Tuesday, 20 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

کاکس بازار: لکڑی کے ریزورٹ میں آتشزدگی، 10 سیاح ہلاک — جون میں “خطرناک” قرار دیا گیا تھا

کاکس بازار میں میرین ڈرائیو اور ساحل کا منظر — فائل تصویر

ہفتے کی صبح تقریباً ساڑھے سات بجے، جب انانی کے پٹورٹیک ساحل پر ٹھہرے ہوئے سیاح ابھی سو رہے تھے، تین منزلہ لکڑی کے ریزورٹ میں آگ بھڑک اٹھی۔ بانس اور لکڑی سے بنا “ٹپ ٹپ ریسٹو اور ریزورٹ” چند ہی منٹوں میں شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا، اور اندر پھنسے ہوئے مہمانوں کے پاس کھڑکیاں توڑ کر چھلانگ لگانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ فائر سروس اور سول ڈیفنس کی تصدیق کے مطابق اس آتشزدگی میں کم از کم دس سیاح ہلاک اور نو دیگر زخمی ہوئے — ہلاک ہونے والوں میں پانچ سال کا ایک بچہ بھی شامل ہے۔

فائر سروس کو صبح 7 بج کر 23 منٹ پر اطلاع ملی۔ قریب ترین فائر اسٹیشن جائے وقوعہ سے تقریباً 22 کلومیٹر دور تھا، اس کے باوجود عملہ تیزی سے پہنچا؛ پولیس، مقامی لوگ اور بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کے اہلکار بھی امدادی کارروائی میں شامل ہوئے۔ آگ کو تقریباً 11 بجے مکمل طور پر بجھا دیا گیا — اس وقت تک تینوں منزلیں راکھ ہو چکی تھیں۔ ریزورٹ میں اس وقت تقریباً 30 مہمان ٹھہرے ہوئے تھے؛ صرف چار سے پانچ افراد باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ کئی نے بچنے کے لیے کھڑکیوں کے شیشے توڑے اور چھلانگ لگا دی۔

شناخت کیے گئے چھ ہلاک شدگان میں عسرت جہاں ملیحہ (30 سالہ، ڈھاکہ کی بناسری سے)، ملیتہ مہجبین علوی (23 سالہ، ایسٹ ویسٹ یونیورسٹی کی طالبہ)، لیلہ جہاں نبیلہ (27 سالہ، جگن ناتھ یونیورسٹی کی طالبہ)، نفیسہ میم (27 سالہ)، فریحہ کبیر (33 سالہ) اور پانچ سالہ فیضان احمد شامل ہیں۔ باقی چار لاشیں اس قدر جل چکی ہیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں — ان میں سے چار تو تیسری منزل کے بیت الخلاء سے برآمد ہوئیں — اور اب ان کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ سے کی جائے گی۔ مقامی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے چائنیز لینگویج اینڈ کلچر کے طالب علم نفیس تہامی بھی شامل ہیں، جن کے خاندان کے کئی افراد بھی اس سانحے میں جان سے گئے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کو مثالی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ زخمیوں میں مگدہ میڈیکل کالج اسپتال کے ڈاکٹر شہاب الدین اور ان کی اہلیہ بھی شامل ہیں؛ پانچ زخمیوں کو جھلسنے کے زخم آئے ہیں جنہیں کاکس بازار صدر اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

لیکن اس سانحے کا سب سے تیکھا پہلو آگ کی وجہ نہیں — وہ انتباہ ہے جو نظرانداز ہوا۔ فائر سروس کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر جنرل سلطان العفرین جنید نے ہفتے کو ڈھاکہ میں پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ جون میں معائنے کے بعد اس ریزورٹ کو “خطرناک” قرار دے کر نوٹس دیا گیا تھا۔ ان کے الفاظ میں: «جون میں معائنے کے بعد اس ریزورٹ کو خطرناک قرار دے کر نوٹس دیا گیا تھا، مگر انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ غیر قانونی طور پر چلتا رہا۔» ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمارت کی تعمیر کے لیے کسی بھی سرکاری ادارے سے کوئی منظوری نہیں لی گئی تھی۔ فائر سروس کے حکام کے مطابق ریزورٹ میں آگ بجھانے کا کوئی آلہ، فائر الارم، ہوز پائپ یا حفاظتی منصوبہ موجود نہیں تھا، اور اس کے پاس فائر سیفٹی لائسنس بھی نہیں تھا۔ فنانشل ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق یہ عمارت صرف سات آٹھ ماہ قبل تعمیر ہوئی تھی اور اس پر ملکیت کا تنازع بھی چل رہا تھا۔ واقعے کے بعد ریزورٹ کا عملہ موقع سے فرار ہو گیا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ سے لگی، جس کے بعد ایئر کنڈیشنر اور گیس کا سلنڈر پھٹ گئے اور شعلے پوری عمارت میں پھیل گئے — یہ بات ریزورٹ کے انچارج نے ڈھاکہ ٹربیون کو بتائی، البتہ حکام نے آگ کی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور فائر سروس نے پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

کاکس بازار بنگلہ دیش کا سب سے بڑا ساحلی سیاحتی مرکز ہے — خلیج بنگال کے کنارے دنیا کا طویل ترین مسلسل ساحلی ساحل، جہاں ہر سال 30 لاکھ سے زائد سیاح آتے ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں کہ یہاں کسی ریزورٹ کو آگ نے لپیٹا ہو: جنوری 2025 میں سینٹ مارٹن آئی لینڈ پر تین ریزورٹ جلے تھے، اور مئی 2026 میں پیسیفک بیچ لاؤنج کے تین کاٹیج اور ایک اسٹور روم خاکستر ہو گئے تھے — تب کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، لیکن خطرے کی گھنٹی بج چکی تھی۔ یہ وہی بنگلہ دیش ہے جہاں خسرے کی وبا نے رواں سال گیارہ سو سے زائد جانیں لی ہیں — سیاحت کی کامیابی کے پیچھے حفاظتی نظام کی یہ دراڑیں اب ہر شعبے میں نظر آ رہی ہیں۔

یہ سانحہ دراصل ایک عمارت کی آگ نہیں — یہ اس نظام کی کہانی ہے جو انتباہ دے کر بھول جاتا ہے۔ فائر سروس نے “خطرناک” قرار دیا، نوٹس دیا، اور عمارت پھر بھی مہمانوں سے بھری رہی: نہ الارم، نہ بجھانے کا سامان، نہ نکلنے کا راستہ۔ اور مہمانوں کو اس کا علم تک نہیں تھا۔ جب معائنے کے بعد بھی کارروائی نہیں ہوتی، تو نوٹس محض کاغذ بن کر رہ جاتے ہیں۔ آج کا اصل سوال یہ نہیں کہ یہ آگ کیسے لگی — اصل سوال یہ ہے کہ جون میں خطرناک قرار پانے والی عمارت اکتوبر میں سیاحوں سے بھری کیسے تھی؟ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ اس کا جواب دے گی — اگر دے سکی تو۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *