دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس سے تقریباً 6.3 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل کرنسی چوری ہو گئی ہے۔ یہ کرپٹو کی دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری ہے — پچھلے ریکارڈ سے چار گنا سے بھی زیادہ۔ کمپنی نے جمعے کی صبح تصدیق کی کہ حملہ آوروں نے اس کے سسٹم میں گھس کر اربوں ڈالر کے اثاثے نکال لیے، جس کے بعد دنیا بھر میں بائننس کے صارفین کے لیے رقوم جمع کرانا اور نکالنا عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
بلاک چین تجزیاتی کمپنی ٹی آر ایم لیبز کے مطابق چوری کا بڑا حصہ صرف بیس منٹ کے اندر ہوا۔ جمعرات کی شام امریکی مشرقی وقت کے مطابق چار بج کر پانچ منٹ پر شروع ہونے والے اس حملے میں دس مختلف بلاک چینز کے ذریعے تقریباً 6.36 ارب ڈالر بائننس کے والیٹس سے منتقل کیے گئے۔ ایک موقع پر حملہ آوروں کے والیٹس میں 5.7 ارب ڈالر سے زیادہ کی کرپٹو موجود تھی، جن میں تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کا بٹ کوائن اور 90 کروڑ ڈالر کا ایتھر شامل تھا۔
بائننس کے مطابق حملے کی شروعات ایک انجینئر کے لیپ ٹاپ سے ہوئی۔ کمپنی کی ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا کہ ایک ڈیو اوپس انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک کر لیا گیا تھا، جس کے ذریعے حملہ آور اندرونی سروس تک پہنچا اور غیر مجاز نکاسی کی درخواستیں جمع کرائیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے والیٹس کی پرائیویٹ کیز لیک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ متاثرہ ایڈریس کی اجازت منسوخ کر دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر رقوم کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
اب تک تقریباً تین ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں۔ بائننس نے بتایا کہ ٹیتھر، سرکل، رپل اور پیکسوس سمیت بلاک چین شراکت داروں کے تعاون سے یہ رقم آن چین منجمد کی گئی ہے، جن میں 2.3 ارب ڈالر کے ٹیتھر اور یو ایس ڈی کوائن جیسے اسٹیبل کوائنز شامل ہیں۔ اسٹیبل کوائنز کو منجمد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ چور ان مخصوص ٹوکنز کو نہ منتقل کر سکتا ہے اور نہ کیش کرا سکتا ہے۔ تاہم تقریباً 3.3 ارب ڈالر اب بھی حملہ آور کے قبضے میں بتائے جا رہے ہیں، جن میں تقریباً 2.4 ارب ڈالر کا بٹ کوائن اور ایتھر شامل ہے۔
بائننس کی شریک چیف ایگزیکٹو یی ہی نے صارفین کو یقین دلایا ہے کہ “تمام نقصانات پورے کیے جائیں گے” اور صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ نقصان اس کے اپنے فنڈز اور ہنگامی اثاثہ فنڈ سے پورا کیا جائے گا۔ یی ہی کے مطابق رقوم کی نکاسی 48 گھنٹوں کے اندر بحال ہونے کی توقع ہے، جب سیکیورٹی چیک مکمل ہو جائیں گے۔ کمپنی کے بانی چانگ پینگ ژاؤ نے بھی ایکس پر لکھا کہ “ایسا لگتا ہے کہ بائننس پر ہیک ہوا ہے۔”
اس چوری کا الزام شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ پر لگایا جا رہا ہے۔ ٹی آر ایم لیبز نے اس حملے کو “ٹریڈر ٹریٹر” نامی گروپ سے منسوب کیا ہے، جسے وہ شمالی کوریا کا ایلیٹ ہیکنگ یونٹ بتاتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ “مضبوط آن چین اور آف چین شواہد” کی بنیاد پر “اعلیٰ اعتماد” کے ساتھ اخذ کیا گیا ہے۔ بلاک چین تجزیاتی کمپنی چینالیسس اور سنگاپور کی پینگولن انٹیلیجنس نے بھی یہی نسبت بتائی ہے۔ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اسی گروپ کو فروری 2025 میں بائی بٹ ایکسچینج سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی چوری کا ذمہ دار بھی قرار دے چکا ہے — جو اب تک کا پچھلا ریکارڈ تھا۔ ٹی آر ایم لیبز کے عالمی پالیسی سربراہ ایری ریڈبورڈ نے اسے “انسانی تاریخ کی سب سے بڑی بینک ڈکیتی” قرار دیا ہے۔
چوری کی خبر نے کرپٹو مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔ خبر آتے ہی بٹ کوائن اور ایتھر کی قیمتیں گریں، اگرچہ بعد میں کچھ بحالی بھی ہوئی۔ کوائن ڈیسک کے اعداد کے مطابق حملے کے وقت بٹ کوائن تقریباً 77,982 ڈالر اور ایتھر تقریباً 2,231 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ عالمی حصص بازاروں میں بھی اسی دن مندی دیکھی گئی، جس میں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے بھاری اخراجات پر سرمایہ کاروں کی تشویش بھی شامل تھی۔ بائننس کے دنیا بھر میں تقریباً 33 کروڑ 50 لاکھ صارفین بتائے جاتے ہیں، اس لیے اس واقعے کا دائرہ صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہا۔
یہ واقعہ کرپٹو کی دنیا کے لیے ایک پرانا سبق پھر تازہ کر گیا ہے: مرکزی ایکسچینج پر رکھی ہوئی رقم دراصل اس ایکسچینج کے سسٹم پر منحصر ہوتی ہے، چاہے وہ دنیا کی سب سے بڑی ایکسچینج ہی کیوں نہ ہو۔ بائننس نے صارفین کے نقصان کی تلافی کا وعدہ تو کر دیا ہے، لیکن یہ وعدہ کمپنی کے اپنے فنڈز پر کھڑا ہے — اس کا ہنگامی فنڈ تقریباً ایک سے سوا ارب ڈالر کا بتایا جاتا ہے، جو 6.3 ارب ڈالر کے نقصان کے سامنے بہت چھوٹا ہے۔ اصل امتحان اب یہ ہے کہ منجمد شدہ تین ارب ڈالر کے علاوہ باقی رقم میں سے کتنی واپس ملتی ہے، اور کیا یہ حملہ واقعی صرف ایک لیپ ٹاپ تک محدود تھا یا اس کے پیچھے کوئی بڑی کمزوری تھی۔ جب تک کمپنی اپنی مکمل تکنیکی رپورٹ جاری نہیں کرتی، صارفین کے اعتماد کی بحالی آسان نہیں ہوگی۔
پاکستانی صارفین کے لیے بھی یہ خبر براہ راست اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ بائننس دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کرپٹو ایکسچینج ہے اور پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں لوگ اس کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ نکاسی کی عارضی معطلی کے دوران صارفین کو اپنی رقوم تک رسائی میں رکاوٹ کا سامنا ہے، اور ماہرین کا مشورہ یہی ہے کہ بڑی رقوم ایکسچینج پر رکھنے کے بجائے ذاتی والیٹ میں محفوظ رکھی جائیں۔ اس سے پہلے بھی کرپٹو کی دنیا میں بڑے ہیک ہو چکے ہیں — اوپن اے آئی کے ماڈلز کے ہاتھوں ویب سائٹس اور کرپٹو والیٹس کے ہیک ہونے کا انکشاف بھی اسی خطرے کی یاد دہانی تھا — مگر بائننس کا یہ واقعہ حجم کے اعتبار سے ان سب سے کہیں آگے نکل گیا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)