Saturday, 24 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان اور سعودی عرب کی توثیق مکمل، ترکیہ کا پارلیمانی عمل جاری

مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے حاجی — فائل فوٹو

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعے (23 اکتوبر) کو اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے تمام قانونی عمل مکمل کر لیے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ترکیہ ابھی معاہدے کو اپنے داخلی قانونی طریقہ کار سے گزار رہا ہے — یعنی تین میں سے دو فریقوں کی مہر لگ چکی، تیسرے کی باقی ہے۔

بریفنگ میں جب پوچھا گیا کہ کیا معاہدے میں کوئی پوشیدہ شقیں ہیں — خاص طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے الگ دفاعی معاہدے کے تناظر میں — تو ترجمان نے دوٹوک کہا کہ معاہدہ 16 آرٹیکلوں پر مشتمل ہے اور اس میں کوئی خفیہ شق نہیں۔ پاکستان نے معاہدے کے اسی متن کی توثیق کی ہے جو ترک پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا اور میڈیا میں سامنے آیا۔

اس میں کوئی خفیہ شقیں نہیں؛ معاہدہ اپنے شقوں اور آرٹیکلوں میں واضح اور صریح ہے۔

سجاد حیدر خان، ترجمان دفتر خارجہ

معاہدے پر 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں دستخط ہوئے تھے، جب ترک صدر رجب طیب اردوان، وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان ایک میز پر جمع ہوئے۔ یہ معاہدہ تینوں ملکوں کے درمیان بیرونی مسلح جارحیت کی صورت میں اجتماعی مدد کا فریم ورک فراہم کرتا ہے: آرٹیکل 2 کے تحت کسی ایک فریق پر بیرونی مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ مدد کی نوعیت اور حد حالات کے معروضی جائزے کے بعد تینوں ممالک اجتماعی طور پر طے کریں گے۔

ترجمان نے زور دیا کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے، اور “کسی خاص ملک کے خلاف ہدف نہیں رکھتا” — یہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔ توثیق اور عملی اطلاق کے معاملات سہ فریقی اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی میں زیر بحث ہیں، جس کا آخری اجلاس 5 اکتوبر کو ریاض میں ہوا تھا — اسی اجلاس میں اجتماعی دفاعی وعدوں کے فوری نفاذ اور سعودی عرب میں پہلے سے طے شدہ فوجی صلاحیتوں کی تیزی سے تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ترکیہ کی طرف سے پیش رفت بھی ہو رہی ہے: انقرہ نے 21 اکتوبر (بدھ) کو معاہدے کی منظوری کا بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے۔ بل پہلے پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے آئے گا، جو اس کی مرکزی کمیٹی مقرر ہوئی ہے، اور پھر جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔ یعنی تینوں ملکوں کی توثیق مکمل ہوتے ہی معاہدہ باقاعدہ نافذ العمل ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ 8 اکتوبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے تصدیق کی تھی کہ پاکستانی فوج دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہے اور “مکہ معاہدہ خلا سے نہیں نکلا” — توثیق کا مکمل ہونا اسی پس منظر میں اس سہ فریقی اتحاد کی باقاعدہ قانونی بنیاد ہے۔

تجزیے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ توثیق کا اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب سعودی عرب پر حوثی حملے تیز ہوئے ہیں — 6 سے 10 اکتوبر کے درمیان ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ اور مشرقی صوبے پر حملے — اور خطے میں امریکا ایران کشیدگی جاری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ معاہدہ اب دستخط کی تقریب سے آگے بڑھ کر عملی اطلاق کی دہلیز پر کھڑا ہے؛ 5 اکتوبر کی کمیٹی پہلے ہی فوجی تعیناتی کا مطالبہ کر چکی ہے۔ پاکستان کے لیے سوال اب یہ نہیں کہ وہ اس اتحاد کا حصہ ہے یا نہیں — سوال یہ ہے کہ عملی اطلاق میں اس کی شمولیت کی شکل کیا ہو گی، اور کیا آرٹیکل 2 حوثی حملوں جیسی صورتحال پر لاگو ہو گا۔ اس سوال کا جواب دفتر خارجہ نے فی الحال کھلا چھوڑا ہے۔ اگلا سنگ میل واضح ہے: ترک پارلیمنٹ کا ووٹ — اس کے بعد تینوں توثیقیں مکمل، اور معاہدہ پوری طرح نافذ۔

اہم نکات

  • پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق مکمل کر لی؛ ترکیہ کا پارلیمانی عمل جاری ہے۔
  • معاہدے میں 16 آرٹیکل ہیں، کوئی خفیہ شق نہیں؛ پاکستان نے ترک پارلیمنٹ میں پیش کردہ متن کی توثیق کی۔
  • آرٹیکل 2: ایک فریق پر بیرونی مسلح حملہ تینوں پر حملہ — مگر مدد کی نوعیت اور حد تینوں ممالک اجتماعی طے کریں گے۔
  • معاہدہ دفاعی نوعیت کا، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق، اور “کسی خاص ملک کے خلاف نہیں”۔
  • 5 اکتوبر کو ریاض میں سہ فریقی کمیٹی پہلے ہی عملی اطلاق اور فوجی صلاحیتوں کی تیزی سے تعیناتی کا مطالبہ کر چکی ہے۔
  • اگلا مرحلہ: ترک پارلیمنٹ کی منظوری — پھر معاہدہ مکمل طور پر نافذ۔
Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *