سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں لڑنے والے اتحاد کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز حوثیوں نے دارالحکومت ریاض اور صنعتی شہر ینبع سمیت ملک کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، اور تمام آنے والے میزائل اور ڈرون فضائی دفاعی نظام سے تباہ کر دیے گئے۔
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ حالیہ گھنٹوں میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اہم صنعتی شہر ینبع کے اوپر ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کیا گیا۔ ان کے مطابق بحیرہ احمر کے اوپر کروز میزائل روکنے کی کارروائی میں دو میزائل تباہ کیے گئے، جبکہ جنوبی علاقوں اور ریاض میں تین ڈرون بھی فضا میں روکے گئے۔
المالکی نے لکھا: “ہم نے جنوبی علاقے اور ریاض میں تین ڈرون تباہ کیے… اور بحیرہ احمر کے اوپر دو کروز میزائل تباہ کیے۔” انھوں نے مزید بتایا کہ “گزشتہ گھنٹوں میں ہم نے ینبع کے اوپر ایک بیلسٹک میزائل بھی روک کر تباہ کیا۔”
ینبع سعودی عرب کے مغربی ساحل پر بحیرہ احمر کے کنارے واقع ایک کلیدی صنعتی مرکز ہے، جہاں تیل کی برآمد کے لیے اہم بندرگاہ اور پیٹرو کیمیکل تنصیبات موجود ہیں۔ یہ شہر ایک بڑی تیل پائپ لائن کا بھی آخری سرے والا اسٹیشن ہے — اس لیے اس کی طرف بیلسٹک میزائل کا داغا جانا اس جنگ میں حوثیوں کے دائرہ کار کی وسعت کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
اتحاد نے کسی فوری جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔ یہ حملے اسی روز ہوئے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جمعرات کو حوثیوں کے سعودی عرب پر جاری حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کر چکی تھی اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی توثیق کی تھی۔ سلامتی کونسل نے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف خطرات کی بھی مذمت کی۔
اس سے ایک روز پہلے، یعنی جمعرات کو حوثیوں نے یمن کے شہر عدن میں صدارتی محل المااشیق پر پانچ بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا، جس میں بعد ازاں ہلاکتوں کی تعداد پانچ اور زخمیوں کی تعداد سولہ تک پہنچ گئی۔ یمن کے وزیر صحت قاسم بوہیبہ کے مطابق متاثرین میں محل کی حفاظت پر مامور اہلکار اور سول ملازمین شامل ہیں۔ وزیراعظم شایہ زندانی اور ان کے کابینہ ارکان محفوظ رہے۔
حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کے سعودی اہداف پر حملوں میں شدت آئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق صرف رواں ماہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو کم از کم بیس بار نشانہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ گزشتہ ہفتے اسی ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک حملے میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے — جو ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر مہلک ترین حملہ تھا۔
پاکستان کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے: سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی محنت کش اور پیشہ ور افراد مقیم ہیں، اور خطے میں کشیدگی کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں کا اضافہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں پر دباؤ ڈالتا ہے، اور پہلے ہی پی آئی اے کو ریاض کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل کرنا پڑ چکی ہیں۔ جتنی دیر یہ کشیدگی جاری رہے گی، اتنا ہی تیل کی ترسیل اور علاقائی فضائی سفر متاثر رہے گا۔
حوثیوں نے ابھی تک جمعے کے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے یا ان سے انکار کا کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

قارئین کے تبصرے (0)