وارسا — پولینڈ ایک سنگین آئینی بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ جمعے کی شام آئینی عدالت کے صدر اور نائب صدر کی معطلی کے حکم کے بعد عدالت کی عمارت کے گرد پولیس تعینات کر دی گئی، مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے آ گئے، اور صدر کارول نووروتسکی سینیگال کا سرکاری دورہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس آ گئے۔ رات گئے صدر نے سپریم کورٹ کے سربراہ سے ہنگامی مشاورت کی اور پھر آدھی رات کے بعد خود عدالت کی عمارت پہنچ کر اندر جانے کی کوشش کی۔
بحران کی شروعات جمعے کی دوپہر اس وقت ہوئی جب آئینی عدالت کی جج انا کورون پیوتراوسکا نے ایک حکم جاری کر کے عدالت کے صدر بوگدان سویونچکووسکی اور نائب صدر بارتومیے سوخانسکی کو ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا اور خود عدالت کی قیادت سنبھال لی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ سے منتخب ہونے والے ججوں کو عدالت کا کام کرنے سے روک رکھا تھا۔ وزیر انصاف والدیمار ژورک نے دونوں سینئر ججوں کی استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کر دی ہے تاکہ ان کے خلاف فرائض سے غفلت پر فوجداری کارروائی ہو سکے۔ عدالت کی ویب سائٹ پر شام چھ بجے کے قریب معطلی کا نوٹس شائع ہوا، پھر ویب سائٹ بند ہو گئی، اور عدالت کے ایکس اکاؤنٹ نے ان اقدامات کو “بغاوت” قرار دے دیا۔
اعلان کے بعد عدالت کی عمارت کے باہر مظاہرین جمع ہو گئے۔ پولیس کے مطابق بعض مظاہرین نے باڑ پھلانگنے کی کوشش کی اور اہلکاروں پر اشیا پھینکیں، جس پر تین افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے اہلکار عمارت کے اندر نہیں گئے اور صرف باہر نظم و ضبط بحال کر رہے تھے۔ دوسری طرف قدامت پسند قانونی ادارے اوردو یورس کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے خالی عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا اور عدالت کے نائب صدر اور ڈائریکٹر کو اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ دونوں فریقوں کے بیانات میں یہ فرق خود اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے کہ عمارت کے اندر اور باہر کیا ہوا، اس پر بھی اتفاق نہیں۔
صدر نووروتسکی اس وقت سینیگال کے دورے پر روانہ ہو چکے تھے۔ خبر ملتے ہی انہوں نے طیارہ واپس موڑ لیا اور ایکس پر لکھا: “ایسے لمحے میں صدر کو پولینڈ میں ہونا چاہیے۔ میں سینیگال کا دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس آ رہا ہوں۔” وارسا پہنچ کر انہوں نے صدارتی محل میں سپریم کورٹ کے فرسٹ پریزیڈنٹ زبگنیو کاپینسکی سے ہنگامی ملاقات کی جو آدھی رات کے بعد تک جاری رہی۔ اس کے بعد صدر عدالت کی عمارت پہنچے اور اندر جانے کی کوشش کی، جس دوران صدارتی ترجمان کے مطابق ججوں سے جھڑپ بھی ہوئی۔
وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک کی حکومت کا موقف اس کے برعکس ہے۔ ٹسک نے ایکس پر لکھا: “قانون کی حکمرانی کی بحالی ہمارا فرض ہے۔ برسوں کی بے قانونی کے بعد یہ ایک مشکل، کبھی تکلیف دہ عمل ہے جس کے لیے فیصلہ کن اقدامات درکار ہیں۔ اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔” وزیر خارجہ رادوسلاو سکورسکی نے 31 اکتوبر کو کہا کہ عدالت کا کام بحال کرنے کے لیے مداخلت ضروری تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سویونچکووسکی نے پارلیمانی اکثریت سے منتخب ججوں کو ان کی نشستیں سنبھالنے سے روک رکھا تھا، جس سے عدالت عملاً مفلوج ہو چکی تھی۔
ردعمل بھی فوری اور شدید رہا۔ اپوزیشن جماعت قانون و انصاف (پی آئی ایس) کے رہنما یاروسلاو کازینسکی عدالت کی عمارت کے باہر پہنچے، اس اقدام کو عدالت پر حملہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ پولینڈ پولیس ریاست بنتا جا رہا ہے۔ چین میں پولینڈ کے سفیر یعقوب کوموخ نے جمعے کی شام ہی استعفیٰ دے دیا اور کہا کہ ملک میں ہونے والے واقعات کے بعد ان کے لیے عہدے پر رہنا ممکن نہیں رہا۔
یہ جھگڑا نیا نہیں۔ 2015 سے پولینڈ کی عدلیہ پر کنٹرول کی جنگ جاری ہے، جب پی آئی ایس حکومت کی تقرریوں پر یورپی عدالت برائے انسانی حقوق اور یورپی یونین کی عدالت نے اعتراض کیا تھا۔ دسمبر 2023 میں ٹسک کی حکومت واپس آئی تو اس نے پی آئی ایس دور کے کئی ججوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ 2026 میں پارلیمنٹ نے نئے جج منتخب کیے، مگر صدر نووروتسکی نے کئی سے حلف لینے سے انکار کر دیا، اور یوں عدالت کی قیادت کا تنازع اس مقام تک پہنچ گیا۔ یورپ میں سیاسی کشمکش کا یہ واحد معاملہ نہیں — سپین میں بھی قبل از وقت انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، جبکہ جرمنی میں سابق خفیہ سربراہ کی گرفتاری نے بھی عدالتی اور سیکیورٹی اداروں کے گرد بحث چھیڑ رکھی ہے۔
اصل خطرہ اب یہ ہے کہ ایک ہی عدالت کی قیادت کے دو دعوے دار سامنے آ گئے ہیں: ایک طرف معطل شدہ صدر جو حکم کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں، دوسری طرف قائم مقام سربراہ جو عدالت چلانے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ ایسے میں عدالت کے کسی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت خود سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ اگلے سال پولینڈ میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں، اور یہ کشمکش وہاں کی سیاست کے ساتھ ساتھ یورپی یونین سے پولینڈ کے تعلقات پر بھی اثر ڈالے گی۔ آئندہ دنوں کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ عدالت عملاً کس کی قیادت میں کام کرتی ہے، پولیس کا گھیراؤ کب ہٹتا ہے، اور یورپی ادارے اس صورت حال پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)