راولپنڈی — پاکستان نے منگل 6 اکتوبر کو فتح-4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کے توسیع شدہ ورژن کا کامیاب تجربہ کر لیا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اعلان کیا کہ یہ میزائل مقامی طور پر تیار کیا گیا ہے، اور اس کا تجربہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں ایک اور اہم پیش رفت ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فتح-4 کا توسیع شدہ ورژن “جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشن سہولتوں” سے لیس ہے، جس کے باعث یہ طویل فاصلے کے اہداف کو “اعلیٰ درستگی اور تباہ کاری” کے ساتھ نشانہ بنا سکتا ہے۔ تجربے میں میزائل کے مختلف سب سسٹمز کے مزید تکنیکی پہلوؤں کی بھی توثیق کی گئی — وہ اضافی نظام جو درستگی بہتر بنانے اور میزائل کی بقا کی صلاحیت بڑھانے کے لیے نصب کیے گئے تھے۔
تجربے کے موقع پر پاکستان آرمی کے سینئر افسران کے ساتھ میزائل تیار کرنے والے ادارے کے سائنسدان اور انجینئر بھی موجود تھے۔ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے تجربے کی کامیابی پر ٹیم کو مبارکباد دی اور ان کی “تکنیکی مہارت، لگن اور عزم” کو سراہا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کامیاب تجربے پر قوم کو مبارکباد پیش کی۔
یہ تجربہ اس سال مئی میں فتح-4 کے کامیاب تربیتی فائر کے بعد اس نظام کا دوسرا بڑا امتحان تھا۔ اس سے پہلے رواں برس آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے فتح-2 میزائل سسٹم کا تربیتی تجربہ کیا تھا، جب کہ پاک بحریہ نے اپریل میں تیمور ایئر لانچڈ کروز میزائل کی کامیاب براہِ راست فائرنگ کی تھی۔ مسلسل تجربوں کا یہ سلسلہ بتاتا ہے کہ پاکستان میزائل پروگرام کو محض برقرار نہیں رکھ رہا، بلکہ اسے باقاعدہ آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ تجربہ کیوں اہم ہے؟ سب سے پہلے تو اس لیے کہ یہ دیسی ساختہ ہے۔ ایک ایسے ملک کے لیے جو دفاعی خریداریوں میں بیرونی انحصار اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے، مقامی طور پر تیار کردہ درستگی سے وار کرنے والا ہتھیار خود ایک بیان ہے۔ دوسرا، اس کی ٹائمنگ۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی ابھی تھمی نہیں — اسی ہفتے وزیر دفاع نے افغان جارحیت کا “فیصلہ کن جواب” دینے کی بات کی ہے — اور مشرقِ وسطیٰ میں بحری ناکہ بندی کے مناظر روزانہ کی خبر ہیں۔ ایسے ماحول میں توسیع شدہ رینج کے کروز میزائل کا تجربہ محض تکنیکی مظاہرہ نہیں؛ یہ روک تھام (ڈیٹرنس) کی وہی پرانی زبان ہے جسے اسلام آباد برسوں سے بولتا آیا ہے، اب ایک نئے، زیادہ درستگی والے ہتھیار کے ساتھ۔
پاکستان کے میزائل تجربے معمول کی مشق ہیں اور اکثر ان کا سیاسی پس منظر ہوتا ہے، لیکن فتح-4 کے توسیع شدہ ورژن کا پیغام خاصا واضح ہے: ملک کے پاس طویل فاصلے تک درستگی سے وار کرنے کی صلاحیت نہ صرف موجود ہے بلکہ اسے مسلسل بہتر بھی بنایا جا رہا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)