تہران — ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں خام تیل سے لدا ایک سپر ٹینکر سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر خوفناک آگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جہاز میں 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل موجود تھا۔
آئی آر جی سی کی بحریہ کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹینکر آبنائے کے اس راستے سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا جسے تہران نے “غیر مجاز” قرار دے رکھا ہے۔ بیان کے مطابق جہاز نے اپنے نیوی گیشن، پوزیشننگ اور ریڈار نظام دانستہ طور پر بند کر رکھے تھے تاکہ ایرانی سمندری حکام کی نظر سے بچا جا سکے۔
ایرانی دعوے کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ آگ کے شعلے ساحلی علاقوں سے بھی صاف دیکھے جا سکتے تھے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹینکر امریکی فوج کی پشت پناہی میں آبنائے عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
بیان میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا گیا: “آبنائے ہرمز بند ہے۔” آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ ایرانی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا، اور جو بھی جہاز اپنے نیوی گیشن اور شناختی نظام بند کر کے گزرے گا اسے “دشمن” سمجھا جائے گا۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ ایران نے نہ جہاز کا نام بتایا، نہ اس کا جھنڈا، مالک یا عملے کی تعداد — اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ عملے کے ارکان محفوظ ہیں یا نہیں۔ الجزیرہ اور اناطولیہ سمیت متعدد ذرائع نے لکھا ہے کہ اس واقعے کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں آگ میں گھرا ٹینکر دکھایا گیا ہے، مگر اس فوٹیج کی بھی آزاد تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ واقعہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر بارودی سرنگوں کے حملوں کے ایک خطرناک سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ اسی ہفتے بدھ کے روز متحدہ عرب امارات کی ملکیت ایک کارگو بحری جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا کر ڈوب گیا تھا، جبکہ سنگاپور کے جھنڈے والا کنٹینر بردار جہاز “جی ایف ایس پرائیڈ” بھی اسی ہفتے ایک پروجیکٹائل لگنے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آیا تھا — اس کے 21 عملے کے ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخر سے یہ تیسرا ٹینکر ہے جو “غیر مجاز” راستے پر بارودی سرنگ سے ٹکرایا ہے۔ جمعے کو ایرانی فوج کی بحریہ نے آبنائے کے مشرق میں ایک اور “خلاف ورزی کرنے والے” تیل بردار جہاز میں آگ لگنے کی خبر بھی دی تھی۔
اس سارے پس منظر میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر اچھل پڑی ہیں — جمعے کو برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل کو چھو گئی، جو مئی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کے تیل کی شاہرگ ہے — جنگ سے پہلے عالمی سطح پر تجارت ہونے والے خام تیل اور ایل این جی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔ پاکستان اپنی ضرورت کا بیشتر پٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے، اور عالمی قیمتوں میں ہر اضافہ براہِ راست یہاں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے، جن پر حکومت ہر پندرہ روز بعد نظرثانی کرتی ہے۔ 110 ڈالر فی بیرل پر کھڑا برینٹ آنے والے دنوں میں پاکستانی صارفین کی جیب پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔
دوسری طرف خلیجی کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے — جمعے کو یمن کے عدن ایئرپورٹ پر دو میزائل گرے تھے جبکہ سعودی اتحاد نے ینبع کی جانب آنے والے ایک بیلسٹک میزائل، بحیرہ احمر پر دو کروز میزائلوں اور متعدد ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایسے میں آبنائے ہرمز میں ایک جلتا ہوا سپر ٹینکر اس بھڑکتی آگ میں مزید تیل ڈالنے کے مترادف ہے، اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)