اہم نکات:
- وزارت خزانہ کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2026 میں مہنگائی 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہے گی۔
- ستمبر میں مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے 11.1 فیصد سے کم ہے، مگر گزشتہ سال کے 5.8 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔
- جولائی تا ستمبر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، جبکہ درآمدات 14.3 فیصد بڑھ کر 17.8 ارب ڈالر ہو گئیں۔
- اسٹیٹ بینک نے شرح سود 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دی ہے، جس کا اطلاق 27 اکتوبر سے ہوا۔
- ترسیلات زر 14 فیصد بڑھ کر 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس نے بیرونی دباؤ کچھ کم کیا۔
وزارت خزانہ کی “منتھلی اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک” رپورٹ کے اکتوبر ایڈیشن میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں معیشت نے مجموعی استحکام برقرار رکھا، لیکن مہنگائی کا دباؤ ابھی ختم نہیں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہے گی، اور آگے کا راستہ بین الاقوامی توانائی کی قیمتوں، خوراک کی فراہمی اور بنیادی اثرات پر منحصر ہوگا۔
تفصیل بتاتی ہے کہ مہنگائی کا بوجھ عام گھر پر کہاں پڑ رہا ہے۔ ستمبر میں ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 27.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ رہائش، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتیں 12.4 فیصد بڑھیں۔ جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا 11.8 فیصد اور نہ خراب ہونے والی 7.6 فیصد مہنگی ہوئیں۔ جولائی تا ستمبر کی اوسط مہنگائی 10.2 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 4.3 فیصد سے دوگنا سے زیادہ ہے۔
بیرونی محاذ پر تصویر ملی جلی ہے۔ ایک طرف برآمدات 7.7 فیصد بڑھ کر 8.5 ارب ڈالر ہو گئیں، جن میں غذائی برآمدات میں 25.3 فیصد اور ٹیکسٹائل میں 5.3 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری طرف درآمدات 14.3 فیصد بڑھ کر 17.8 ارب ڈالر تک جا پہنچیں، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 75 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہو گیا۔ مشینری کی درآمدات میں 19.3 فیصد، دھاتوں میں 24 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے سامان میں 19.2 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دباؤ کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات نے کچھ سنبھالا دیا، جو 14 فیصد بڑھ کر 10.9 ارب ڈالر ہو گئیں۔ اسی سہارے ادائیگیوں کا مجموعی توازن 3.1 ارب ڈالر سرپلس میں رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 27 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا خسارہ تھا۔
اسی پس منظر میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 12 فیصد کر دیا، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کے تنازع اور عالمی توانائی کی بلند قیمتوں سے پیدا ہونے والے مہنگائی کے خطرات کو قابو کرنا ہے۔ وزارت خزانہ نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے، حالانکہ اس سے حکومت کے اپنے قرضوں پر سود کا بوجھ بھی بڑھے گا — رپورٹ کے مطابق سود کی ادائیگیوں میں تقریباً 37 فیصد اضافے نے مالی سال کے آغاز میں ہی مالیاتی سرپلس کو کم کر دیا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، خلیج میں تنازع، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مہنگائی آگے بھی خطرات ہیں۔ ستمبر میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 116.8 ڈالر فی بیرل رہی، جو اگست سے 28.4 فیصد زیادہ تھی۔ اسی لیے اکتوبر کی مہنگائی کا اندازہ ایک حد (9.5 سے 10.5 فیصد) میں دیا گیا ہے، نہ کہ کسی ایک عدد میں۔
عام آدمی کے لیے اس رپورٹ کا مطلب سیدھا ہے: قیمتیں تیزی سے نیچے نہیں آ رہی ہیں، قرض مہنگا ہو گیا ہے، اور درآمدات کا دباؤ ابھی برقرار ہے۔ اگلے ہفتوں میں دو چیزیں دیکھنے والی ہوں گی — اکتوبر کی اصل مہنگائی کی شرح، اور تیل کی قیمت کس طرف جاتی ہے۔ انہی دو چیزوں سے طے ہوگا کہ نومبر میں گھر کا بجٹ کچھ سانس لے سکے گا یا نہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)