اہم نکات
- مجموعی طور پر الٹرا پروسیسڈ کھانوں اور آنتوں کے کینسر کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں ملا۔
- مگر الٹرا پروسیسڈ گوشت زیادہ کھانے والوں میں خطرہ 10 فیصد زیادہ پایا گیا۔
- الٹرا پروسیسڈ ڈبل روٹی، ناشتے کے سیریلز، دودھ اور منجمد میٹھے سے کم خطرہ جڑا۔
- 10 فیصد الٹرا پروسیسڈ کھانوں کو تازہ کھانوں سے بدلنے پر خطرہ 2 فیصد کم ہوا۔
کیا پیک شدہ اور تیار شدہ کھانے آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں؟ ایک بڑی نئی تحقیق کا جواب حیران کن ہے: مجموعی طور پر نہیں — مگر تفصیل میں فرق ہے۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے PLOS Medicine میں شائع ہوئی ہے۔ امریکی ادارے NIH-AARP کے ڈائٹ اینڈ ہیلتھ اسٹڈی کے تحت 461,682 بالغ افراد — جن کی عمریں 50 سے 71 سال کے درمیان تھیں — کو 1995-96 میں شامل کیا گیا، اور اوسطاً 18.8 سال تک ان کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ اس عرصے میں 10,075 افراد میں آنتوں کا کینسر پایا گیا۔ شرکاء کی روزمرہ توانائی کا اوسطاً 43 فیصد الٹرا پروسیسڈ کھانوں سے آتا تھا۔
حیران کن نتیجہ یہ نکلا کہ سب سے زیادہ اور سب سے کم الٹرا پروسیسڈ کھانے کھانے والوں میں کینسر کے خطرے میں کوئی نمایاں فرق نہیں تھا — یہاں تک کہ خوراک کے معیار اور جسمانی وزن کو حساب میں لینے کے بعد بھی۔
فرق اقسام میں ہے
جب محققین نے کھانوں کی اقسام کو الگ الگ دیکھا تو تصویر بدل گئی۔ الٹرا پروسیسڈ ڈبل روٹی زیادہ کھانے والوں میں خطرہ 9 فیصد کم، ناشتے کے سیریلز کھانے والوں میں 16 فیصد کم، اور منجمد میٹھے اور دودھ والے مشروبات پینے والوں میں 18 فیصد کم پایا گیا۔ دوسری طرف دوبارہ تیار کردہ گوشت اور مچھلی کی مصنوعات زیادہ کھانے والوں میں خطرہ 10 فیصد زیادہ تھا۔
محققین کے مطابق اس تحقیق سے یہ سبق ملتا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ کھانوں کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکنا چاہیے — ہول گرین، فائبر، ڈیری اور کیلشیم والی خوراک فائدہ مند ہے، جبکہ پروسیسڈ گوشت سے پرہیز بہتر ہے۔
ایک اور دلچسپ حساب یہ تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے 10 فیصد الٹرا پروسیسڈ کھانوں کو تازہ پھلوں، سبزیوں، دودھ، انڈوں اور غیر پروسیسڈ گوشت سے بدل دے تو خطرہ 2 فیصد کم ہو جاتا ہے۔
احتیاط بھی ضروری
یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے — اس سے وجہ اور اثر کا حتمی ثبوت نہیں ملتا۔ خوراک کا ریکارڈ صرف ایک بار شروع میں لیا گیا تھا، اور شرکاء زیادہ تر عمر رسیدہ سفید فام امریکی تھے، اس لیے نتائج ہر آبادی پر لاگو نہیں ہو سکتے۔
پاکستانی قارئین کے لیے سبق
ہمارے شہروں میں بھی ڈبے بند کھانے، چٹخارے والے سنیکس اور تیار گوشت کی مصنوعات تیزی سے عام ہو رہی ہیں۔ اس تحقیق کا عملی سبق سادہ ہے: ڈبے بند اور پروسیسڈ گوشت کم کریں، دالیں، سبزیاں، پھل اور دودھ زیادہ رکھیں — اور “پروسیسڈ” کے لیبل سے ہر چیز کو ایک جیسا خطرناک نہ سمجھیں۔ ڈبل روٹی اور دہی آپ کے دشمن نہیں؛ روز کا تیار گوشت ہو سکتا ہے۔
خوراک اور صحت کے موضوع پر ہماری یہ تحریر بھی دیکھیں: کافی کے متبادل مشروبات اور توانائی۔
صحت کے فیصلے خوف پر نہیں، شواہد پر ہونے چاہئیں — اور یہ تحقیق اسی سمت ایک قدم ہے، آخری لفظ نہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)