Saturday, 31 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

آبنائے ہرمز میں ٹینکر جنگ شدت اختیار کر گئی: عمان نے جلتے جہاز سے 25 ملاح بچا لیے، ایران کا تین ٹینکر روکنے کا دعویٰ

سمندر میں رواں دواں ایک بڑا سپر آئل ٹینکر

مسقط — عمان کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے قریب آگ کی لپیٹ میں آئے ایک آئل ٹینکر سے عملے کے 25 ارکان کو بحفاظت نکال لیا ہے۔ پاناما کے پرچم والا خام تیل بردار جہاز “ریٹی” جمعے کو نشانہ بننے کے بعد جل اٹھا تھا، اور عمانی بحریہ نے اس کے پورے عملے کو بچا کر طبی امداد فراہم کی۔ جہاز اس وقت مسندم کے ساحل سے تقریباً ڈیڑھ ناٹیکل میل کے فاصلے پر لنگر انداز ہے۔ عمان کے میری ٹائم سیکیورٹی سینٹر نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ جہاز کو کس نے نشانہ بنایا، اور اب تک کسی فریق نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یہ اکیلا واقعہ نہیں تھا۔ برطانوی بحری سلامتی کے ادارے یو کے ایم ٹی او کے مطابق جمعے کی شام ایران کے جزیرے لاوان سے تقریباً 40 ناٹیکل میل جنوب میں ایک اور جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل لگا، جس سے اس میں بھی آگ بھڑک اٹھی۔ ادارے نے بتایا کہ “عملے کے محفوظ ہونے کی اطلاع ملی ہے اور اس وقت ماحول پر کوئی اثر رپورٹ نہیں ہوا۔” اس جہاز کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، اور یہ واضح نہیں کہ یہ ریٹی والا واقعہ ہے یا کوئی دوسرا جہاز۔

دوسری طرف ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ تین آئل ٹینکر آبنائے سے گزرتے ہوئے “واقعات” کا شکار ہوئے یا بارودی سرنگوں سے ٹکرائے اور رک گئے، کیونکہ وہ اس راستے پر سفر کر رہے تھے جسے تہران غیر مجاز قرار دیتا ہے۔ بعد میں ایک اور بیان میں کہا گیا کہ 20 لاکھ بیرل تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر بھی بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد رک گیا۔ یہ دعوے آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں ہیں، اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ یہ دعوے اوپر بیان کیے گئے واقعات سے متعلق ہیں یا ان سے الگ۔

جمعرات کی شام ایک اور واقعہ پیش آیا تھا جس کی تفصیل اب سامنے آئی ہے۔ خسب سے تقریباً 25 ناٹیکل میل شمال مشرق میں ایک چھوٹی کشتی ٹینکر “لوئیز ون” کے قریب آئی اور اس کے ہل سے دو دھماکا خیز مواد چپکا دیے۔ انجن روم میں آگ لگی، جسے بجھا دیا گیا، عملہ محفوظ رہا اور جہاز نے اپنا سفر جاری رکھا۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے میں یہ پہلا کامیاب لمپٹ مائن حملہ ہے — یعنی جہاز کے ساتھ چپکائے گئے بارودی مواد سے کیا گیا حملہ۔

اعداد بتاتے ہیں کہ یہ کشیدگی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ برطانوی ادارے کے ریکارڈ کے مطابق اکتوبر میں آبنائے اور اس کے گرد 30 سے زائد حملے ہوئے — جنگ کے کسی بھی مہینے سے زیادہ، اور ستمبر کے مقابلے میں دوگنا۔ 6 جولائی سے اب تک خطے میں جہازوں پر 81 پروجیکٹائل حملوں میں سے 59 اس جنوبی راستے پر ہوئے جسے واشنگٹن درست اور تہران غیر قانونی کہتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے گزرگاہ کے مرکزی راستوں کو ایرانی بارودی سرنگوں سے صاف کر دیا ہے اور ان راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے وہاں موجود رہیں گی۔

پاکستان کے لیے یہ خبر محض دور کی جنگ نہیں۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، اور اس گزرگاہ میں ہر رکاوٹ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کو اوپر دھکیلتی ہے — جس کا براہ راست اثر پاکستان میں پندرہ روزہ پٹرول قیمتوں پر پڑتا ہے۔ پاکستان میں پٹرول پہلے ہی 399 روپے فی لیٹر کے قریب ہے، اور ریاض پر میزائل حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے۔ اگر ہرمز میں حملوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو انشورنس اور مال برداری کی قیمتیں بھی بڑھیں گی، جو آخر کار صارف تک پہنچتی ہیں۔

یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا، ابھی کہنا مشکل ہے۔ کئی باتیں واضح نہیں ہیں — ریٹی پر حملہ کس نے کیا، ایرانی دعووں کی آزاد تصدیق کیا ہے، اور امریکا کی مائن کلیئرنس کے بعد بھی جنوبی راستہ کتنا محفوظ رہے گا۔ 29 اکتوبر کو بھی تین ٹینکرز میں آگ لگی تھی، اور اب دو دن میں نئے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ محض ایک دن کی خبر نہیں بلکہ ایک جاری محاذ ہے۔ اگلے چند دنوں میں خام تیل کے نرخ اور مال برداری کی قیمتیں بتائیں گی کہ یہ کشیدگی عارضی جھٹکا ہے یا طویل رکاوٹ۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *