یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں جمعرات کو حوثی باغیوں نے المعاشیق صدارتی محل پر پانچ میزائل داغ دیے۔ یمنی صحت کے حکام کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔ المعاشیق محل بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا ہیڈکوارٹر ہے — اور جولائی میں سالوں سے جاری جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد اس کمپلیکس پر یہ پہلا براہِ راست حملہ ہے۔
مقامی رہائشیوں نے جمعرات کو زوردار دھماکوں کی آوازیں سنیں اور اے ایف پی کے صحافی نے محل کی عمارت سے دھواں اٹھتا دیکھا۔ تین مقامی پولیس ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ حوثی میزائلوں نے المعاشیق صدارتی محل کو ہی نشانہ بنایا۔ اے پی کی ابتدائی رپورٹ میں دو ہلاک اور چھ زخمی بتائے گئے تھے، مگر بعد میں صحت کے حکام نے ہلاکتوں کی تازہ تعداد پانچ اور زخمیوں کی 16 بتائی۔
حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ انہوں نے “المعاشیق محل میں سعودی افسران کی زیرِ قیادت فوجی آپریشنز کے ہیڈکوارٹر” کے ساتھ ساتھ ان افسران کے اسلحے کے ڈپووں کو نشانہ بنایا۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق یہ حملہ سعودی اتحادی افواج کے خلاف جاری کارروائیوں کا حصہ ہے۔
دوسری طرف یمنی وزیرِ اطلاعات معمر الاریانی نے تصدیق کی کہ حملہ پانچ میزائلوں سے کیا گیا اور وزیراعظم شائع الزندانی سمیت کابینہ کے تمام وزرا محفوظ ہیں۔ ایک وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے کے وقت وزیراعظم خود محل میں موجود تھے، لیکن “انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا”۔
اسی دن یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے تیل سے مالا مال وسطی شہر مأرب کی طرف بھی کئی بیلسٹک میزائل داغے۔ یمن کی طویل خانہ جنگی جولائی میں اس وقت پھر بھڑک اٹھی تھی جب سالوں سے جاری جنگ بندی ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں وسیع رقبے قبضے میں لے لیے اور سعودی عرب پر میزائل و ڈرون حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا۔ سعودی جوابی فضائی حملے اور حکومتی جوابی کارروائی اب تک حوثیوں کی پیش قدمی کو نہیں روک سکی۔
ریاض نے جمعرات کو ایران کو موردِ الزام ٹھہرایا، کہا کہ تہران حوثیوں کو اسلحہ فراہم اور تربیت دے کر تنازعے کو بھڑکا رہا ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ حوثی 2015 سے سعودی قیادت والے اتحاد کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، مگر جنگ اس سال فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایک وسیع تر علاقائی محاذ میں تبدیل ہو چکی ہے۔
یہ حملہ کیوں اہم ہے: عدن اب تک یمن کی تسلیم شدہ حکومت کا نسبتاً محفوظ ٹھکانا سمجھا جاتا تھا۔ اس کے ہیڈکوارٹر پر براہِ راست میزائل حملہ اس تاثر کو توڑتا ہے — اور ظاہر کرتا ہے کہ حوثیوں کی میزائل رسائی اب یمن کے جنوب تک پھیل گئی ہے۔ ریاض کے ہوائی اڈے اور آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کے بعد اب جنگ حکومت کے اپنے دروازے تک پہنچ گئی ہے، جس سے امن کی کسی بھی کوشش کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ پاکستانی قارئین کے لیے یہ خبر دو وجوہات سے جڑی ہے: یمن میں کشیدگی تیل کی منڈی کو متاثر کرتی ہے، اور سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانی اس محاذ کے براہِ راست پڑوسی ہیں۔
مزید پڑھیے
- آرامکو ہیڈکوارٹر پر میزائل حملہ — دھران میں آگ، ریاض میں 4 زخمی
- مدینہ منورہ کے علاقے میں کروز میزائل تباہ — سعودی اتحاد کا دعویٰ، حوثیوں کی تردید
تصحیح: اس خبر کے پہلے ورژن میں 4 ہلاک اور 10 زخمی کہا گیا تھا۔ یمنی صحت کے حکام کے تازہ اعداد و شمار میں 5 ہلاک اور 16 زخمی کی تصدیق کے بعد اسے درست کر دیا گیا ہے۔ 16 اکتوبر 2026

قارئین کے تبصرے (0)