ملائیشیا کے کسٹمز حکام نے بدھ 28 اکتوبر کو اعلان کیا کہ انہوں نے اس ماہ تقریباً 4 کروڑ 95 لاکھ رنگٹ (ایک کروڑ 21 لاکھ ڈالر) مالیت کے جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) چپس ضبط کیے ہیں۔ یہ کارروائی ملک کے مرکزی ہوائی اڈے کے ذریعے اعلیٰ کارکردگی والے سیمی کنڈکٹرز کی اسمگلنگ کرنے والے ایک مشتبہ نیٹ ورک کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔
کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ (کے ایل آئی اے) کے کسٹمز ڈائریکٹر اسپالیلا ایگ تواہ نے صحافیوں کو بتایا کہ 15 اکتوبر کو ہوائی اڈے کے فری ٹریڈ زون میں معائنے کے دوران 30 سرور یونٹس ملے، جن میں جدید اے آئی چپس نصب تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ کھیپ ایشیا کے ایک ملک سے آئی تھی اور براعظم کے کسی دوسرے ملک کو دوبارہ برآمد کی جانی تھی، جس کے لیے تجارتی اجازت نامہ درکار تھا۔
اسپالیلا کے مطابق سرورز کو غلط طور پر “الیکٹرانک اجزا” ظاہر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، “سرورز کو الیکٹرانک اجزا کے طور پر غلط ظاہر کیا گیا تھا، اور ملائیشیا کے راستے بھیجا گیا تھا تاکہ اگلی منزل پر برآمد کے دوران کوئی پابندی نہ لگے۔” ایک ملائیشین کمپنی، جس نے اس کھیپ میں سہولت فراہم کی تھی، کو تحقیقات میں مدد کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔
حکام کو شبہ ہے کہ یہ کھیپ اسی نیٹ ورک کی کارروائی تھی جس کی جون میں ایک ایسی ہی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنائی گئی تھی۔ اس وقت 5 جون کو کے ایل آئی اے کے فری ٹریڈ زون سے 72 سرور یونٹس ضبط کیے گئے تھے، جن کی مالیت 5 کروڑ 29 لاکھ رنگٹ (ایک کروڑ 29 لاکھ ڈالر) تھی اور جنہیں “کمپیوٹر اجزا” ظاہر کیا گیا تھا۔ اس وقت کے کسٹمز ڈائریکٹر ذوالکفلی محمد نے بتایا تھا کہ یہ سرورز ایشیا کے کسی دوسرے ملک کو دوبارہ برآمد کیے جانے تھے۔
تازہ کیس میں کسٹمز حکام نے مزید بتایا کہ اس نیٹ ورک سے کم از کم پانچ کیسز جڑے ہوئے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 10 کروڑ رنگٹ سے زیادہ مالیت کے چپس ضبط کیے جا چکے ہیں۔ جاری تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
یہ کارروائی اس پس منظر میں ہو رہی ہے کہ ملائیشیا نے گزشتہ سال امریکی نژاد جدید اے آئی چپس کی نقل و حرکت پر برآمدی کنٹرول عائد کیے تھے۔ یہ اقدام امریکہ کے دباؤ کے بعد کیا گیا تھا، جو ان چپس کے چین تک پہنچنے کا راستہ روکنا چاہتا ہے۔ امریکہ ان چپس کو اے آئی کی ترقی کے لیے نہایت اہم سمجھتا ہے، اور اسی لیے ان کی ترسیل پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
اس سے پہلے بھی ملائیشیا اس تنازع کی زد میں آ چکا ہے۔ گزشتہ سال حکام نے ان اطلاعات کی تحقیقات کی تھیں کہ ملک میں ایک چینی کمپنی این ویڈیا چپس سے لیس سرورز کو اے آئی کی ترقی کے لیے استعمال کر رہی ہے، مگر جدید سیمی کنڈکٹرز کی غیر قانونی تجارت کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔ گزشتہ سال اگست میں امریکہ نے دو چینی شہریوں پر بھی فرد جرم عائد کی تھی، جن پر ملائیشیا اور سنگاپور میں قائم فریٹ کمپنیوں کے ذریعے کروڑوں ڈالر کے اے آئی چپس چین بھیجنے کا الزام تھا۔
یہ معاملہ صرف ایک ضبطی کی خبر نہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی عالمی جنگ اب محض تجارتی پابندیوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ہوائی اڈوں کے فری ٹریڈ زونز اور جعلی کاغذات کے ذریعے چپس کی نقل و حرکت ایک منظم نیٹ ورک کا روپ دھار چکی ہے۔ ملائیشیا جیسے ممالک، جو عالمی سپلائی چین میں ٹرانزٹ پوائنٹ بنتے ہیں، اب اس دباؤ کے مرکز میں ہیں کہ وہ نہ صرف اپنی سرحدیں محفوظ رکھیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن بھی برقرار رکھیں۔
حکام کے لیے اگلا مرحلہ اس نیٹ ورک کی مکمل شناخت ہے: یہ کھیپ کہاں سے آئی، اس کی آخری منزل کون سی تھی، اور اس میں ملوث کمپنیوں کا کردار کیا تھا۔ جب تک یہ سوالات جواب نہیں پاتے، کے ایل آئی اے کے فری ٹریڈ زون میں ہر مشکوک کھیپ ایک نئی خبر بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)