بدھ کے روز سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان جاری کشیدگی ایک اور خطرناک موڑ پر پہنچ گئی۔ سعودی اتحاد کا دعویٰ ہے کہ اس نے آج ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ حوثیوں نے سعودی ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر مزید حملوں کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثیوں نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ان کے دعوے کے مطابق مشرقی شہر دھران میں آرامکو کی تنصیبات، ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض میں ہی آرامکو کی ایک ریفائنری کو بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا — تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملے کب کیے گئے۔
سب سے تشویشناک پیش رفت حوثیوں کی وہ وارننگ تھی جس میں انہوں نے “بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں”، عام شہریوں اور کارکنوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ہوائی اڈے اور تیل کی تنصیبات خالی کر دیں، کیونکہ انہیں “جائز فوجی اہداف” قرار دیا گیا ہے۔ کسی مسلح گروپ کی جانب سے شہریوں کو اس طرح کھلے عام انخلا کی ہدایت کرنا کشیدگی کے اس دور میں ایک غیر معمولی اور خطرناک قدم ہے۔
دوسری طرف سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے بدھ کو ریاض کی طرف آنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کر دیا۔ ریاض کے مختلف علاقوں میں کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سعودی حکام نے پہلے دارالحکومت میں ممکنہ فضائی خطرے کا انتباہ جاری کیا، جسے کچھ دیر بعد واپس لے لیا گیا۔ دھماکوں کی اصل وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی اور حکام نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ پیش رفت منگل کی شام دھران میں آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والے حملے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ روئٹرز کو کمپنی کے ایک ذریعے نے بتایا تھا کہ ایک بیلسٹک میزائل ہیڈکوارٹر کمپلیکس کی ایک دفتری عمارت پر گرا، جس سے اس کی اوپری تین منزلیں تباہ ہو گئیں۔ سعودی وزارت توانائی نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے “محدود آگ” لگی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے ہفتے کو ریاض کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے تھے — یہ ایک دہائی میں سعودی سرزمین پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔ حکام نے ہوائی اڈا 17 اکتوبر تک بند کر رکھا ہے اور کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے سعودی عرب کی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
یہ خبر پاکستان کے لیے بھی براہ راست اہمیت رکھتی ہے۔ سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں، اور پی آئی اے پہلے ہی ریاض کی پروازیں معطل کر چکی ہے۔ دوسری طرف آرامکو دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی ہے — اس کے ہیڈکوارٹر پر براہ راست حملہ عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ سکتا ہے، اور اس کے اثرات پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ حوثیوں کا ہوائی اڈوں اور تیل تنصیبات کو کھلے عام “جائز فوجی اہداف” قرار دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ کشیدگی ابھی تھمنے والی نہیں۔
حوثیوں کا موقف ہے کہ یہ حملے یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج کے خلاف جاری جنگ کا جواب ہیں، جو گزشتہ ماہ خلیج میں امریکا ایران کشیدگی کے بعد دوبارہ بھڑک اٹھی تھی۔ صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے — اس خبر کی لمحہ بہ لمحہ تازہ صورت حال ہماری لائیو کوریج میں ملاحظہ کریں۔

قارئین کے تبصرے (0)