اسلام آباد: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فوج کے دستے دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بدھ کے روز دیے گئے انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی اہلکار سعودی سرزمین پر موجود ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا جواب دو ٹوک تھا: “پاکستانی فوجی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔” انہوں نے مزید کہا: “میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ پاکستانی فوجی مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں پہلے سے وہاں موجود ہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں جسے حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے سے جوڑا جائے۔ ان کے الفاظ میں، “مکہ معاہدہ خلا سے نہیں نکلا۔” ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ سفارتی، سیاسی، عسکری اور عوامی روابط ہیں، اور نیا معاہدہ انہی تعلقات کی توسیع ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تینوں ممالک نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کی سمت بڑا قدم اٹھایا ہے۔ پیر کے روز ریاض میں تینوں ممالک کی اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب میں متفقہ فوجی قوتوں اور صلاحیتوں کی فوری تعیناتی یقینی بنائی جائے گی۔ دفتر خارجہ کے ذریعے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق تعیناتی منظور شدہ انتظامات اور ہر ملک کے قومی قوانین کے مطابق ہوگی، تاکہ تیاری، عسکری ہم آہنگی اور مشترکہ استعداد میں اضافہ ہو۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سات اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ اس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف ریاض میں ہونے والے اجلاس میں پاکستانی وفد کا حصہ تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سعودی عرب میں موجود پاکستانی اہلکاروں کی تعداد، ان کی مخصوص صلاحیتوں یا اضافی دستے بھیجنے کے امکان کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشنل تفصیلات ہیں۔ یمن میں حوثیوں کے حوالے سے ممکنہ کردار پر سوال کا جواب بھی انہوں نے نہیں دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب انہوں نے سعودی عرب سے متعلق پاکستان کے عزم کا اظہار کیا ہو۔ ستمبر میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان سفارتی اور عملی دونوں سطحوں پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے، اور حرمین شریفین کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔
یہ بیان کیوں اہم ہے
سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی برسوں سے کھلا راز تھی، مگر فوج کے ترجمان کی سطح پر اس کی اتنی کھلی تصدیق غیرمعمولی ہے۔ اس کے پیچھے دوہرا مقصد نظر آتا ہے: ایک طرف ریاض کو یقین دلانا کہ معاہدہ محض کاغذی نہیں، دوسری طرف خطے کو یہ پیغام دینا کہ پاکستان سعودی سلامتی کو اپنی سلامتی سے الگ نہیں سمجھتا۔ حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کے پس منظر میں یہ بیان دراصل ایک ڈیٹرنس کا کام بھی کرے گا۔ تاہم تعداد اور کردار پر خاموشی یہ بتاتی ہے کہ اسلام آباد ابھی اپنے پتے پوری طرح نہیں کھولنا چاہتا — اور شاید یہی حکمت عملی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مکہ معاہدے کے عملی اقدامات آنے والے ہفتوں میں کیا شکل اختیار کرتے ہیں، اور کیا مزید پاکستانی دستے سعودی عرب روانہ ہوتے ہیں۔ ایک بات البتہ طے ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس انٹرویو کے بعد اس موضوع پر قیاس آرائیوں کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)