صوفیہ — بحیرہ اسود اب جنگ کا ایک اور محاذ بنتا جا رہا ہے۔ بلغاریہ کے ساحل سے صرف چند میل کے فاصلے پر راتوں رات ڈرون حملوں میں دو کارگو بحری جہاز نشانہ بنے، جن میں سے ایک ڈوب گیا اور گیارہ ملاح اب بھی لاپتہ ہیں۔
بلغاریہ کے وزیراعظم رومن رادو نے منگل کو ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں واقعے کی تصدیق کی۔ ان کے بقول مالٹا کے پرچم والا جہاز “چیلسی 3″، جو یوکرین کی ایک کمپنی کی ملکیت ہے اور اوڈیسا میں رجسٹرڈ ہے، کو تین فضائی ڈرونز نے ساحل سے تقریباً 18 ناٹیکل میل (33 کلومیٹر) کے فاصلے پر نشانہ بنایا۔ حملہ پیر اور منگل کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے (پاکستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے تین بجے) ہوا۔
چیلسی 3 کے تمام پندرہ ملاحوں کو بحفاظت بچا لیا گیا — ان میں سات یوکرینی اور آٹھ آذربائیجانی شہری شامل ہیں۔ بلغاریہ کے حکام کے مطابق پانچ ملاحوں کو معمولی زخموں پر طبی امداد دی گئی، کسی کی حالت تشویشناک نہیں۔
اسی رات دوسرا جہاز بلغاریہ کے ساحلی گاؤں کراپیٹس سے تقریباً 17 ناٹیکل میل کے فاصلے پر نشانہ بنا۔ یہ جہاز ڈوب گیا۔ اس کے پانچ ملاحوں کو بچا لیا گیا، جبکہ گیارہ اب بھی سمندر میں لاپتہ ہیں اور تلاش جاری ہے۔ بلغاریہ کے میڈیا نے ڈوبنے والے جہاز کی شناخت “آزوف کانکورڈ” کارگو جہاز کے طور پر کی ہے، جس کا مینیجر ترکی میں ہے — تاہم حکومت کی طرف سے اب تک باضابطہ شناخت کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وزیراعظم رادو نے کہا: “یہ بالکل ناقابلِ قبول ہے — بلغاریہ کے علاقائی پانیوں کے بالکل قریب ایک اور حملہ۔” انہوں نے منگل کو سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا۔
حملہ آور کون تھا؟ اس سوال کا جواب ابھی تک واضح نہیں۔ رادو نے کہا کہ حملے کا کسی فریق سے تعلق ہونے کا کوئی ٹھوس اور حتمی ثبوت نہیں ملا، لیکن “منطق کہتی ہے کہ اس کا نتیجہ روسی فیڈریشن کے فائدے میں ہے۔” انہوں نے اعلان کیا کہ بلغاریہ روس کے سفیر کو طلب کرے گا، اور وہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے سے بات کریں گے۔ صوفیہ نے نیٹو اور یورپی یونین میں اپنے مستقل نمائندوں کو بھی آگاہ کر دیا ہے اور فضائی و سمندری نگرانی بہتر بنانے کے لیے مدد مانگی ہے۔ ماسکو کی طرف سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فون ڈیر لائن نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا: “بحیرہ اسود روس اور یوکرین کی جنگ میں کشیدگی کا ایک اور محاذ بن چکا ہے۔ ذمہ داروں کو جوابدہ ہونا چاہیے۔” یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سبیہا نے ایکس پر لکھا کہ “بحیرہ اسود عالمی غذائی تحفظ کی شہ رگ ہے۔ روس اس پر حملہ کر کے بھوک کو ہتھیار بنا رہا ہے۔”
یہ ایک ہفتے کے اندر بحیرہ اسود میں بحری جہاز پر دوسرا مہلک حملہ ہے — گزشتہ ہفتے بحیرہ اسود میں تیل بردار جہاز آفرامیکس ریو پر ڈرون حملہ ہوا تھا جس میں سوار 23 بھارتی ملاحوں کو بحفاظت بچا لیا گیا تھا۔
یہ کیوں اہم ہے؟
اس حملے کو صرف ایک اور بحری حادثہ سمجھنا غلط ہوگا۔ بلغاریہ نیٹو کا رکن ہے — اس کے علاقائی پانیوں کے قریب سویلین جہازوں پر ڈرون حملے براہِ راست جنگ کے پھیلاؤ کا سوال اٹھاتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ صوفیہ نے فوری طور پر نیٹو اور یورپی یونین کو آگاہ کیا۔ دوسری طرف بحیرہ اسود وہ راستہ ہے جس سے یوکرین کا اناج اور خوراک دنیا بھر کو پہنچتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایک ہفتے کے اندر بحری جہاز کے ڈوبنے کا یہ دوسرا مہلک واقعہ ہے — محض پانچ روز پہلے آفرامیکس ریو کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تجارتی جہاز رانی اب منظم مہم کا ہدف بنتی جا رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ رکا نہیں تو نہ صرف اناج کی قیمتوں پر دباؤ بڑھے گا بلکہ نیٹو اور روس کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ بھی سنگین ہو جائے گا — وہ بھی ٹرمپ کی “توانائی جنگ بندی” کا اعلان کے باوجود۔

قارئین کے تبصرے (0)