Thursday, 29 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

تھرپارکر میں ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹ گیا: حاملہ خاتون سمیت 8 افراد جاں بحق

ایمبولینس کی فائل تصویر

تھرپارکر کے علاقے نگرپارکر میں ایک بنیادی مرکز صحت پر کھڑی ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے حاملہ خاتون سمیت آٹھ افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے بعد ایمبولینس میں آگ بھڑک اٹھی اور قریب کھڑے لوگوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔

واقعہ ڈانو ڈانڈھل میں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) کے زیر انتظام بی ایچ یو پلس مرکز صحت پر پیش آیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق عملہ ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر لگا رہا تھا کہ اس دوران زوردار دھماکا ہوا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق ایک حاملہ خاتون اس وقت ایمبولینس کے اندر ہی موجود تھیں، جب عملے نے سلنڈر فٹ کرنا شروع کیا۔

ابتدائی اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد سات بتائی گئی تھی، مگر بعد میں ایک زخمی مٹھی منتقل کیے جانے کے دوران دم توڑ گیا، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد آٹھ ہو گئی۔ زخمیوں میں دو دائیاں اور مرکز صحت کی ایک خاتون معاون بھی شامل ہیں، جنہیں سول اسپتال مٹھی منتقل کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں پی پی ایچ آئی کا ایک ڈسپنسر، ایمبولینس کا ڈرائیور، ایک چوکیدار اور مرکز کا ایک اور ملازم شامل ہے۔ حاملہ خاتون اور ان کے دو تیماردار بھی اس حادثے میں جان سے گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے تین لاشوں کی شناخت جسونت، ایمبولینس ڈرائیور اسحاق تھیبو اور پانڈھی راجڑ کے نام سے کی ہے، جبکہ باقی لاشیں بری طرح جھلس جانے کے باعث ابھی شناخت نہیں ہو سکیں۔

اسسٹنٹ کمشنر نگرپارکر ارم کریم ناریجو نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے کے وقت ایمبولینس مرکز صحت پر کھڑی تھی۔ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور محکمہ صحت کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر مٹھی منتقل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، اور ابھی یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ سلنڈر کیوں پھٹا۔

مقامی لوگوں نے اس سانحے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھرپارکر میں پی پی ایچ آئی کے زیر انتظام اسپتالوں میں سہولتیں ناکافی ہیں، اور اسی کمزوری نے اس حادثے کی راہ ہموار کی۔ انتظامیہ نے ان الزامات پر ابھی کوئی واضح جواب نہیں دیا، مگر حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں سلنڈر کی حالت اور دیکھ بھال کا ریکارڈ بھی جانچا جائے گا۔

یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں صحت کے نظام کی ایک پرانی کمزوری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تھرپارکر جیسے پسماندہ ضلعے میں، جہاں مریضوں کو پہلے ہی بنیادی سہولتوں کے لیے میلوں کا سفر کرنا پڑتا ہے، ایک ایمبولینس کا خود خطرہ بن جانا اس نظام پر سنگین سوال کھڑا کرتا ہے۔ آکسیجن سلنڈر روزمرہ کی طبی ضرورت ہے — اس کی تنصیب اور دیکھ بھال میں غفلت کی قیمت آٹھ جانوں سے چکائی گئی۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ تحقیقات صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہتی ہیں، یا ذمہ داروں کا تعین کر کے ایسے حادثوں کی روک تھام کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے جاتے ہیں۔

اس سے پہلے رواں ماہ انڈس ہائی وے پر ایک مسافر کوچ کے حادثے میں بھی دس افراد جان سے گئے تھے — راجن پور بس حادثہ: انڈس ہائی وے پر 10 ہلاک، 44 زخمی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *