دس سیٹلائٹس کو ان کے مقررہ مداروں میں پہنچا دیا۔ یہ میتھین اور مائع آکسیجن سے چلنے والا راکٹ ہے — اسی ٹیکنالوجی کی نسل جس نے چین کی نجی خلائی صنعت کو دنیا کی نظروں میں لایا۔
اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق ان دس میں سے آٹھ سیٹلائٹ چینی کمرشل خلائی کمپنی ADAspace کے “اسٹار کمپیوٹ” منصوبے کے دوسرے گروپ کا حصہ ہیں۔ یہ عام مواصلاتی سیٹلائٹ نہیں — ان میں طاقتور کمپیوٹنگ سسٹم، سیٹلائٹ سے سیٹلائٹ اور سیٹلائٹ سے زمین تک لیزر کمیونیکیشن کا سامان اور کم روشنی والے کیمرے نصب ہیں۔ ان کا کام خلا میں ہی ڈیٹا پراسیس کرنا اور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز چلانا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور خلائی ٹیکنالوجی کا یہ امتزاج اب سائنس کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی سرحد بنتا جا رہا ہے۔
تکنیکی اعتبار سے یہ مشن کئی نئے تجربات کا حامل ہے۔ سیٹلائٹس 10,000 واٹ کی سطح کے مائع کولنگ سسٹم، بڑے پیمانے پر کھلنے والے کولنگ ڈھانچے اور مکمل لیزر کمیونیکیشن نیٹ ورک کی آزمائش کریں گے — اور سب سے اہم بات، مدار میں رہتے ہوئے اے آئی فاؤنڈیشن ماڈلز کی ٹریننگ کا تجربہ بھی ہوگا۔ ADAspace کے مطابق یہ مشن “خلائی کمپیوٹنگ کی تکنیکی ترقی اور تجارتی استعمال کو تیز کرے گا۔”
یہ منصوبہ کوئی چھوٹا تجربہ نہیں۔ “اسٹار کمپیوٹ” کا حتمی ہدف 2800 کمپیوٹنگ سیٹلائٹس پر مشتمل ایک مداری اے آئی انفراسٹرکچر ہے۔ پہلا گروپ — 12 سیٹلائٹ — مئی 2025 میں بھیجا گیا تھا، اور جنوری 2026 میں کمپنی نے علی بابا کے Qwen3 اے آئی ماڈل کو اپنے مداری نیٹ ورک پر چلا کر دکھایا تھا — یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی عام مقصد کا بڑا اے آئی ماڈل خلا میں کام کرنے والے سیٹلائٹ نیٹ ورک پر چلایا گیا۔ کمپنی کا ہدف 2030 تک 1000 سیٹلائٹس کا جال مکمل کرنا ہے۔ اسی پرواز میں بھیجے گئے باقی دو سیٹلائٹ — ایل ٹی-03 اور ایل ٹی-04 — لینٹا انٹیلیجنس کے ہیں، جو سیٹلائٹس کے درمیان لیزر رابطے کے تجربات کریں گے۔
یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی رکاوٹ اب ڈیٹا نہیں، بجلی اور ٹھنڈک ہے — اور خلا میں دونوں وافر ہیں: سورج کی بلا تعطل توانائی اور خلا کی قدرتی ٹھنڈک۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل بھی رواں ماہ کے آغاز میں اپنا تجرباتی سیٹلائٹ خلا بھیج چکا ہے، جس میں چار اے آئی چپس نصب ہیں۔ فرق صرف پیمانے کا ہے: گوگل ایک سیٹلائٹ پر چار چپس آزما رہا ہے، جبکہ چین پہلے ہی 20 کمپیوٹنگ سیٹلائٹ مدار میں پہنچا چکا ہے اور 2800 کا ہدف رکھتا ہے۔ لینڈ اسپیس نے صرف 29 دنوں میں دو بار ایک ہی پرواز میں دس دس سیٹلائٹ بھیجے ہیں — یہ رفتار بتاتی ہے کہ چین کی نجی خلائی صنعت اب معمول کی تجارتی پروازوں کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ آنے والے مہینوں میں اسٹار کمپیوٹ کا تیسرا گروپ بھیجا جائے گا، اور خلاء کو لیبارٹری اور ڈیٹا سینٹر بنانے کا یہ رجحان اب ایک عالمی دوڑ کی شکل اختیار کر چکا ہے — جس کا اگلا پڑاؤ یہ طے کرے گا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل زمین کے ڈیٹا سینٹروں میں ہے یا آسمان میں۔

قارئین کے تبصرے (0)