Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کاروبار

پٹرول 2.71 روپے سستا، ڈیزل میں 3 پیسے کمی: 14 اکتوبر سے نئی قیمتیں نافذ

پٹرول پمپ کی نمائندہ تصویر — ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے بعد

وفاقی حکومت نے منگل کے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور کمی کا اعلان کر دیا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 71 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 392 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل محض 3 پیسے سستا ہو کر 396 روپے 82 پیسے فی لیٹر کا ہو گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق بدھ، 14 اکتوبر سے ہو گا۔

یہ مسلسل دوسرا دن ہے جب پٹرول سستا ہوا ہے۔ پیر کو اعلان کردہ نظرثانی میں پٹرول 2 روپے 93 پیسے فی لیٹر سستا کر کے 395 روپے 37 پیسے مقرر کیا گیا تھا، جبکہ ڈیزل 61 پیسے مہنگا ہو کر 396 روپے 85 پیسے کا ہو گیا تھا۔ تازہ نظرثانی میں ڈیزل کی سمت بھی بدل گئی ہے، اگرچہ 3 پیسے کی کمی محض علامتی حیثیت رکھتی ہے۔

پٹرولیم ڈویژن کے مطابق قیمتوں میں اس ردوبدل کی وجہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ ہے — پلیٹس کے نرخوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں تبدیلی۔ منگل کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد کمی ریکارڈ کی گئی: برینٹ خام تیل 1.89 فیصد گر کر 104.63 ڈالر فی بیرل اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی 2.02 فیصد کمی کے ساتھ 91.85 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ تاجروں کی نظریں سعودی عرب پر حملوں کی تازہ صورتحال اور روس سے اضافی ڈیزل کی فراہمی کے امکان پر لگی ہوئی ہیں۔

حکومت اب ایندھن کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لے رہی ہے۔ پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کے مطابق روزانہ کی قیمتیں عالمی منڈی کے سات روزہ اوسط کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں، جو بین الاقوامی طریقہ کار کے عین مطابق ہے۔ اوگرا نے شفافیت کے لیے اپنی ویب سائٹ پر روزانہ پٹرولیم قیمتوں کی اشاعت بھی شروع کر دی ہے تاکہ عالمی قیمتوں میں تبدیلی کا فائدہ صارفین تک جلد پہنچ سکے۔

چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے “پٹرول ریلیف اسکیم” بھی جاری ہے۔ اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل اور چنگ چی رکشہ مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر تک پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت ملتی ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے یہ حد 30 لیٹر ماہانہ ہے۔ رجسٹریشن کے لیے شہریوں کو 9771 پر ایس ایم ایس بھیجنا ہوتا ہے، اور پمپ جانے سے پہلے ٹوکن حاصل کرنا ضروری ہے۔

ڈان کے مطابق حکومت پٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیاں وصول کر رہی ہے۔ رواں سال 3 اپریل کو پٹرول 458.41 روپے اور ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح کو چھو گیا تھا۔ فروری میں امریکا ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ڈیزل 281 روپے فی لیٹر سے بڑھنا شروع ہوا تھا، جبکہ پٹرول مارچ کے اوائل میں 266 روپے سے اوپر کی جانب گامزن ہوا۔

روزانہ نظرثانی کے نظام کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں کمی کا فائدہ اب ہفتوں بعد نہیں، اگلے ہی دن صارف تک پہنچتا ہے — یہی وجہ ہے کہ برینٹ میں منگل کی کمی بدھ کی قیمت میں نظر آ رہی ہے۔ لیکن یہ تلوار دونوں طرف کٹتی ہے: اگر مشرق وسطی کی کشیدگی میں اضافہ ہوا تو قیمتیں اتنی ہی تیزی سے اوپر بھی جا سکتی ہیں۔ ڈیزل میں 3 پیسے کی کمی سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں یا اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر کوئی اثر پڑنے کا امکان نہیں — اصل ریلیف چھوٹی گاڑیوں والی اسکیم میں ہے، بشرطیکہ شہری اس کے لیے رجسٹر کرائیں۔

مزید پڑھیے:

پٹرول 2.93 روپے سستا، ڈیزل 61 پیسے مہنگا — 13 اکتوبر کی نظرثانی

روزانہ قیمتوں کا نظام کیسے کام کرتا ہے

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *