راولپنڈی میں منگل کو کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میں سری لنکا نے پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر وائٹ واش سے بچا لیا — مگر تین میچوں کی سیریز 2-1 سے پاکستان کے نام رہی۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 168 رنز بنائے، جسے سری لنکا نے 17.1 اوورز میں صرف دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
سری لنکن کپتان کسل مینڈس 48 گیندوں پر 87 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے — نو چوکے اور چار چھکے — اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ ان کے ساتھی کمانڈو مینڈس 27 گیندوں پر 40 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے، اور دونوں کے درمیان تیسری وکٹ پر 98 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت نے میچ کا فیصلہ کر دیا۔ پاکستان کی جانب سے صاحبزادہ فرحان نے 47 گیندوں پر 76 رنز بنائے — مسلسل تیسری ففٹی — جبکہ عرفات منہاس نے 20 گیندوں پر 34 ناٹ آؤٹ رنز جوڑے۔
فرحان کا عالمی ریکارڈ
اس سیریز کا اصل ہیرو شکست کے باوجود صاحبزادہ فرحان رہے۔ انہوں نے تین میچوں میں 238 رنز بنائے — 89، 73 اور 76 — جو فل ممبر ممالک کے درمیان تین میچوں کی دوطرفہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں سب سے زیادہ رنز کا نیا عالمی ریکارڈ ہے۔ انہوں نے ابھیشیک شرما کے 229 رنز کا ریکارڈ توڑا، اور سیریز کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے۔
ایک اور سنگِ میل فخر زمان کے نام رہا — وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 100 چھکے لگانے والے پہلے پاکستانی بن گئے۔ انہوں نے 113 اننگز میں یہ کارنامہ انجام دیا۔ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی چھکوں کی فہرست میں اب فخر (100)، رضوان (95) اور فرحان (81) سرفہرست ہیں۔
کسل مینڈس نے میچ کے بعد کہا: “پہلے دو میچوں میں ہماری بولنگ اچھی نہیں تھی، مگر آج بولنگ نظم و ضبط کے ساتھ ہوئی اور ہم نے انہیں قابلِ حصول ہدف تک محدود رکھا۔” فرحان کا کہنا تھا کہ “پہلے دو میچوں میں جس طرح ہم نے عمدہ ہدف دیا، آج بھی وہی منصوبہ تھا — مگر یہ کرکٹ ہے، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کوشش یہی ہے کہ مستقل مزاجی برقرار رہے۔”
اب آگے کیا؟
ٹی ٹوئنٹی سیریز تو ختم، مگر اصل امتحان اب شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان ون ڈے ٹرائی سیریز اتوار 18 اکتوبر سے راولپنڈی میں شروع ہو رہی ہے، جس کا فائنل 31 اکتوبر کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوگا۔ انگلینڈ کی ٹیم 16 اکتوبر کو پاکستان پہنچ رہی ہے۔
اس سیریز نے ایک بات واضح کر دی ہے: بابر اور شاہین کے بغیر نوجوان ٹیم نہ صرف جیت سکتی ہے، بلکہ عالمی ریکارڈ بھی بنا سکتی ہے۔ فرحان کی فارم اب ٹرائی سیریز میں پاکستان کا سب سے بڑا ہتھیار ہوگی — اور 2027 کے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے تناظر میں یہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی جگہ پکی کریں۔

قارئین کے تبصرے (0)