جمعے کی شام جوہر بہرو میں پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم نے وہ کر دکھایا جو اسے فائنل میں پہنچانے کے لیے درکار تھا — دو بار پیچھے رہنے کے باوجود جاپان سے 2-2 کا ڈرا، اور کیے گئے گولز کی تعداد کے فرق سے سلطان جوہر کپ کے فائنل کا ٹکٹ۔ آج شام یہی گرین شرٹس اسی تمن دایا ہاکی اسٹیڈیم میں میزبان ملائیشیا سے ٹائٹل کی جنگ لڑیں گے۔
پہلے ٹورنامنٹ کا خاکہ سمجھ لیں
سلطان جوہر کپ کا چودہواں ایڈیشن انڈر-21 ٹیموں کا ٹورنامنٹ ہے، جو 17 سے 24 اکتوبر تک ملائیشیا کے شہر جوہر بہرو میں کھیلا جا رہا ہے۔ پانچ ٹیمیں — پاکستان، ملائیشیا، جاپان، چین اور کینیڈا — راؤنڈ رابن مرحلے میں ایک دوسرے سے ٹکرائیں، اور پوائنٹس ٹیبل کی دو بہترین ٹیموں نے فائنل میں جگہ بنائی۔
پاکستان کا سفر: دھماکے دار آغاز، ایک شکست، پھر فیصلہ کن ڈرا
پاکستان نے مہم کا آغاز چین پر 8-3 کی دھماکے دار جیت سے کیا — حیدر آسم نے اس میچ میں دو گول داغے تھے۔ اس کے بعد کینیڈا کو 6-2 سے ہرایا گیا۔ مگر تیسرے میچ میں میزبان ملائیشیا نے گرین شرٹس کو 3-2 سے شکست دے کر اپنا ناقابل شکست سلسلہ برقرار رکھا۔ اس شکست کے بعد پاکستان کی فائنل کی امیدیں جمعے کے آخری لیگ میچ پر ٹکی تھیں — اور سامنے جاپان تھا، جو خود بھی اسی ایک ٹکٹ کا دعویدار تھا۔
جمعے کی شام: دو بار پیچھے، دو بار واپسی
تمن دایا اسٹیڈیم میں کھیلا گیا میچ شروع سے ہی اعصاب شکن رہا۔ اہم لمحات ایک نظر میں:
- 18واں منٹ: جاپان کے یامادا سیا نے فیلڈ گول کر کے اپنی ٹیم کو 1-0 کی برتری دلائی۔
- 34واں منٹ: حمزہ فیاض نے پینلٹی کارنر پر گول کر کے اسکور 1-1 کر دیا۔
- 42واں منٹ: کازوکی ناکائی کے فیلڈ گول سے جاپان ایک بار پھر آگے — 2-1۔
- 43واں منٹ: غلام مصطفیٰ نے پینلٹی کارنر پر جوابی گول داغا — 2-2، اور یہی گول پاکستان کو فائنل لے گیا۔
میچ کے اختتام پر حمزہ فیاض کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا — ملائیشین اخبار دی سن کے مطابق انھیں یہ ایوارڈ جوہر ہاکی ایسوسی ایشن کے عہدیدار نے دیا۔
اہلیت کی ریاضی: 18 بمقابلہ 16
ڈرا کے بعد پاکستان اور جاپان دونوں کے چار میچوں میں سات سات پوائنٹس تھے، اور گول کا فرق بھی دونوں کا برابر (+8) تھا۔ فیصلہ کیے گئے گولز کی تعداد پر ہوا: پاکستان نے ٹورنامنٹ میں 18 گول کیے تھے، جاپان نے 16 — اور یہی دو گول کا فرق گرین شرٹس کو دوسری پوزیشن اور فائنل کا ٹکٹ دے گیا۔ جاپان اب کانسی کے تمغے کے لیے کھیلے گا۔
آج کا فائنل: ملائیشیا سے پرانا حساب
فائنل آج (ہفتہ، 24 اکتوبر) تمن دایا ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا — مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 5 منٹ، یعنی پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 5 منٹ۔ سامنے وہی ملائیشیا ہے جو اب تک ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست ہے اور جس نے لیگ مرحلے میں پاکستان کو 3-2 سے ہرایا تھا۔ ملائیشیا کے لیے یہ محض ٹائٹل کا میچ نہیں — پچھلے ماہ جونیئر ایشیا کپ میں اسے پاکستان سے دو بار شکست ہوئی تھی، آج بدلہ چکانے کا موقع ہے۔ دی سن کے مطابق یہ ایشین گیمز کے چاندی اور کانسی کے تمغے جیتنے والی ٹیموں کا ٹکراؤ ہوگا۔
پاکستان کے لیے ایک اچھی خبر بھی ہے: ولید رانا فائنل کے لیے دستیاب ہوں گے — ملائیشیا کے خلاف میچ میں جھگڑے پر انھیں ایک میچ کی معطلی ہوئی تھی جو پوری ہو چکی ہے۔ اسی روز کانسی کے تمغے کے لیے جاپان اور کینیڈا بھی آمنے سامنے ہوں گے۔
میں کھلاڑیوں کی سخت محنت اور عزم کو سراہتا ہوں — انھوں نے دو بار پیچھے رہ کر واپسی کی۔ ہمارا مشن فائنل تک پہنچنا تھا۔ یہ پاکستان اور ملائیشیا دونوں کے لیے بڑا میچ ہے؛ ملائیشین ٹیم ہمیشہ سے مضبوط رہی ہے۔
سید ثمین، پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ (ملائیشین اخبار دی سن سے گفتگو)
یہ فائنل پاکستانی ہاکی کے لیے کیوں اہم ہے؟
پاکستان ہاکی کی عظمت کو ماضی بنے دہائیاں گزر گئیں — مگر جونیئر سطح پر یہ ٹیم ایک مختلف کہانی لکھ رہی ہے۔ جوہر کپ میں پاکستان کی بہترین کارکردگی 2016 کی ہے، جب ٹیم فائنل میں آسٹریلیا سے ہار کر چاندی کے تمغے پر رہی تھی؛ پچھلے سال ٹیم چوتھی پوزیشن پر آئی۔ اس پس منظر میں اس بار کا فائنل صرف ایک ٹرافی کا معاملہ نہیں — یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کی یہ کھیپ دباؤ کے میچ کھیلنا سیکھ رہی ہے۔ جاپان کے خلاف دو بار پیچھے رہ کر واپسی اسی ذہنی مضبوطی کی علامت ہے جو بڑے ٹورنامنٹس میں کام آتی ہے۔
فائنل میں نظر رکھنے والی باتیں بھی واضح ہیں۔ پینلٹی کارنر پاکستان کا اصل ہتھیار رہے ہیں — جاپان کے خلاف دونوں گول اسی سے آئے۔ مگر ملائیشیا کے خلاف پچھلے میچ میں نظم و ضبط مسئلہ بنا تھا؛ غیر ضروری کارڈز نے ٹیم کو مہنگا پڑا۔ گھر کے تماشائیوں کے سامنے میزبان ٹیم پر بھی دباؤ ہوگا، اور پاکستان کے پاس اس دباؤ کو اپنے حق میں کرنے کا نسخہ موجود ہے: منظم دفاع، تیز جوابی حملے اور سیٹ پیس۔ شام پانچ بجے سیٹی بجے گی — اور اس کے بعد پتہ چلے گا کہ آیا یہ نوجوان ٹیم پاکستان ہاکی کی واپسی کی پہلی اینٹ رکھ پاتی ہے یا نہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)