امریکا اور یوکرین کے تعلقات ایک نئے اور خطرناک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں کہا کہ یوکرین کو صدر ولودیمیر زیلنسکی کی جگہ نیا رہنما لانا چاہیے۔
ٹرمپ نے کہا: “میں یہی تجویز کرتا ہوں کہ وہ ایک نیا رہنما لائیں جو معاہدہ کر سکے، کیونکہ زیلنسکی کئی معاہدے کر سکتا تھا اور کسی وجہ سے وہ کبھی نہیں کرتا۔ میرے خیال میں یوکرین کے لیے نیا صدر لانے کا وقت آ گیا ہے۔”
امریکی صدر کی یہ تلخ بات چیت اس وقت سامنے آئی جب یوکرینی صدر نے جمعے کے روز اعلان ہونے والے امریکا-روس ڈیزل معاہدے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس معاہدے کے تحت روس فوری طور پر تین لاکھ ٹن اور نومبر میں مزید پانچ لاکھ ٹن ڈیزل عالمی منڈیوں کو فراہم کرے گا، اور امریکا نے روسی ڈیزل پر عائد پابندیوں میں عارضی چھوٹ بھی دے دی ہے۔
زیلنسکی نے اس معاہدے کو “واضح کمزوری” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پابندیوں میں نرمی روس کو جنگ جاری رکھنے کے لیے نئے وسائل فراہم کرے گی۔ ان کے الفاظ میں، یہ پیوٹن کے لیے ایک تحفہ ہے اور ماسکو اس کا جواب مزید بمباری سے دے گا۔
ٹرمپ کو سب سے زیادہ غصہ یوکرین کے روسی تیل ریفائنریز پر جاری حملوں پر ہے۔ امریکی صدر کے مطابق انہوں نے زیلنسکی سے بار بار کہا کہ “تم روس کے ساتھ جو چاہو کرو، لیکن ریفائنریز کو مت مارو” — مگر یوکرین نے حملے جاری رکھے۔ ٹرمپ نے کہا: “وہ دنیا کے لیے مسائل پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اسے یہ سلسلہ فوراً روکنا چاہیے۔”
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ زیلنسکی “اپنے ملک کا 30 فیصد حصہ کھو چکا ہے” — اگرچہ آزاد اندازوں کے مطابق روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 20 فیصد رقبے پر قابض ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ میں اب تک 20 لاکھ سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
یورپ بھی اس معاملے میں یوکرین کے ساتھ کھڑا نظر آیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس نے زیلنسکی کی تنقید کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں میں نرمی “روس کو جنگ کے لیے مزید آمدنی فراہم کرے گی” اور “اب روس پر دباؤ کم کرنے کا وقت نہیں ہے”۔ یورپی وزرائے خارجہ پیر کے روز روس پر اب تک کا سب سے بڑا پابندیوں کا پیکج منظور کرنے والے ہیں۔
دوسری طرف فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف نے یوکرینی حکام کو خبردار کیا ہے کہ اگر ریفائنریز پر حملے جاری رہے تو امریکا انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی بند کر دے گا۔ زیلنسکی نے جوابی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین روسی ریفائنریز پر حملے روک دے گا اگر روس یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بمباری بند کر دے۔
یہ تنازع صرف الفاظ تک محدود نہیں رہا۔ یوکرینی حکام کے مطابق ہفتے کے روز روسی فضائی بمباری سے زاپوریژیا کے علاقے میں رہائشی عمارتیں نشانہ بنیں اور کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین بچے بھی شامل تھے۔ کییف پر بھی میزائل حملے ہوئے۔
یہ امریکا-یوکرین تعلقات میں اب تک کا سب سے سنگین دڑار ہے۔ ایک طرف ٹرمپ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں، دوسری طرف یوکرین کو خدشہ ہے کہ واشنگٹن ماسکو کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔ اگر امریکا نے واقعی انٹیلی جنس کی فراہمی روک دی تو یوکرین کی جنگی صلاحیت پر براہِ راست اثر پڑے گا — اور یہی وہ نکتہ ہے جو اس بیان بازی کو محض الفاظ سے کہیں زیادہ اہم بنا دیتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)