Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

جاپان کا فوبوس مشن: مریخ کے چاند سے مٹی کا پہلا نمونہ — مکمل ٹائم لائن

مریخ کے چاند فوبوس کی رنگین تصویر — گڑھوں والی سطح

کل صبح جاپان خلائی تاریخ کا ایک نیا باب لکھنے جا رہا ہے۔ جاپانی خلائی ادارے جاکسا (JAXA) کا “مارشین مونز ایکسپلوریشن” یعنی MMX مشن 20 اکتوبر کو مریخ کے سب سے بڑے چاند فوبوس کی طرف روانہ ہو گا — اور اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو 2031 میں انسانیت کے پاس پہلی بار مریخ کے کسی چاند کی مٹی کا نمونہ ہو گا۔ آج تک کسی مشن نے مریخ کے چاند پر لینڈنگ نہیں کی۔

20 اکتوبر 2026 — لانچ (آج رات پاکستان میں)

خلائی جہاز مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 41 منٹ پر کاگوشیما صوبے کے تانیگاشیما خلائی مرکز سے ایچ تھری راکٹ پر روانہ ہو گا — پاکستان کے وقت کے حساب سے آج رات 12 بج کر 41 منٹ پر۔ یہ ایچ تھری کی دسویں پرواز ہو گی، جس کے لیے جاکسا نے اکتوبر کے آخر اور نومبر کے اوائل کی متبادل تاریخیں بھی محفوظ رکھی ہیں۔ مشن کی مجموعی لاگت 55.3 ارب ین یعنی تقریباً 35 کروڑ ڈالر ہے۔

اگست 2027 — مریخ کی منزل پر پہنچنا

تقریباً ایک سال کے سفر کے بعد MMX مریخ کے مدار میں داخل ہو گا، اور ایک ماہ بعد فوبوس کے ساتھ ساتھ چلنے والے ایک خاص مدار میں جم جائے گا۔ پھر شروع ہو گا تین سال کا مشاہداتی دور — فوبوس کی نقشہ سازی اور مریخ کے دوسرے، چھوٹے چاند ڈیموس کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

2029 کے آغاز — روور کی تعیناتی

مشن کے ساتھ فرانس اور جرمنی کا مشترکہ بنایا ہوا چھوٹا روور “آئیڈیفکس” بھی ہے، جو 2029 کے آغاز میں فوبوس کی سطح پر اتارا جائے گا۔ یہ روور کم کششِ ثقل والے اس عجیب ماحول میں چلنے پھرنے کی ٹیکنالوجی آزمائے گا — فوبوس کی کششِ ثقل زمین کی دو ہزارویں حصے کے برابر ہے، یعنی وہاں چھلانگ لگائیں تو واپس آنے میں کافی دیر لگے گی۔

2030 — تاریخی لینڈنگ اور نمونہ

اصل کارنامہ 2030 میں ہو گا: تین حصوں پر مشتمل یہ جہاز اپنے چار لینڈنگ پیروں پر فوبوس کی سطح پر ایک یا دو بار اترے گا اور سطح سے کم از کم 2 سینٹی میٹر گہرائی سے مٹی اور چٹانوں کے ٹکڑے جمع کرے گا۔ ہدف کم از کم 10 گرام مواد کا ہے۔ جہاز پر 11 سائنسی آلات نصب ہیں، جن میں جاپان کے نشریاتی ادارے NHK کے ساتھ مل کر بنائے گئے انتہائی واضح کیمرے بھی شامل ہیں۔

2031 — نمونہ زمین پر

واپسی پر جہاز ڈیموس کے پاس سے گزرے گا اور نمونے والا کیپسول آسٹریلیا کے وومیرا صحرا میں اترے گا — وہی صحرا جہاں دسمبر 2020 میں جاپان کے ہایابوسا-2 مشن کا کیپسول بھی اترا تھا۔ یہ خلائی اسٹیشن پر جاری سائنسی مشنوں کے اس دور میں انسانیت کے پاس پہلی بار مریخی نظام کی مٹی ہو گی۔

سائنسدان اس مٹی میں کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟

سب سے بڑا سوال: فوبوس آیا کہاں سے؟ ایک نظریہ کہتا ہے یہ کوئی بھٹکتا ہوا سیارچہ تھا جسے مریخ کی کشش نے پکڑ لیا، دوسرا کہتا ہے یہ مریخ سے کسی بڑے ٹکراؤ کے بعد اڑے ہوئے ملبے سے بنا۔ اب تو تین مختلف نظریات میدان میں ہیں۔ مشن سے وابستہ ناسا کی ٹیم کے ٹام اسٹیٹلر کہتے ہیں کہ اس سوال کا جواب “اس ابتدائی دور کو روشن کرے گا جب زمین اور اندرونی سیارے اپنا پانی اور نامیاتی مرکبات حاصل کر رہے تھے۔” یعنی فوبوس کی مٹی دراصل ہماری اپنی زمین کی پیدائش کی کہانی بھی سنا سکتی ہے۔

راکٹ کی اپنی کہانی بھی دلچسپ ہے

جس ایچ تھری راکٹ پر یہ مشن جا رہا ہے، اس کا ماضی ہموار نہیں رہا — مارچ 2023 میں پہلی پرواز ناکام ہوئی تھی اور دسمبر 2025 میں بھی ایک ناکامی ہوئی، جس کے بعد جون 2026 میں اس نے کامیاب واپسی کی۔ جاپان کے لیے یہ مشن صرف سائنس نہیں، اپنی خلائی ٹیکنالوجی پر اعتماد کی بحالی کا امتحان بھی ہے۔ چین کے خلائی اے آئی منصوبوں اور جاپان کے ہی نینو اے آئی تجربات کے اس دور میں ایشیا کی خلائی دوڑ اب چاند سے آگے مریخ تک پہنچ چکی ہے۔

اگر لانچ کامیاب ہو گیا تو اگلے پانچ سال ہر چند ماہ بعد اس مشن کی کوئی نہ کوئی خبر آتی رہے گی — اور 2031 میں جب وہ چھوٹا سا کیپسول آسٹریلوی صحرا میں اترے گا، تو اس میں بند 10 گرام مٹی اربوں سال پرانی ایک پہیلی کا جواب ہو گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *