بحیرہ اسود میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے — رومانیہ کے علاقائی پانیوں میں رات کے وقت لنگر انداز دو کیمیکل ٹینکروں میں آگ لگ گئی ہے، اور ایک جہاز کے آٹھ ملاح لاپتہ ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب بحری جہازوں پر حملوں کا یہ سلسلہ نیٹو رکن ملک کے پانیوں تک پہنچا ہے۔
رائٹرز کے مطابق رومانیہ کے بحری حکام کو سین مارینو کے پرچم والے کیمیکل ٹینکر “وائن ٹریڈر” سے ایمرجنسی الرٹ موصول ہوا۔ اس کے 12 رکنی عملے میں سے 8 لاپتہ ہیں جبکہ 4 محفوظ ہیں۔ چینل نیوز ایشیا کے مطابق 7 ملاح لاپتہ اور 5 بچائے گئے ہیں — متضاد اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صورتحال ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس سے پہلے بدھ کی دیر رات کوموروس کے پرچم والے کیمیکل اور تیل کے ٹینکر “یارا جے” میں بھی آگ لگی تھی، تاہم اس کے تمام ملاح محفوظ ہیں۔ رومانیہ کے حکام نے ابتدائی طور پر یہ نہیں بتایا کہ آیا یارا جے پر حملہ ہوا تھا یا نہیں۔
رومانیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ روسی ڈرونز رومانیہ کی فضائی حدود میں داخل ہوئے، لیکن وہ آگ لگنے کے ان واقعات کو براہ راست ڈرونز سے جوڑنے سے گریز کر رہے ہیں۔ دونوں جہاز ڈینیوب دریا کی سولینا نہر کے منہ کے قریب لنگر انداز تھے — یہ وہ اہم بحری راستہ ہے جسے یوکرین استعمال کرتا ہے کیونکہ روس نے یوکرین کی بحیرہ اسود کی بندرگاہوں پر حملے کر رکھے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ موسم اور بھیڑ کی وجہ سے گزرنے میں تاخیر کے باعث جہاز اس مقام پر لنگر انداز تھے۔
ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔ رومانیہ کی وزارت داخلہ نے سرچ اور ریسکیو مشن کے لیے دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور طبی عملے کے ساتھ دو بحری جہاز بھیجے ہیں۔ وزارت کے ایک بیان میں کہا گیا کہ “اس وقت بہت اونچی لہروں کی وجہ سے ریسکیو محفوظ طریقے سے نہیں کیا جا سکتا”۔
یہ واقعات پچھلے دس دنوں میں رومانیہ اور پڑوسی نیٹو رکن بلغاریہ کے ساحلوں کے قریب کم از کم پانچ دیگر کارگو جہازوں پر ڈرون حملوں کے بعد سامنے آئے ہیں، جن میں کم از کم 23 ملاح ہلاک ہوئے۔ ان تمام حملوں میں ایک بنیادی فرق تھا — وہ نیٹو کے علاقائی پانیوں سے باہر ہوئے تھے۔ آج کے واقعات میں یہ فرق ختم ہو گیا ہے۔
یہ کشیدگی عالمی خوراک کی صورتحال کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ روس اور یوکرین دونوں اناج کے بڑے برآمدکنندگان ہیں۔ رومانیہ کی یوکرین کے ساتھ 614 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جس کا بڑا حصہ ڈینیوب کے ساتھ ہے، اور اس نے پچھلے چار برسوں میں اپنی فضائی حدود میں روسی ڈرونز کی بار بار خلاف ورزی کی شکایت کی ہے۔
غور طلب ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ روس کے تازہ حملوں کے بعد وہ روس کی تیل کی ریفائنریوں پر حملے دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحیرہ اسود کی شپنگ جنگ، جسے پہلے یوکرین کی بندرگاہوں تک محدود سمجھا جاتا تھا، اب علاقائی پانیوں، اناج کی ترسیل اور نیٹو کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں تک پھیل رہی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)