Monday, 2 November 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

بھارت کا نیوی گیشن سیٹلائٹ این وی ایس 03 مدار میں: پہلی مدار بلند کرنے کی مشق کامیاب، نیوِک کو چوتھا سیٹلائٹ مل گیا

جی ایس ایل وی راکٹ کی لانچ

بھارتی خلائی ادارے اسرو نے اپنا نیوی گیشن سیٹلائٹ این وی ایس 03 کامیابی سے خلا میں پہنچا دیا ہے، اور اس کے بعد سیٹلائٹ کو اس کے مقررہ مدار تک لے جانے کا پہلا مرحلہ بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ مشن بھارت کے مقامی نیوی گیشن نظام نیوِک کے لیے اس لیے اہم ہے کہ اس سے یہ نظام کم از کم آپریشنل حالت میں واپس آ گیا ہے — چار سیٹلائٹ، جو آزادانہ پوزیشننگ کے لیے کم از کم ضرورت ہے۔

جی ایس ایل وی ایف 18 راکٹ نے 30 اکتوبر 2026 کی رات 11 بج کر 51 منٹ پر سری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز سے پرواز کی۔ تقریباً 18 منٹ 40 سیکنڈ کی پرواز کے بعد راکٹ نے 2,250 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ کو اس کے مقررہ بیضوی مدار میں داخل کر دیا۔ اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے لانچ کے بعد کہا کہ راکٹ نے سیٹلائٹ کو درست اور باریکی سے مطلوبہ مدار میں پہنچایا ہے۔ یہ جی ایس ایل وی کی بیسویں پرواز تھی، اور پچھلی جی ایس ایل وی پرواز سے اس کا فاصلہ صرف 56 دن رہا — جو اس راکٹ کے لیے اب تک کا کم ترین وقفہ ہے۔

لانچ کے اگلے ہی دن، 31 اکتوبر کی شام 4 بج کر 48 منٹ پر، سیٹلائٹ کی پہلی مدار بلند کرنے کی مشق مکمل ہوئی۔ سیٹلائٹ کے لیکوئڈ اپوجی موٹر نے تقریباً 2,174.8 سیکنڈ تک کام کیا، جس سے سیٹلائٹ کا مدار 5,477.6 کلومیٹر ضرب 37,833.4 کلومیٹر تک بلند ہو گیا۔ اسرو کے مطابق اس مشق کے بعد خلائی جہاز صحت مند حالت میں ہے۔ آئندہ دنوں میں مزید مشقیں اسے 111.75 ڈگری مشرق کے جیوسنکرونس مدار میں اس کے مقررہ مقام تک لے جائیں گی۔

این وی ایس 03 بھارت کی دوسری نسل کے نیوی گیشن سیٹلائٹس کی سیریز کا تیسرا سیٹلائٹ ہے، جس میں کل پانچ سیٹلائٹ منصوبہ بند ہیں۔ یہ ایل 1، ایل 5 اور ایس بینڈ میں سگنل بھیجے گا، اور اس میں ایک مقامی طور پر تیار کردہ ایٹمی گھڑی بھی نصب ہے، جو نیوی گیشن سگنلوں کے لیے انتہائی درست وقت کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ نیوِک کا دائرہ بھارت اور اس کی سرحدوں سے 1,500 کلومیٹر باہر تک ہے، اور اس کا استعمال ٹرانسپورٹ، سمندری آپریشنز، ہوا بازی، آفات کے انتظام اور درست زراعت میں ہوتا ہے۔

اس مشن کی کامیابی کی اہمیت اس کے پیش رو کی ناکامی سے سمجھی جا سکتی ہے۔ این وی ایس 02 اپنے منتقلی مدار تک تو پہنچ گیا تھا اور اس کے سولر پینل بھی کھل گئے تھے، مگر اس کے بعد مدار بلند کرنے کی مشقیں ناکام ہو گئیں۔ فروری 2026 میں شائع ہونے والے اسرو کے جائزے میں اس کی سب سے ممکنہ وجہ آکسیڈائزر لائن کے پائرو والو تک ڈرائیو سگنل میں ایک منقطع کنیکٹر قرار دی گئی تھی، جس نے بنیادی اور متبادل دونوں راستوں کو متاثر کیا تھا۔ اسرو کے مطابق جائزے کی سفارش کردہ اصلاحات نومبر 2025 میں لانچ ہونے والے سی ایم ایس 03 مشن پر لاگو کی گئیں اور وہاں تسلی بخش رہیں — اور اب این وی ایس 03 پر بھی وہی اصلاحات کارگر دکھائی دے رہی ہیں۔

یہاں ایک احتیاط بھی ہے: چار سیٹلائٹ کم از کم ضرورت پوری کرتے ہیں، مگر یہ نظام کی مکمل ڈیزائن صلاحیت نہیں۔ سات سیٹلائٹس کے منصوبے میں سے اب بھی تین کی کمی ہے، اور این وی ایس 04 اور 05 آنا باقی ہیں۔ جولائی میں پارلیمنٹ کو بتایا گیا تھا کہ سات میں سے صرف تین سیٹلائٹ نیوی گیشن سروس دے رہے تھے، اور نظام آزادانہ پوزیشننگ نہیں دے پا رہا تھا، حالانکہ ٹائمنگ سروس کام کر رہی تھی۔ این وی ایس 03 اس خلا کو پُر کرتا ہے، مگر مکمل بحالی کا سفر ابھی جاری ہے۔ کوانٹم کمپیوٹرز کو جوڑنے کے مسئلے کے حل کی طرح، یہ بھی ایک تکنیکی رکاوٹ کو عبور کرنے کی کہانی ہے — اور کوانٹم چپ کی اس پیش رفت کی طرح جس نے مصنوعی ذہانت کی ٹریننگ ہفتوں سے دنوں میں کر دی تھی، اس کا اصل امتحان لیبارٹری کے باہر، روزمرہ کے استعمال میں ہوگا۔ اگر این وی ایس 03 اپنے مقررہ مدار میں پہنچ کر سروس شروع کر دیتا ہے، تو بھارت کا اپنا نیوی گیشن نظام ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا — اور اس بار، ماضی کی غلطی سے سبق سیکھ کر۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *