کوئٹہ، 12 اکتوبر — پاک فوج کا ایک مشاق تربیتی طیارہ آج دوپہر کوئٹہ کے علاقے نواں کلی کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حادثے میں انسٹرکٹر پائلٹ میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور اسٹوڈنٹ پائلٹ کیپٹن عبدالصمد شہید ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق طیارہ اپنی معمول کی تربیتی پرواز پر تھا کہ اس میں اچانک تکنیکی خرابی پیدا ہوئی، جو حادثے کا سبب بنی۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ میجر حسنین شہزاد ہمایوں مشاق طیارے میں انسٹرکٹر پائلٹ کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے، جبکہ کیپٹن عبدالصمد اسی طیارے میں زیرِ تربیت پائلٹ تھے۔
حادثے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جائے حادثہ کو گھیراؤ میں لے لیا گیا اور قانونی و رسمی کارروائیاں مکمل کی گئیں۔
مشاق پاکستان کا اپنا تیار کردہ بنیادی تربیتی طیارہ ہے، جو پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں بنتا ہے اور سویڈن کے صاب سیفاری کا بہتر ورژن ہے۔ یہ دنیا کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے تربیتی طیاروں میں سے ایک ہے — تقریباً 477 طیارے مختلف ممالک کی افواج میں زیرِ استعمال ہیں، جن میں پاکستان کی فضائیہ اور بری فوج کے علاوہ ترکی، سعودی عرب، قطر اور ایران بھی شامل ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ مشاق تربیتی طیارہ حادثے کا شکار ہوا ہو۔ اسی سال 15 جون کو مردان کے قریب ایک سپر مشاق حادثے میں انسٹرکٹر پائلٹ اور اسٹوڈنٹ پائلٹ دونوں شہید ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے 2020 میں گجرات اور 2016 میں گوجرانوالہ کے قریب بھی اسی طیارے کے حادثے میں پائلٹ شہید ہوئے تھے — ایک تلخ یاددہانی کہ تربیتی پروازیں فوجی ہوا بازی کا سب سے خطرناک مرحلہ ہوتی ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے الگ الگ پیغامات میں دونوں شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا: “ملک کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ہمارے بہادر سپوت قوم کا فخر ہیں۔ پوری قوم شہداء کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔” صدرِ مملکت نے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
اس طرح کے حادثات کے بعد فوجی طریقہ کار کے مطابق حادثے کی وجوہات کی باضابطہ تحقیقات ہوتی ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں تکنیکی خرابی کو وجہ بتایا گیا ہے، تاہم حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی یہ معلوم ہوگا کہ طیارے کے نظام میں کیا خرابی تھی اور کیا اسے پہلے سے روکا جا سکتا تھا۔ قوم کی نظریں اب اس تفتیش اور ان اقدامات پر ہوں گی جو تربیتی پائلٹوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے جائیں گے۔
مزید پڑھیے:

قارئین کے تبصرے (0)