Thursday, 29 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

سینیٹ کمیٹی نے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف سخت سزاؤں کا بل مؤخر کر دیا

انصاف کی دیوی کا مجسمہ ترازو تھامے ہوئے

بل کیا چاہتا ہے؟ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے پیش کردہ “فوجداری قوانین (ترمیمی) (غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام) بل 2026” میں غیرت کے نام پر قتل میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

کمیٹی نے کیا فیصلہ کیا؟ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں اس بل پر مزید غور مؤخر کر دیا۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت اجلاس میں یہ فیصلہ وزارت قانون و انصاف اور بل کی محرک کی درخواست پر کیا گیا۔

حکومت کا مؤقف کیا ہے؟ وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس میں کہا کہ بل میں تجویز کردہ کئی تحفظات موجودہ قوانین میں پہلے سے دستیاب ہیں، اس لیے قانون سازی کی تکرار سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ قانون کی کمی نہیں بلکہ تفتیش، استغاثہ اور نفاذ میں خامیاں ہیں، جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ارکان نے کیا کہا؟ کمیٹی کے ارکان نے غیرت کے نام پر قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی رسم، روایت یا سماجی عمل کسی انسان کی جان لینے کا جواز نہیں بن سکتا۔ ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ سخت قوانین کے ساتھ ساتھ معاشرتی رویوں میں بنیادی تبدیلی بھی ضروری ہے۔

آگے کیا ہوگا؟ چیئرمین نے قانون ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ قانونی ڈھانچے، مجوزہ ترامیم اور ان کے قانونی اثرات کا جائزہ لے کر ایک جامع قانونی بریف جمع کرائے، تاکہ بل پر باخبر فیصلہ ہو سکے۔ کمیٹی نے اسی اجلاس میں فیملی کورٹس (ترمیمی) بل 2026، جووینائل جسٹس سسٹم (ترمیمی) بل 2026، مسلم فیملی لاز (ترمیمی) بل 2026 اور فیڈرل پراسیکیوشن سروس (ترمیمی) بل 2026 پر غور بھی متعلقہ محرکین کی درخواست پر مؤخر کر دیا۔ قانون ڈویژن کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان سے پہلے سے مانگی گئی رپورٹیں جلد جمع کرانے کے لیے رابطہ کرے۔ اجلاس میں سینیٹرز شہادت اعوان، ضمیر حسین گھمرو، محمد طلال بدر، کامران مرتضیٰ اور ثمینہ ممتاز زہری بھی شریک تھے۔

یہ فیصلہ ایک پرانے سوال کو پھر سامنے لے آیا ہے: کیا پاکستان کو غیرت کے نام پر قتل کے خلاف مزید سخت قانون چاہیے، یا موجودہ قانون کو درست طریقے سے نافذ کرنا ہی کافی ہے؟ حکومت کا مؤقف دوسرا ہے، لیکن متاثرہ خاندانوں کے لیے سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ قانون کافی تھا تو سزائیں اب تک کیوں نہیں ہو رہیں۔ کمیٹی کی مانگی ہوئی قانونی بریف اس بحث کو آگے بڑھائے گی، مگر اس دوران بل التوا میں رہے گا — اور ہر التوا کا مطلب یہ ہے کہ ایک اور کیس پرانے نظام کے رحم و کرم پر چلے گا۔ پارلیمانی سیاست میں جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ جیسے معاملات بھی اسی مہینے زیر بحث ہیں، مگر غیرت کے نام پر قتل کا معاملہ محض سیاسی نہیں، یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *