یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں جمعے کے روز صدارتی محل اور بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جب کہ اسی روز سعودی قیادت والے اتحاد نے مملکت کے مختلف علاقوں میں حوثیوں کے ڈرون اور میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ دونوں محاذوں پر کشیدگی ایک ہی دن بھڑک اٹھی، اور حوثیوں نے سعودی سرزمین پر کسی کارروائی سے انکار کر دیا ہے۔
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے فوجی ترجمان کے مطابق حوثیوں نے عدن کے معاشیق صدارتی محل کمپلیکس اور عدن بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ محل کمپلیکس کو دو میزائلوں نے نشانہ بنایا، دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور ایمبولینسیں محل کے احاطے میں داخل ہوتی دیکھی گئیں۔ حملوں میں جانی نقصان یا عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق شدہ تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔
یہ عدن ہوائی اڈے پر اکتوبر میں ہونے والا تازہ حملہ ہے — اس سے دو روز پہلے بھی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد پروازیں عارضی طور پر معطل ہوئی تھیں اور 30 اکتوبر کو بحال ہوئیں۔ معاشیق محل پر اس سے پہلے رواں ماہ کے وسط میں ہونے والے حملے میں 5 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد محل کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی تھی۔
سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ہفتے کو بتایا کہ جمعے اور ہفتے کے دوران دو میزائل اور تین ڈرون تباہ کیے گئے — ایک کروز میزائل مغربی ریجن کی طرف، ایک بیلسٹک میزائل جنوبی ریجن کی طرف، اور تین ڈرون ریاض، مکہ اور مدینہ کی طرف۔ ان کے مطابق یہ سبھی ہتھیار فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے۔ سعودی سول ڈیفنس نے شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات بھی جاری کیں۔
مدینہ ریجن میں ڈرون جمعے کی شام تباہ کیا گیا، اور یہ اس دن مملکت میں گرایا جانے والا چوتھا ہتھیار تھا۔ اتحاد نے ڈرون کا ہدف یا ملبے سے کسی نقصان کی تفصیل نہیں بتائی۔ اس سے چند گھنٹے پہلے مکہ ریجن میں بھی ایک ڈرون تباہ کرنے کا اعلان ہوا تھا، جس کی خبر ہم نے گزشتہ روز دی تھی۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ان دعووں کو “بڑی اور سنگین من گھڑت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فورسز نے سعودی سرزمین کی طرف کوئی کارروائی نہیں کی، اور ان کی کارروائیاں تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں تک محدود ہیں۔ دوسری طرف حوثیوں نے جمعے کو سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ بھی کیا، جس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ لڑائی اب دو محاذوں پر بیک وقت تیز ہو رہی ہے — ایک طرف سعودی عرب کے مقدس شہر اور دارالحکومت، دوسری طرف یمن کی عبوری حکومت کا مرکز۔ معاشیق محل پر حملہ محض ایک عمارت پر حملہ نہیں، یہ اس حکومت کے مرکز پر حملہ ہے جسے سعودی اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔ اور جب دونوں فریق ایک ہی واقعے پر بالکل متضاد دعوے کریں تو آزاد تصدیق کے بغیر اصل تصویر دھندلی رہتی ہے — یہی ابہام خطے میں غلط اندازوں اور جوابی کارروائی کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ تیل منڈی پہلے ہی دباؤ میں ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمت 118 ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ ہفتے مکہ اور جدہ سمیت چار شہروں میں فضائی خطرے کے الرٹس بھی جاری ہوئے تھے، جو اس کشیدگی کے تسلسل کی ایک اور کڑی ہیں۔
اب نظر اس بات پر ہے کہ اتحاد عدن اور مقدس شہروں کے واقعات کا کیا جواب دیتا ہے، اور آیا عدن ہوائی اڈے کی پروازیں معمول پر رہتی ہیں۔ یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی فورسز نے حالیہ گھنٹوں میں حوثی ٹھکانوں کے خلاف ایک ہزار سے زائد کارروائیاں کی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمینی اور فضائی محاذ دونوں گرم ہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)