رام اللہ: مغربی کنارے کے عیسائی گاؤں طیبہ میں ہفتے کے روز نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے یورپی سفارتکاروں کے ایک وفد پر حملہ کر دیا۔ آبادکاروں نے فرانس، بیلجیئم اور پولینڈ کے سفارتکاروں کی گاڑیوں کو گھیرے میں لے کر ان پر پتھراؤ کیا اور بیلجیئم کے قونصل خانے کی گاڑی کا شیشہ توڑ دیا۔ یہ حملہ زیتون کی فصل کے دورے کے دوران ہوا، اور یہ ایک دن قبل امریکی صحافی پر ہونے والے وحشیانہ حملے کے بعد دوسرا بڑا واقعہ ہے۔
اسرائیلی فوجی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق تقریباً سات نقاب پوش آبادکار کواڈ بائیکس پر آئے، انہوں نے سفارتی گاڑیوں کو گھیرا، شناختی دستاویزات طلب کیں اور پتھراؤ شروع کر دیا۔ ریڈیو کی نشر کردہ ویڈیو میں ایک سفارتکار زمین پر پڑا دکھائی دے رہا ہے۔
ہارٹز اخبار کی رپورٹ کے مطابق حملے میں فرانس کے اولنوا-ایمریز شہر کے میئر برنار بوڈوکس بھی زخمی ہوئے، جو وفد میں شامل تھے۔ طیبہ کے میئر سلیمان خوریہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ یروشلم میں فرانس کے قونصل بھی اس وفد کا حصہ تھے۔ وفد کے ہمراہ موجود کارکن امیت اورفالی کے مطابق آبادکار ڈنڈے لیے ہوئے تھے، انہوں نے قتل کی دھمکیاں دیں اور شناخت کے کاغذات دیکھنے کا مطالبہ کیا۔
اسرائیلی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ مغربی کنارے کے ضلع میں واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور رپورٹ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کو بھیج دی گئی ہے تاکہ متاثرین کا سراغ لگایا جا سکے۔ ابھی تک تینوں یورپی حکومتوں میں سے کسی نے باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
زیتون کی فصل اور بڑھتا تشدد
یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی کنارے میں زیتون کی کٹائی کا موسم چل رہا ہے اور آبادکاروں کے حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ فلسطینی نوآبادیات و دیوارِ مزاحمت کمیشن کے مطابق یکم اکتوبر سے اب تک فصل سے منسلک 136 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جبکہ ACLED کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آبادکاروں کا تشدد ریکارڈ سطح پر ہے۔
ایک روز قبل ہی ابو فلاح گاؤں میں آبادکاروں نے واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر ہائیڈی لوین پر وحشیانہ حملہ کیا تھا، جس میں وہ شدید زخمی ہوئیں۔ اس طرح دو روز میں آبادکاروں نے پہلے ایک امریکی صحافی اور پھر یورپی سفارتکاروں کو نشانہ بنایا ہے — اور دونوں واقعات رام اللہ کے نواحی علاقوں میں پیش آئے۔
ادھر یورپی کونسل نے اپنے حالیہ اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بستیوں کی توسیع کے فیصلے فوراً واپس لے، خاص طور پر متنازع E1 علاقے میں تعمیراتی ٹینڈر، اور کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ E1 کے ٹینڈروں میں بولی نہ لگائیں۔ ان ٹینڈروں پر بولی کی آخری تاریخ 19 اکتوبر ہے۔
تجزیہ: یہ کیوں اہم ہے؟
سفارتکاروں پر حملہ عام شہریوں پر حملے سے ایک قدم آگے کا معاملہ ہے — یہ سفارتی استثنیٰ اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فرانس، بیلجیئم اور پولینڈ تینوں یورپی یونین کے رکن ہیں، اور ان کا ردعمل اسرائیل پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب یورپی کونسل پہلے ہی بستیوں کے معاملے پر سخت موقف اختیار کر چکی ہے۔ دوسری طرف، یہ واقعہ اس سوال کو مزید تیز کرتا ہے کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کو روکنے کے لیے اسرائیلی حکام عملی طور پر کیا کر رہے ہیں — کیونکہ حملہ آور نہ صرف کھلے عام آئے بلکہ ان کے جانے کے بعد بھی گرفتاری کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

قارئین کے تبصرے (0)