راولپنڈی — کاغذ پر آج کا میچ بے معنی ہے۔ سیریز پاکستان 2-0 سے جیت چکا، فیصلہ ہو چکا، اور تیسرا ٹی ٹوئنٹی محض ایک رسم دکھائی دیتا ہے۔ مگر راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شام چھ بجے شروع ہونے والا یہ نام نہاد “ڈیڈ ربر” دراصل اس سیریز کا سب سے اہم میچ ہو سکتا ہے — اس لیے نہیں کہ اس سے سیریز کا نتیجہ بدلے گا، بلکہ اس لیے کہ اس سے پاکستان ٹیم کا مستقبل طے ہوگا۔
اب تک کی کہانی مختصر ہے۔ پہلے میچ میں سری لنکا نے 182 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں کپتان صاحبزادہ فرحان نے 53 گیندوں پر 89 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیل کر سات گیندیں قبل چار وکٹوں سے فتح دلا دی تھی — پہلے میچ میں فرحان کی 89 رنز کی اننگز۔ دوسرے میچ میں پاکستان نے 215 رنز کا پہاڑ کھڑا کیا — فرحان کے 73 اور معاذ صداقت کے 96 رنز — اور سری لنکا کو 82 رنز سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کر لی۔ دو میچ، دو یکطرفہ فتوحات، اور ایک نئے کپتان کے لیے خواب جیسا آغاز۔
مگر آج کے میچ میں ایک پرانا حساب بھی چکتا ہو سکتا ہے۔ 2019ء میں سری لنکا نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان کو تین میچوں کی سیریز میں 3-0 سے وائٹ واش کیا تھا۔ وہ شکست گھر کی سرزمین پر ہوئی تھی اور اس کا زخم پاکستانی کرکٹ کی یادداشت میں ابھی تازہ ہے۔ آج وہی اسکور لائن الٹی سمت میں لکھی جا سکتی ہے — اور اس بار مخالف ٹیم کے کپتان کوسل مینڈس ہیں، جو اب تک دونوں میچوں میں صرف ایک اور نو رنز بنا سکے ہیں۔
اور یہیں سے اصل تجزیہ شروع ہوتا ہے۔ آج کا میچ ایک لیبارٹری ہے۔ پہلی بات: وائٹ واش محض اعداد کا کھیل نہیں، ایک نوجوان کپتان کے لیے نفسیاتی سرمایہ ہے — فرحان پہلی ہی سیریز میں جس اعتماد سے ٹیم چلا رہے ہیں، 3-0 اسے مستقل مزاجی میں بدل دے گا۔ دوسری بات: بینچ کی آزمائش۔ عبدالصمد، رضا اللہ، سفیان مقیم اور محمد عمران رندھاوا جیسے نوجوانوں کے لیے یہ آخری موقع ہو سکتا ہے کہ وہ سلیکٹرز کو مجبور کریں — عمران نے ڈیبیو پر دو وکٹیں اور دوسرے میچ میں چار اوورز میں صرف 11 رنز دے کر تین وکٹیں لے کر پہلے ہی دعویٰ مضبوط کیا ہے۔ تیسری بات: پہلے میچ میں دیے گئے 29 اضافی رنز وہ کمزوری ہے جسے بڑی ٹیموں کے خلاف کوئی معاف نہیں کرے گا، اور آج اس پر قابو پانا بھی ایک امتحان ہے۔
سری لنکا کے لیے یہ عزت کا سوال ہے۔ جنوری میں ڈمبولا میں بارش سے متاثرہ سیریز 1-1 سے برابر رہی تھی، اور فروری کے ورلڈ کپ میں بھی یہ ٹیم پاکستان کو ٹکر دے چکی ہے — یعنی صلاحیت کی کمی نہیں، صرف تسلسل کا مسئلہ ہے۔ مہیش تھیکشانا فارم میں ہیں، اور اگر لنکن باؤلنگ نے آج پاکستان کے جارحانہ ٹاپ آرڈر کو جلدی روک لیا تو میچ دلچسپ ہو سکتا ہے۔
اصل افق البتہ آج سے آگے ہے۔ 18 اکتوبر سے انگلینڈ بھی اسی میدان میں اترے گا اور ون ڈے سہ ملکی سیریز شروع ہوگی، جہاں بابر اعظم اور شاہین آفریدی واپس آ رہے ہیں — یعنی آج چمکنے والا نوجوان دراصل اپنی لمبی دوڑ کی ٹکٹ کاٹ رہا ہے۔ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی کو نوجوانوں کے حوالے کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا، آج اس کی پہلی قسط کا اختتام ہے۔
میچ شام چھ بجے شروع ہوگا، ٹاس ساڑھے پانچ بجے۔ پاکستان میں براہِ راست نشریات پی ٹی وی اسپورٹس پر اور اسٹریمنگ پی سی بی لائیو ایپ، ٹیپ میڈ اور تماشہ پر دستیاب ہوگی۔
ٹاس میں ابھی گھنٹے باقی ہیں۔ فرحان کی نوجوان ٹیم کے پاس آج کھونے کو کچھ نہیں — سوائے اس موقع کے جو ہاتھ سے نکل جائے تو پھر نہیں آتا۔

قارئین کے تبصرے (0)