اہم نکات
- کیا ہوا: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ روس اور یوکرین توانائی کی تنصیبات پر حملے فوراً روک دیں گے۔
- یوکرین کا ردعمل: صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسوس کو کہا «یہ پہلی بار ہے جب میں اس کے بارے میں سن رہا ہوں» — لیکن مشروط آمادگی ظاہر کی کہ روس راضی ہو تو یوکرین بھی راضی ہو جائے گا۔
- روس کی پوزیشن: ماسکو کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
- فرانس: صدر ایمانوئل میکرون نے «حقیقی توانائی جنگ بندی» کی حمایت کا اعلان کیا۔
- سوال برقرار: اعلان کے بعد بھی خارکیف میں بجلی گھر پر روسی حملے کی اطلاعات — جنگ بندی کاغذ پر ہے یا زمین پر بھی؟
کیف/واشنگٹن — امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کا معاہدہ ہو گیا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر لکھے گئے پیغام میں انہوں نے کہا کہ «فوری طور پر، روس اور یوکرین کی جنگ میں توانائی کی جنگ بندی نافذ ہے۔ دونوں فریق راضی ہو گئے ہیں۔ اس کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔»
مگر کہانی اس اعلان کے چند گھنٹے بعد الٹ گئی۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکی آن لائن میڈیا ایکسوس کو انٹرویو میں کہا کہ یہ خبر ان کے لیے نئی ہے۔ «یہ پہلی بار ہے جب میں اس کے بارے میں سن رہا ہوں،» انہوں نے کہا، «لیکن اگر روس توانائی کی جنگ بندی پر راضی ہو جائے تو یوکرین بھی راضی ہو جائے گا۔» بعد ازاں زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یوکرین ایسی جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے، مگر اصل بات یہ ہے کہ روس بھی اس کی حمایت کرے — اور ان کے الفاظ میں وہ امریکہ کی جانب سے تفصیلات کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کا یہ اعلان اسی روز آیا جس دن زیلنسکی نے امریکہ کے اس دباؤ کو ایک بار پھر مسترد کیا تھا کہ یوکرین یکطرفہ طور پر روسی آئل ریفائنریوں پر حملے بند کرے۔ زیلنسکی کا موقف دیرینہ ہے: یوکرین روسی ریفائنریوں پر حملے روکنے کو تیار ہے، بشرطیکہ ماسکو بھی یوکرین کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانا بند کرے۔ «جنگ روکنا آج سے بھی ممکن ہے، لیکن پوٹن ایسا نہیں چاہتے،» انہوں نے کہا۔
روس کی جانب سے ٹرمپ کے دعوے پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا۔ زمینی صورتحال بھی اعلان سے میل نہیں کھا رہی۔ زیلنسکی نے اتوار کی شام اپنے ویڈیو خطاب میں کہا کہ ٹرمپ کے اعلان کے بعد بھی روس نے یوکرین کی توانائی تنصیبات پر حملے جاری رکھے، جن میں ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیف کے ایک کمبائنڈ ہیٹ اینڈ پاور پلانٹ پر حملہ بھی شامل ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے البتہ اتوار کو «حقیقی توانائی جنگ بندی» کی حمایت کا اعلان کیا، جس سے یورپی دارالحکومتوں میں اس خیال کو کچھ وزن ملا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے توانائی کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہو۔ ستمبر کے وسط میں بھی انہوں نے ایسی ہی خبر دی تھی، جس کی نہ ماسکو نے تصدیق کی نہ کیف نے۔ اب دوسری بار اعلان سامنے آیا ہے — اور پھر ایک فریق «پہلی بار سن رہا» ہے۔
یہ معاملہ کیوں اہم ہے
معاملے کا پس منظر دو محاذوں پر کھلتا ہے۔ پہلا، سردیاں قریب ہیں۔ روس اور یوکرین دونوں ایک دوسرے کے بجلی گھروں اور آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ سردیوں میں مخالف کو توانائی کے بحران میں دھکیلا جا سکے۔ ایسے میں تنصیبات پر حملے روکنا یوکرین کے عام شہریوں کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔
دوسرا، یہ اعلان امریکی سیاست سے بھی جڑا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں زیلنسکی پر سخت دباؤ ڈالا ہے کہ وہ روسی ریفائنریوں پر حملے روکیں، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے ڈیزل مہنگا ہوا ہے — اور یہ اضافہ اگلے ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ہفتے کو ٹرمپ نے زیلنسکی کو خبردار بھی کیا تھا کہ وہ «بہتر ہوگا کہ حملے فوراً بند کریں» اور یوکرینیوں سے کہا کہ وہ نئے انتخابات کے ذریعے ان کی جگہ کسی ایسے رہنما کو لائیں جو ماسکو سے معاہدہ کر سکے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں شکایت پیدا ہوتی ہے: کیا یہ اعلان زمینی حقیقت ہے یا ٹروتھ سوشل پر کی گئی ایک یکطرفہ سیاست؟ زیلنسکی نے دروازہ بند نہیں کیا — ان کی مشروط آمادگی نے گیند اب ماسکو کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔ اگر روس رضامندی ظاہر کرتا ہے تو یہ جنگ بندی سردیوں سے پہلے کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن خارکیف کے بجلی گھر پر حملے کی اطلاعات بتاتی ہیں کہ ابھی زمین پر کچھ نہیں بدلا۔ اگلے چند دن بتائیں گے کہ یہ اعلان کاغذی رہا یا واقعی گرم موسم سرما کی ٹھنڈک لائے گا۔


قارئین کے تبصرے (0)