Monday, 2 November 2026
بریکنگ نیوز
صحت

صبح اٹھتے ہی تھکن، رات دیر تک جاگنا: ڈپریشن کی نئی قسم “سرکیڈین ڈپریشن” کیا ہے؟

صبح کی میز پر الارم گھڑی، اسمارٹ فون اور کیلا

صبح اٹھتے ہی تھکن محسوس ہونا، رات دیر تک نیند نہ آنا، اور چھٹی کے دن نیند کا شیڈول بالکل بدل جانا — اگر یہ سب ایک ساتھ ہو رہا ہے، تو آسٹریلوی محققین کے مطابق یہ محض خراب نیند نہیں، ڈپریشن کی ایک مخصوص قسم کی علامت ہو سکتی ہے۔ اسے “سرکیڈین ڈپریشن” کا نام دیا گیا ہے، یعنی وہ ڈپریشن جس کی جڑ جسم کی اندرونی 24 گھنٹے کی گھڑی کی خرابی میں ہے۔

یہ تحقیق برٹش جرنل آف سائیکاٹری میں 21 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئی۔ سڈنی یونیورسٹی کے برین اینڈ مائنڈ سینٹر کی ٹیم نے آسٹریلیا کے قومی ڈپریشن مطالعے کے 11,380 ایسے افراد کے طبی اور جینیاتی ڈیٹا کا جائزہ لیا جو شدید، بار بار ہونے والے یا مستقل ڈپریشن میں مبتلا تھے۔ ان میں سے 2,604 افراد، یعنی تقریباً 23 فیصد، سرکیڈین ڈپریشن کے معیار پر پورے اترے۔

چھ علامتیں، کم از کم تین کا ہونا ضروری: صبح اٹھتے ہی شدید تھکن؛ رات کو دیر سے سونا اور صبح دیر سے جاگنا؛ شام کی طرف رجحان یعنی “نائٹ آؤل” ہونا؛ کام کے دنوں اور چھٹی کے دنوں میں نیند کے اوقات کا بہت زیادہ فرق، جسے سوشل جیٹ لیگ کہتے ہیں؛ ڈپریشن کے دوران معمول سے زیادہ سونا؛ اور بیماری کا موسمی پیٹرن۔ جو شخص ان میں سے کم از کم تین علامتیں رکھتا تھا، اسے اس گروپ میں شامل کیا گیا۔

اس گروپ کی ایک اور خصوصیت نے محققین کو چونکایا: ان مریضوں نے عام طور پر تجویز کی جانے والی اینٹی ڈپریسنٹ دواؤں، یعنی ایس ایس آر آئی اور ایس این آر آئی، سے نسبتاً کم فائدہ اور زیادہ سائیڈ ایفیکٹس رپورٹ کیے۔ مطالعے کی شریک مصنفہ ڈاکٹر ایملیانا ٹونینی کے مطابق، یہ اس بات کی علامت ہے کہ سرکیڈین ڈپریشن محض خراب نیند والا ڈپریشن نہیں، بلکہ اس کی حیاتیات الگ ہے۔ سڈنی یونیورسٹی کے پروفیسر ایان ہکی نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا: جب جسم کی گھڑی خراب ہو تو انسان ہر وقت جیٹ لیگ محسوس کرتا ہے — تھکن، توجہ کی کمی، اور وزن میں اضافہ۔

مگر یہیں احتیاط بھی ضروری ہے۔ یہ تحقیق مشاہداتی تھی، تجرباتی نہیں — یعنی اس نے یہ ثابت نہیں کیا کہ لائٹ تھراپی، میلاٹونن یا کوئی اور دوا ان مریضوں کے لیے بہتر کام کرے گی۔ نیند اور دواؤں کے اثرات کے بارے میں معلومات مریضوں کی اپنی رپورٹ پر مبنی تھیں، اور نمونہ یورپی نسل کے آسٹریلوی افراد تک محدود تھا۔ بیرونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسے ڈپریشن کی باقاعدہ ذیلی قسم قرار دینے سے پہلے آزاد تحقیق اور متنوع آبادیوں میں تصدیق درکار ہے۔ یہ ابھی ڈی ایس ایم میں درج نہیں ہے۔

اس کے باوجود، اس تحقیق کی عملی اہمیت کم نہیں۔ اگر ڈپریشن کے ایک چوتھائی مریضوں کی نیند کی گھڑی ہی اصل مسئلہ ہے، تو ان کے علاج میں نیند کے شیڈول کی باقاعدگی، صبح کی قدرتی روشنی، اور دن بھر کی سرگرمی کو وہ جگہ ملنی چاہیے جو ابھی صرف دوا کو ملتی ہے۔ یہ کوئی خود تشخیص کا نسخہ نہیں — ایک صبح کی تھکن ڈپریشن ثابت نہیں کرتی — مگر یہ ایک سوال ضرور اٹھاتی ہے جو مریض اور معالج دونوں کو پوچھنا چاہیے: مسئلہ کتنی نیند کا ہے، اور کتنا اس بات کا کہ نیند کس وقت آتی ہے؟ جس طرح آنتوں کے ایک عام جراثیم کا بڑی آنت کے کینسر سے تعلق 20 سال پرانا معمہ سلجھنے کے بعد سامنے آیا، اسی طرح جسم کے اندرونی نظاموں کا ذہنی صحت سے تعلق اب نئی سمتوں میں کھل رہا ہے۔ اور بچپن کی جسمانی سرگرمی اور جوانی کے ڈپریشن کے درمیان تعلق کی تیس سالہ تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ جسم اور دماغ کی کہانی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ سرکیڈین ڈپریشن اس کہانی کا تازہ باب ہے — اور اس کا اگلا باب اس وقت لکھا جائے گا جب یہ تحقیق لیبارٹری سے کلینک تک پہنچے گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *