اعداد پہلے: 2026 میں پاکستان میں پولیو کا چھٹا کیس 5 اکتوبر کو سامنے آیا۔ متاثرہ خیبر کے علاقے جمرود کی یونین کونسل گھنڈی اے کا 7 سالہ بچہ ہے۔ یہ خیبر ضلع میں 2019 کے بعد پہلا کیس ہے۔ چھ میں سے پانچ کیسز خیبرپختونخوا سے ہیں — تین بنوں، ایک شمالی وزیرستان اور ایک خیبر سے — جبکہ ایک کیس سندھ سے رپورٹ ہوا۔ پانچواں کیس محض چھ روز قبل، 29 ستمبر کو سامنے آیا تھا۔
یہ اعداد ایک طویل جدوجہد کی کہانی بھی سناتے ہیں۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں ہر سال تقریباً 20,000 پولیو کیسز ہوتے تھے۔ 2025 میں یہ تعداد گھٹ کر 31 رہ گئی، اور 2026 میں اب تک صرف 6 — یعنی 99.8 فیصد کمی۔ آج دنیا میں صرف دو ممالک، پاکستان اور افغانستان، ایسے ہیں جہاں پولیو اب بھی مقامی طور پر پایا جاتا ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے کیس کی جامع تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق زیادہ خطرے والے علاقوں میں زبانی اور انجیکشن والی ویکسین کے ساتھ خصوصی مہم چلائی جائے گی جس میں بڑی عمر کے بچے بھی شامل ہوں گے، اور معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کو بھی مضبوط بنایا جائے گا۔
مہموں کا پیمانہ حیران کن ہے۔ 27 ستمبر کو ختم ہونے والی ذیلی قومی مہم میں 2 کروڑ 82 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔ 2026 میں اب تک چار بڑی مہموں کے ذریعے 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو تحفظ فراہم کیا جا چکا ہے۔ اتنی بڑی کوشش کے باوجود کیسز آ رہے ہیں — کیوں؟
جواب نقشے میں چھپا ہے۔ چھ میں سے پانچ کیسز جنوبی خیبرپختونخوا کے اسی پٹی سے ہیں: بنوں ڈویژن اور خیبر-پشاور بلاک۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں سیکیورٹی چیلنجز کے باعث ویکسینیشن ٹیموں کی رسائی محدود رہتی ہے، جہاں نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے بچے مہموں سے رہ جاتے ہیں، اور جہاں ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات اب بھی گھروں کے دروازے بند کرا دیتے ہیں۔ وائرس کو پھیلنے کے لیے لاکھوں بچوں کی ضرورت نہیں — چند درجن رہ جانے والے بچے کافی ہیں۔
یہی اس جنگ کا سب سے مشکل مرحلہ ہے۔ 20,000 سے 6 تک کا سفر بڑی مہموں سے طے ہوا، لیکن آخری 6 سے صفر تک کا سفر گھر گھر کے اعتماد سے طے ہوگا۔ جب تک بنوں کے ایک گھر کا دروازہ ویکسینیشن ٹیم کے لیے کھلا نہیں ہوگا، اس وقت تک یہ وائرس کہیں نہ کہیں زندہ رہے گا۔ خیبر کا یہ کیس اسی حقیقت کی تازہ یاد دہانی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)