سعودی عرب کی وزارتِ توانائی نے بدھ کی صبح تصدیق کی ہے کہ منگل کی شام حوثیوں کے حملے میں مشرقی شہر دھران میں تیل کی دیو قامت کمپنی آرامکو کی ایک انتظامی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس سے “محدود آگ” لگی، تاہم کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بیلسٹک میزائل آرامکو کے ہیڈکوارٹر کمپلیکس سے ٹکرایا — آفس ٹاور کی اوپر کی تین منزلوں کو نقصان پہنچا، عمارت میں آگ لگ گئی اور انخلا کا حکم جاری کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آرامکو کے ملازمین کو بدھ کے روز گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اسی رات سعودی دارالحکومت ریاض میں بھی دو تباہ شدہ حوثی کروز میزائلوں کے ملبے سے چار افراد — دو خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ — زخمی ہو گئے جبکہ پندرہ گھروں کو نقصان پہنچا۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا اور ملبے کی صفائی کے بعد علاقے کو محفوظ قرار دے دیا گیا۔
منگل کی شام سعودی قیادت والے اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ریاض سمیت کئی اہداف کی طرف داغے گئے متعدد میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے۔ سی این این کے مطابق تین کروز میزائل اور دو ڈرون ریاض اور جنوبی علاقوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ریاض کے رہائشیوں کے موبائل فونز پر الرٹ آیا جس میں کہا گیا تھا: “ریاض شہر کو فضائی خطرے کا سامنا ہے”۔ ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے ایک مال کے اوپر سے گزرتے ہوئے میزائل دیکھا — “پیلے رنگ کی روشنی کی لکیر اور پھر دھوئیں کا نشان، اور پھر دھماکہ ہوا”۔ گمنام رہنے کی درخواست کرتے ہوئے اس نے کہا: “لوگ خاموش تھے، کوئی بات نہیں کر رہا تھا۔ ہم ڈرے ہوئے تھے اور سب آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔”
جواب میں سعودی اتحاد نے منگل کو یمن میں حوثیوں کے تیل کے ٹھکانوں پر بڑے حملے کیے — دارالحکومت صنعاء اور مغربی صوبوں دمار اور صعدہ میں ان سہولیات کو نشانہ بنایا گیا جو اتحاد کے بقول “مملکت، یمن، جنوبی بحیرہ احمر اور آبی گزرگاہوں کو خطرے میں ڈالنے” کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔ صنعاء میں جولائی میں جنگ کے دوبارہ بھڑکنے کے بعد پہلی بار انخلا کا حکم جاری کیا گیا، اور صنعاء کے نواح میں یمن پیٹرولیم کمپنی کی سباحا سینٹرل اسٹیشن نامی ایندھن کی سہولت پر حملہ کیا گیا۔ حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں دو شہری ہلاک اور دو زخمی ہوئے، تاہم اس دعوے کی آزاد تصدیق نہیں ہوئی۔
حملے سے پہلے حوثیوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر اتحاد نے حملہ کیا تو وہ ریاض کے ایئرپورٹ، ایک ریفائنری اور دمام میں آرامکو کی سہولت کو نشانہ بنائیں گے، اور شہریوں کو ان مقامات سے دور رہنے کا کہا تھا۔
یہ ایک ہفتے کے دوران حوثیوں کی سعودی اہداف پر تازہ ترین کارروائی ہے — ہفتے کو ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر میزائل حملے میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے، جو ایک دہائی میں سعودی سرزمین پر سب سے مہلک حملہ تھا۔ ایئرپورٹ سترہ اکتوبر تک بند ہے اور سیکڑوں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: “حوثی بہت برا سلوک کر رہے ہیں” — ان کے بقول وہ “شاید ایران کے اشارے پر” یہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا: “میں انتخابات کے بعد وہاں ہوں گا، اور میں کبھی نہیں بھولوں گا!” دوسری طرف حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی اہداف کے خلاف مہم کا مقصد ولی عہد کو یہ پیغام دینا تھا کہ “وہ اب محفوظ مقام سے یمن کے خلاف جارحیت نہیں کر سکتے”۔
آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر حملہ محض ایک اور رات کے تبادلے سے کہیں آگے ہے۔ آرامکو دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی اور سعودی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے — اب تک حوثی میزائل ایئرپورٹس اور سرحدی علاقوں کو نشانہ بناتے رہے، لیکن تیل کے دل پر براہِ راست وار نے کشیدگی کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے منگل کو ہی پیش گوئی کی ہے کہ اس سال سعودی معیشت 3.3 فیصد سکڑ جائے گی، جس کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز پر ایران کی ناکہ بندی ہے — اور اب یمن کی جنگ نے سعودی سرزمین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ فرانس نے اپنے شہریوں کو ریاض، جدہ اور دمام کے ایئرپورٹس سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے؛ ریاض میں اسکول آن لائن ہو گئے ہیں اور کئی کمپنیوں نے گھر سے کام کا حکم دیا ہے۔ ٹرمپ کے حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے کے اشارے کے بعد واشنگٹن کا کردار بھی اب ایک کھلا سوال بن چکا ہے۔
مزید پڑھیے:
سعودی اتحاد کا دعویٰ: ریاض اور جنوبی علاقوں پر داغے گئے 8 حوثی میزائل اور ڈرون تباہ
ریاض ایئرپورٹ پر اتوار کے حملے میں ایک پاکستانی جاں بحق، 11 زخمی — دمام ایئرپورٹ بھی نشانہ بنا

قارئین کے تبصرے (0)