امریکی محکمہ خارجہ نے جمعے کو یوکرین کو 500 پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائلوں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی۔ اس پیکج کی تخمینہ قیمت 2.1 ارب ڈالر ہے، اور محکمے نے کانگریس کو اس فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ یہ دوسری ٹرمپ انتظامیہ کے دوران یوکرین کو دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی کی سمت میں سب سے نمایاں اقدامات میں سے ایک ہے۔
اس سودے کی سب سے خاص بات اس کی ادائیگی کا طریقہ ہے۔ امریکی ٹیکس دہندگان اس کی قیمت نہیں دیں گے۔ محکمہ خارجہ کے مطابق یوکرین یہ خریداری کینیڈا، جرمنی اور ناروے کے عطیات سے کرے گا، جو امریکہ کے جمپ اسٹارٹ پروگرام کے ذریعے منتقل ہوں گے، جبکہ باقی رقم یورپی یونین کے یوکرین سپورٹ لون سے حاصل کردہ یوکرین کے قومی فنڈز سے ادا ہوگی۔ نوٹیفکیشن میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ “اس فروخت میں امریکہ کے کوئی فنڈز شامل نہیں ہیں”۔
پیکج میں پیٹریاٹ کا جدید ترین ورژن PAC-3 MSE شامل ہے، جو ان چند ہتھیاروں میں سے ایک ہے جو آنے والے بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر سکتا ہے۔ یہ میزائل براہ راست ٹکرا کر ہدف کو ختم کرتا ہے، جسے “ہٹ ٹو کِل” کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ درجہ بند اور غیر درجہ بند اسپیئر پارٹس، لاجسٹکس اور پروگرام سپورٹ بھی شامل ہے۔ اس کا مرکزی ٹھیکیدار لاک ہیڈ مارٹن ہوگا۔
مگر یہاں ایک بڑا “لیکن” ہے، اور وہی اس خبر کا اصل رخ ہے۔ منظوری کا مطلب فوری فراہمی نہیں۔ یہ محض ایک ممکنہ فروخت کا نوٹیفکیشن ہے، معاہدہ نہیں۔ امریکی طریقہ کار کے تحت کانگریس کو عام طور پر 30 دن کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے، اس کے بعد حتمی پیشکش کا خط جاری ہوگا، پھر امریکی فوج لاک ہیڈ مارٹن کو آرڈر دے گی۔ اس فیصلے سے آگاہ دو ذرائع کے مطابق یہ میزائل ابھی بنے ہی نہیں، اور ان کی فراہمی 2030 کی دہائی کے اوائل تک متوقع نہیں۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اسی خلا کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ یوکرین تقریباً ایک ماہ سے امریکہ کی جانب سے اہم میزائل سپلائی پر دستخط کا انتظار کر رہا ہے۔ منظوری کے بعد انہوں نے ایکس پر لکھا کہ “یہ طے کیا گیا ہے کہ فراہمی صرف چند سال بعد شروع ہو سکتی ہے۔ ہم اپنے امریکی شراکت داروں سے کہہ رہے ہیں کہ اس وقت کا کوئی حل نکالیں جب PAC-3 انٹرسیپٹرز کی حقیقی خطرہ اور حقیقی ضرورت ہو۔” ان کی تجویز یہ ہے کہ اتحادی اپنے موجودہ ذخائر سے انٹرسیپٹر فوری بھیجیں اور بعد میں اس نئی پیداوار سے اپنے ذخائر بھر لیں۔
یہ منظوری ایسے وقت آئی ہے جب روس نے یوکرین کے توانائی اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ گزشتہ دنوں ڈنیپرو ریلوے اسٹیشن پر حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے، اور یوکرین مسلسل فضائی دفاعی گولہ بارود کی کمی کی شکایت کر رہا ہے۔ 19 اکتوبر کو واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی تھی کہ ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان کشیدگی کے دوران امریکہ نے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی منتقلی میں تاخیر کی ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 20 اکتوبر کو کہا تھا کہ یہ تاخیر دانستہ نہیں تھی، اور 30 اکتوبر کو ریگا میں نیٹو کے یورپ میں اعلیٰ کمانڈر جنرل الیکسس گرنکیوچ نے کہا کہ یورپی اتحادیوں کے ادا کردہ PURL پیکج کی کوئی چیز تاخیر کا شکار نہیں ہوئی — “سب کچھ پہنچا دیا گیا ہے”۔
جمپ اسٹارٹ پروگرام 2022 میں اسی مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ تیسرے ملک کے عطیات سے یوکرین امریکی اسلحہ خرید سکے۔ اسی پروگرام کے تحت اگست میں 825 ملین ڈالر کے 3,350 فضا سے زمین پر مار کرنے والے کروز میزائل بھی خریدے گئے تھے۔ PURL یعنی ترجیحی یوکرین ضروریات کی فہرست وہ نظام ہے جس کے ذریعے اتحادی یوکرین کے لیے امریکی ہتھیار خریدتے ہیں۔
اس فیصلے کا مطلب دو سطحوں پر سمجھنا چاہیے۔ سیاسی سطح پر یہ ایک بڑا اشارہ ہے کہ واشنگٹن یوکرین کے فضائی دفاع کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹا، اور اس حمایت کی قیمت اب براہ راست یورپ اور کینیڈا ادا کر رہے ہیں — یہ اس نئے ماڈل کی توسیع ہے جس میں امریکہ ہتھیار بیچتا ہے مگر بل اتحادیوں کو بھیجتا ہے۔ عملی سطح پر، تاہم، یہ منظوری سردیوں 2026-27 کی فوری ضرورت پوری نہیں کرتی۔ اصل امتحان اب یہ ہے کہ آیا کینیڈا، جرمنی اور ناروے اپنے موجودہ ذخائر سے انٹرسیپٹر فوری طور پر یوکرین بھیجنے پر راضی ہوتے ہیں یا نہیں — کیونکہ زیلنسکی کا پیغام واضح ہے کہ کاغذ پر منظور شدہ میزائل اس وقت کام نہیں آتے جب میزائل پہلے ہی ہوا میں ہوں۔ نومبر میں ابوظبی میں متوقع امن ملاقات کے پس منظر میں بھی یہ فیصلہ اہم ہے، کیونکہ میدان جنگ میں فضائی دفاع کی صورتحال مذاکرات کی میز پر ہر فریق کے موقف کو متاثر کرتی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)