اہم نکات
• اوساکا یونیورسٹی (جاپان) کی ٹیم نے ایسا برقی ڈیوائس تیار کیا ہے جو ایک ایک امائنو ایسڈ مالیکیول کی “بائیں ہاتھ” یا “دائیں ہاتھ” والی شکل پہچان لیتا ہے، 80 فیصد سے زیادہ درستگی کے ساتھ۔
• اس آزمائش میں مشہور مرچیسن میٹیورائٹ (شہابیہ) اور چلی کے اٹاکاما صحرا — جو مریخ جیسا ماحول رکھتا ہے — کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔
• تحقیق نیچر کمیونیکیشنز جریدے میں 5 اکتوبر کو شائع ہوئی؛ آلہ چھوٹا ہے، کیمیائی ری ایجنٹس کے بغیر کام کرتا ہے، اس لیے مستقبل کے خلائی مشنوں کے لیے موزوں ہو سکتا ہے۔
• احتیاط: مالیکیول کی شکل کا فرق زندگی کی نشاندہی تو کر سکتا ہے، مگر یہ زندگی کا حتمی ثبوت نہیں — اور یہ آلہ ابھی لیبارٹری کی سطح کا تجربہ ہے۔
خلا میں زندگی کی تلاش کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ ہم مالیکیول نہیں ڈھونڈ پاتے — مسئلہ یہ ہے کہ ان مالیکیولز کو چھونے والی زندگی اور بے جان کیمیائی عمل میں فرق کیسے کیا جائے۔ اب جاپان کی اوساکا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس سوال کا جواب دینے کی طرف ایک حیران کن قدم بڑھایا ہے: سونے کی دو باریک تاروں کے درمیان نینو سائز کا خلا، جس سے گزرتے ہر مالیکیول کا برقی سگنل مصنوعی ذہانت پڑھ کر بتاتا ہے کہ یہ مالیکیول “بائیں ہاتھ” والا ہے یا “دائیں ہاتھ” والا۔
امائنو ایسڈز — پروٹین بنانے والے مالیکیول — دو آئینے جیسی شکلوں میں آتے ہیں، جنہیں سائنسدان L اور D فارم کہتے ہیں۔ دونوں کا فارمولا ایک ہی، مگر ڈھانچہ ایسے جیسے آپ کے بائیں اور دائیں ہاتھ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ زمین پر زندگی تقریباً مکمل طور پر L-فارم استعمال کرتی ہے، جبکہ بے جان کیمیائی عمل دونوں شکلیں برابر مقدار میں پیدا کرتا ہے۔ سائنسدانوں کے خیال میں L اور D کا یہ تناسب (L/D ratio) زندگی کی سب سے مضبوط علامات (biosignatures) میں سے ایک ہے — کیونکہ سیارے کے پیمانے پر بے جان عمل سے ایسا عدم توازن پیدا ہونا تقریباً ناممکن ہے۔
نئی تحقیق میں ٹیم نے دو سنہری نینو وائرز کے بیچ اتنا چھوٹا خلا بنایا کہ ایک ایک مالیکیول گزرتے وقت ٹنلنگ کرنٹ پیدا کرتا ہے۔ ہر شکل (L یا D) کا کرنٹ سگنل تھوڑا سا مختلف ہوتا ہے، اور مشین لرننگ الگورتھم ان باریک فرقوں کو پہچاننا سیکھ جاتا ہے۔ ٹیم کے سربراہ، اوساکا یونیورسٹی کے اے آئی سینٹر کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر تاکاہیتو اوشیرو کے مطابق، “نینو گیپ ٹنلنگ تکنیک کو مصنوعی ذہانت سے ملا کر ہم امائنو ایسڈز کی L اور D شکلوں میں 80 فیصد سے زائد درستگی کے ساتھ فرق کر سکے۔” ان کا کہنا ہے کہ واحد مالیکیول کی سطح پر امائنو ایسڈ کی شکل پہچاننا پہلی بار ممکن ہوا ہے، اور یہ کیمیائی سینسنگ میں بنیادی پیش رفت ہے۔ تحقیق کے سینئر مصنف مساترو تانیگوچی ہیں۔
ٹیم نے اس آلے کو صرف صاف ستھری لیبارٹری کیمیکلز پر نہیں آزمایا۔ انہوں نے مرچیسن میٹیورائٹ کے اصل نمونے بھی اس میں سے گزارے — وہی مشہور شہابیہ جو 1969 میں آسٹریلیا میں گرا تھا اور جس میں امائنو ایسڈز پائے جا چکے ہیں — اور اٹاکاما صحرا کی مٹی کے نمونے بھی، جو مریخ جیسا خشک ماحول رکھتی ہے۔ نتائج نے روایتی لیبارٹری تجزیے کی اہم خصوصیات کو درست طریقے سے پکڑا، حالانکہ کچھ مالیکیولز اور نمونوں میں مطابقت کمزور بھی رہی۔
یہ پیش رفت خلائی مشنوں کے لیے اس لیے اہم ہے کہ موجودہ آلات بڑے، بجلی کے بھوکے اور کیمیائی ری ایجنٹس پر انحصار کرتے ہیں — وہ چیزیں جو مریخ یا برفیلے چاندوں تک نہیں بھیجی جا سکتیں۔ برقی شناخت کا یہ طریقہ کمپیکٹ ہو سکتا ہے، لرزش سے کم متاثر ہوتا ہے، اور کیمیکلز کے بغیر کام کرتا ہے۔ ٹیم کا اگلا مرحلہ اسے اتنا مضبوط بنانا ہے کہ وہ خلا کی شعاعی تابکاری اور کمپن برداشت کر سکے — اور اس کی درستگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
یہاں ایک احتیاط ضروری ہے: شکل کا فرق (chirality) زندگی کا ممکنہ اشارہ ہے، زندگی کا ثبوت نہیں۔ خود تحقیق کے مصنفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ تجربہ ابھی لیبارٹری کی سطح پر ہے، خلا میں اڑنے والا آلہ نہیں۔ مگر یہ سمت درست ہے۔ مریخ کے نمونے زمین پر لانے والے مشنز اور مشتری و زحل کے برفیلے چاندوں کی تلاش کے اس دور میں، جو آلہ چھوٹا ہو، بجلی کم کھائے اور ایک ایک مالیکیول گن سکے — وہی مستقبل کا سینسر ہے۔ اوساکا کی یہ ٹیم اسی مستقبل کی طرف ایک ٹھوس، قابلِ پیمائش قدم ہے۔


قارئین کے تبصرے (0)