سعودی عرب میں ہفتے کے روز فضائی خطرے کے سائرن ایک بار پھر بج اٹھے — اس بار الرٹ کا دائرہ مقدس شہر مکہ مکرمہ اور ساحلی شہر جدہ تک پھیل گیا۔ سعودی سول ڈیفنس نے مکہ صوبے، جدہ، طائف اور ینبع کے لیے “ممکنہ خطرے” کے الرٹ جاری کیے، اور کچھ ہی دیر بعد خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا۔ اسی دوران سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے طائف اور ینبع کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل فضا ہی میں روک کر تباہ کر دیے۔
دن کا آغاز بھی الرٹس سے ہوا تھا۔ صبح چار بجے کے کچھ بعد سول ڈیفنس نے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے ریاض، نجران اور وادی الدواسر کے لیے فضائی خطرے کی وارننگ جاری کی۔ چند منٹ بعد دارالحکومت ریاض میں دو زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اتحاد کے ترجمان کے مطابق ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل اور مشرقی صوبے میں ایک ڈرون تباہ کر دیا گیا۔
دوپہر کے قریب دوسری لہر آئی، جب مکہ صوبے، جدہ، طائف اور ینبع کے رہائشیوں کے موبائل فونز پر الرٹ پہنچے۔ سول ڈیفنس نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ عمارتوں کے اندر رہیں، کھڑکیوں اور شیشوں سے دور رہیں، بالکونیوں، چھتوں اور کھلی جگہوں سے بچیں، اور نہ کہیں جمع ہوں نہ تصاویر بنائیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں مکہ، مدینہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں 911 اور دیگر علاقوں میں 998 ڈائل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ تقریباً دس منٹ بعد سول ڈیفنس نے اعلان کیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے اپنے بیان میں کہا: “اتحادی افواج نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے طائف اور ینبع کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیے۔” سول ڈیفنس کے الرٹس سعودی سول ڈیفنس کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے تھے۔ آج کے واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
یہ حملے اس لہر کا حصہ ہیں جو جولائی میں چار سالہ جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد شروع ہوئی۔ حالیہ ہفتوں میں حوثیوں نے سعودی ہوائی اڈوں اور تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں ریاض ایئرپورٹ پر حملہ بھی شامل ہے جسے برسوں کا مہلک ترین حملہ قرار دیا گیا۔ اسی تناؤ کے باعث امریکہ نے بدھ کو سعودی عرب میں اپنے غیر ہنگامی سرکاری عملے اور اہل خانہ کو واپس بلانے کا حکم دیا تھا، اور جمعے کو پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق مکمل ہونے کا اعلان کیا تھا۔
یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ الرٹ کا دائرہ اب مکہ صوبے تک پہنچ گیا ہے — وہ شہر جہاں ہر وقت لاکھوں عمرہ زائرین موجود ہوتے ہیں، اور سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لیے یہ براہ راست تشویش کا باعث ہے۔ میزائل تباہ ہو جانا فضائی دفاع کی کامیابی ہے، مگر الرٹ کا مقدس شہر تک پھیلنا یہ بھی بتا رہا ہے کہ یہ جنگ اب محض سرحدی محاذ تک محدود نہیں رہی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے سائے میں — جہاں ایک امریکی ایلچی نے اس ہفتے کے آخر میں حملے کا امکان ظاہر کیا ہے اور صدر ٹرمپ مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھے ہوئے ہیں — خطے میں ہر نیا الرٹ تیل کی قیمتوں اور خلیجی فضائی سفر پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)