Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

مدینہ منورہ کے علاقے میں کروز میزائل تباہ — سعودی اتحاد کا دعویٰ، حوثیوں کی تردید

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کا سبز گنبد

سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مدینہ منورہ کے علاقے میں ایک کروز میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ میزائل کو مدینہ منورہ کے علاقے میں تباہ کیا گیا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ میزائل کہاں سے داغا گیا تھا، اس کا نشانہ کیا تھا، اور کیا اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا۔

یمن کے حوثی گروپ نے اس دعوے کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر کہا کہ یمنی مسلح افواج نے آج سعودی سرزمین کی طرف کوئی کارروائی نہیں کی اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کے دعوے کو شرمناک اور بے بنیاد بہتان قرار دیا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اتحاد نے اپنے بیان میں کسی پر الزام بھی نہیں لگایا — میزائل کے ماخذ کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی۔

یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو حملوں سے مستثنیٰ رکھیں گے۔ مدینہ منورہ اسلام کا دوسرا مقدس ترین شہر ہے — یہیں مسجد نبوی اور روضہ رسول ﷺ ہے — اور اس جنگ میں پہلی بار کسی مقدس شہر کے علاقے میں میزائل کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

جولائی سے جاری اس جنگ میں حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پانچ اکتوبر کے بعد حوثی حملوں میں سعودی عرب کے پانچ ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں 20 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کو مملکت کے برسوں میں مہلک ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ بدھ کو حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس پر سعودی حکام نے دھران میں آرامکو کے آپریشنز سینٹر کے علاقے میں ایک عمارت پر حملے کی تصدیق کی تھی۔ ایک دن پہلے اتحاد نے ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

اسی جمعرات کو اتحاد نے مشرقی صوبے — سعودی عرب کے تیل پیدا کرنے والے اہم علاقے — میں ایک ڈرون بھی تباہ کیا۔ سعودی شہری دفاع نے جیزان اور نجران کے رہائشیوں کے لیے خطرے کی وارننگ جاری کی، جو بعد ازاں واپس لے لی گئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ریاض کے ہوائی اڈے کی پروازیں حوثی حملوں کے باعث معطل ہیں، جبکہ جدہ میں بھی درجنوں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہیں۔

اس خبر کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ اس وقت صرف ایک دعویٰ ہے — اور اس کی آزاد تصدیق ممکن نہیں۔ اتحاد نے میزائل کے ماخذ یا کوئی ثبوت پیش نہیں کیے، اور حوثیوں نے اسے مکمل جھوٹ قرار دیا ہے۔ لیکن مدینہ منورہ کا نام آنا اس لیے اہم ہے کہ یہ اس جنگ میں پہلا موقع ہے جب کسی مقدس شہر کے علاقے میں میزائل کا دعویٰ سامنے آیا ہے — وہ بھی اس وعدے کے چند دن بعد جس میں حوثیوں نے مقدس شہروں کو مستثنیٰ رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کے لیے اس کی براہِ راست اہمیت ہے: سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں اور ہر سال ہزاروں پاکستانی عمرے کے لیے مدینہ جاتے ہیں۔ اگر مقدس شہر کشیدگی کی زد میں آتے ہیں تو یہ صرف عسکری خبر نہیں رہے گی — یہ زائرین کی سلامتی اور تیل کی قیمتوں دونوں کا سوال بن جائے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *