ریاض ایئرپورٹ پر اتوار کے حملے میں ایک پاکستانی جاں بحق، 11 زخمی — دمام ایئرپورٹ بھی نشانہ بنا
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور گیارہ افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
سعودی حکام کے مطابق اتوار کے حملے میں ایک نامعلوم پروجیکٹائل ٹرمینل 4 پر گرا، جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔ یہ وہی ٹرمینل ہے جہاں سے مسافر طیارے روانہ ہوتے ہیں۔ سعودی قیادت میں بنے اتحاد کے ترجمان کے مطابق ایئر ڈیفنس نے ایئرپورٹ کے قریب ہی ایک کروز میزائل کو فضا میں مار گرایا۔
حوثی ملیشیا نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سعودی ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ حملے سے ایئرپورٹ کو مادی نقصان بھی پہنچا ہے اور “نقصان کا جائزہ اس وقت لیا جا رہا ہے”۔
اتوار کا حملہ محض ایک ہفتے کے اندر ریاض ایئرپورٹ پر چوتھا حملہ تھا۔ اس سے ایک روز پہلے ہفتے کے حملے میں کم از کم ایک درجن افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے تھے — سعودی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی، دو بنگلہ دیشی اور امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کے شہری شامل تھے۔ اتوار کو بھارتی سفارت خانے نے بتایا کہ ہفتے کے حملے میں زخمی ایک بھارتی شہری بعد میں دم توڑ گیا۔
حوثیوں کی دھمکیوں کا دائرہ بھی پھیل رہا ہے۔ یمنی ملیشیا کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس نے متعدد حملے کیے ہیں اور سعودی عرب کے ایئرپورٹوں کو “ہماری افواج کا آپریشنل تھیٹر” قرار دے کر انہیں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ حوثی ترجمان یحیی سریع کا دعویٰ ہے کہ سعودی طیاروں نے بھی گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ایک سو چوبیس فضائی حملے کیے۔
اسی روز دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی حملے کی تصدیق ہو گئی۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق اتوار کی شام مشرقی صوبے کے اس ایئرپورٹ پر بھی حملہ ہوا اور نقصان کے جائزے کے ساتھ حفاظتی معائنہ جاری ہے۔ حوثیوں نے ریاض اور دمام دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
حملوں کے بعد ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں چوبیس گھنٹے کی توسیع کر دی گئی — اب بندش پیر رات 2100 گرینچ وقت تک رہے گی۔ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اتوار کو ریاض سے آنے جانے والی چھ سو سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، جب کہ جدہ ایئرپورٹ پر ایک سو چھپن پروازیں منسوخ اور تین سو سینتالیس تاخیر کا شکار ہوئیں۔
برطانیہ نے سعودی عرب کے لیے اپنی ٹریول وارننگ سخت کر دی ہے۔ لندن کی وزارت خارجہ نے برطانوی شہریوں کو جدہ اور دمام سمیت مملکت کے تمام ایئرپورٹوں — مدینہ کے علاوہ — کے غیر ضروری سفر سے گریز کی سفارش کی ہے اور سعودی عرب چھوڑنے کے خواہشمند شہریوں کو زمینی راستے بحرین، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات یا اردن جانے کا مشورہ دیا ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اتوار کی شام دارالحکومت میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے دارالحکومت کے العارض محلے کے ایک رہائشی نے کہا کہ دھماکے کی آواز پر “پرندے پھڑپھڑانے لگے اور پورا گھر ہل گیا”۔
یہ خبر پاکستانیوں کے لیے اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کہ سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں اور ریاض ایئرپورٹ ان کی آمدورفت کا بنیادی راستہ ہے۔ اس سے پہلے پی آئی اے نے ریاض کے لیے اپنی پروازیں بھی معطل کر دی تھیں، جب کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی دہائیوں سے موجودگی کی حالیہ تصدیق کے بعد دونوں ملکوں کے دفاعی تعلقات نئے موڑ پر ہیں — ایسے میں شہری ایوی ایشن پر حملوں کا پھیلنا صرف سعودی عرب نہیں، خطے کی ہر ریاست کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
مزید پڑھیے: اتوار کا ٹرمینل 4 حملہ | ہفتے کو دمام کے قریب پروجیکٹائل

قارئین کے تبصرے (0)